Nigah

پولیس پر حملہ، عوام کے امن پر حملہ

[post-views]

پشاور کے نواحی علاقے سرہ خواڑہ میں فرنٹیئر روڈ پر پولیس چوکی کے قریب ہونے والا بم دھماکا محض ایک سکیورٹی تنصیب پر حملہ نہیں تھا۔ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بظاہر پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں، اس کے اثرات بالآخر عام شہریوں، مقامی کاروبار، آمدورفت اور پورے معاشرتی نظام کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق دھماکے سے پولیس چوکی کی بیرونی دیوار اور قریب موجود گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ مختلف رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے معمولی فرق موجود ہے، تاہم اے ایس آئی عمر خان سمیت پولیس اہلکاروں اور ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اگرچہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔ یہی احتیاط کسی بھی دہشت گردی کے واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے ضروری ہے۔ تاہم حملے کا ہدف، طریقہ کار اور مقام ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر آخر کس کی زندگی بہتر بنائی جا رہی ہے؟ ایک پولیس چوکی کو نقصان پہنچانے سے نہ کسی علاقے میں روزگار پیدا ہوتا ہے، نہ تعلیم بہتر ہوتی ہے، نہ سڑکیں محفوظ ہوتی ہیں اور نہ ہی شہریوں کو کوئی نئی سہولت میسر آتی ہے۔ نتیجہ صرف خوف، زخمی جسم، تباہ شدہ املاک اور بڑھتی ہوئی بے یقینی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

پولیس پاکستان کے داخلی سکیورٹی ڈھانچے کی پہلی صف ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں یہی اہلکار رات دن ناکوں، تھانوں، چوکیوں اور اہم شاہراہوں پر موجود رہتے ہیں۔ انہیں اکثر محدود وسائل کے ساتھ ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں خودکش حملے، بارودی مواد، گھات لگا کر فائرنگ اور اچانک حملے شامل ہیں۔ اس پس منظر میں اے ایس آئی عمر خان اور دوسرے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا دراصل ان لوگوں کو نشانہ بنانا ہے جو روزانہ مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔

دہشت گرد تنظیمیں اکثر اپنے تشدد کو ریاست یا سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی قرار دے کر عام شہریوں سے الگ دکھانے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے۔ سرہ خواڑہ کا واقعہ اس فرق کو واضح کرتا ہے۔ جب بارودی مواد کسی عوامی راستے، پولیس چوکی یا آبادی کے قریب نصب کیا جاتا ہے تو حملہ آور یہ طے نہیں کر سکتے کہ اس دھماکے کی زد میں صرف ایک مخصوص شخص ہی آئے گا۔ وہاں سے گزرنے والا رکشہ ڈرائیور، طالب علم، مزدور، دکاندار یا کسی مریض کو لے جانے والی گاڑی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایک شہری کا زخمی ہونا اسی خطرے کی عملی مثال ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پولیس پر حملے کو صرف پولیس کا مسئلہ سمجھنا غلط ہوگا۔ اگر کسی علاقے کی پولیس کمزور ہو، چوکیوں پر مسلسل حملے ہوں اور اہلکار ہر وقت اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوں تو سب سے پہلے عام شہریوں کی روزمرہ سکیورٹی متاثر ہوتی ہے۔ جرائم کی روک تھام، گشت، ٹریفک کی نگرانی، بازاروں کی حفاظت اور ہنگامی حالات میں فوری رسپانس، یہ سب پولیس کے بنیادی فرائض ہیں۔ پولیس کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنانا دراصل ان تمام عوامی خدمات کو دباؤ میں لانے کے مترادف ہے۔

فرنٹیئر روڈ اور اس سے منسلک راستوں کی اہمیت بھی اس واقعے کو محض ایک مقامی حملے تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ ایسی شاہراہیں روزانہ ہزاروں لوگوں کی نقل و حرکت، سامان کی ترسیل اور مقامی تجارت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کسی سڑک یا چیک پوسٹ کے قریب دھماکا ہونے کے بعد صرف چند گھنٹے کا سکیورٹی آپریشن بھی آمدورفت، کاروباری سرگرمی اور عوامی معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر ایسے واقعات بار بار ہوں تو تاجروں کے اعتماد میں کمی آتی ہے، نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلے بھی متاثر ہوتے ہیں۔

دہشت گردی کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ جائے وقوعہ پر نظر نہیں آتی۔ ایک دیوار دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہے اور تباہ شدہ گاڑی بدل سکتی ہے، مگر مسلسل خوف کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے سکول جانے پر پریشان ہوتے ہیں، دکاندار جلد بازار بند کرنے لگتے ہیں، مسافر مخصوص راستوں سے گریز کرتے ہیں اور ریاست کو ترقیاتی منصوبوں کے بجائے اضافی وسائل سکیورٹی انتظامات پر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ یوں دہشت گردی براہ راست ترقی کی رفتار کو سست کرتی ہے۔

سرہ خواڑہ اور متنی کے اطراف پولیس تنصیبات پہلے بھی حملوں کی زد میں آتی رہی ہیں، جس سے یہ ضرورت مزید واضح ہوتی ہے کہ پولیس چوکیوں کا حفاظتی ڈھانچہ، نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس رابطہ مزید مضبوط کیا جائے۔ تاہم صرف چوکیوں کی دیواریں اونچی کرنا کافی نہیں ہوگا۔ دہشت گرد نیٹ ورکس کو موثر طور پر توڑنے کے لیے ان کے سہولت کاروں، مالی وسائل، رابطوں، نقل و حرکت اور مقامی لاجسٹک نظام تک پہنچنا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں پولیس، انسداد دہشت گردی محکمے، انٹیلی جنس اداروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان معلومات کا فوری تبادلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید نگرانی، فرانزک صلاحیت، سڑکوں پر مشکوک گاڑیوں کی شناخت اور حساس مقامات کے گرد مؤثر حفاظتی نظام دہشت گردوں کے لیے کارروائی کی گنجائش کم کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی مقامی آبادی کا اعتماد بھی ضروری ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف سب سے موثر معلومات اکثر انہی علاقوں سے حاصل ہوتی ہیں جہاں شدت پسند نقل و حرکت کی کوشش کرتے ہیں۔

پشاور کا تازہ واقعہ ایک واضح حقیقت سامنے رکھتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے گروہ صرف وردی پہنے افراد پر حملہ نہیں کرتے، بلکہ اس نظام پر ضرب لگاتے ہیں جو عوامی تحفظ کا ذمہ دار ہے۔ جب ایک پولیس چوکی غیر محفوظ ہوتی ہے تو اس کے اردگرد رہنے والا شہری بھی خود کو کم محفوظ محسوس کرتا ہے۔ جب ایک اہلکار زخمی ہوتا ہے تو اس کا اثر اس کے خاندان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے علاقے میں خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

کسی بھی گروہ کے دعووں کو اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کے اقدامات کے نتائج سے پرکھا جانا چاہیے۔ جو تشدد شہریوں کو زخمی کرے، پولیس کے فرائض میں رکاوٹ ڈالے، سڑکوں کو غیر محفوظ بنائے اور ترقیاتی ماحول کو نقصان پہنچائے، اس کے اثرات کسی بھی صورت عوام کے مفاد میں نہیں ہو سکتے۔ سرہ خواڑہ کا دھماکا اسی حقیقت کی ایک اور مثال ہے کہ پولیس اور عام شہریوں کی سکیورٹی دو الگ موضوعات نہیں۔ دونوں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں، اور پولیس پر حملہ بالآخر معاشرے کے امن، استحکام اور روزمرہ زندگی پر حملہ بن جاتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر حمزہ خان

    ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔