مدینہ منورہ محض ایک شہر نہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اس کا تعلق عقیدت، روحانی وابستگی اور رسول اکرم ﷺ کی ذات مبارکہ سے ہے۔ اسی لیے 29 ستمبر 2026 کو مدینہ میں طیبہ بجلی تقسیم اسٹیشن کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایک عام علاقائی سکیورٹی واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق ڈرون حملے نے بجلی کے ایک ٹرانسفارمر کو متاثر کیا، اگرچہ مجموعی بجلی کا نظام بحال رہا۔ سعودی حکام نے تحقیقات اور ڈرون کے ملبے کی بنیاد پر حملے کی منصوبہ بندی اور کارروائی کو حوثی ملیشیا سے منسوب کیا ہے۔ اہم ترین پہلو یہ ہے کہ یہ تنصیب مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے نظام کا حصہ ہے۔
یہی حقیقت اس واقعے کو یمن کی جنگ کے معمول کے عسکری تناظر سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کا دائرہ سعودی شہروں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر شہری اہداف تک پھیلتا رہا ہے۔ لیکن مدینہ منورہ میں ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا جانا جو مسجد نبوی ﷺ کی خدمت سے منسلک ہے، ایک مختلف نوعیت کی حساسیت پیدا کرتا ہے۔ علاقائی تنازعات کے اپنے سیاسی اور عسکری محرکات ہوسکتے ہیں، مگر مقدس مقامات کے آس پاس موجود شہری نظام کو جنگی دباؤ کا حصہ بنانا پورے مسلم معاشرے کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ایک ڈرون نے کتنی مادی تباہی کی۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ایسے حملے سے کون سی حد عبور ہوتی ہے۔ بجلی کا ایک اسٹیشن بظاہر بنیادی شہری ڈھانچے کا حصہ ہے، لیکن جب وہ دنیا کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کو خدمات فراہم کرتا ہو تو اس کی اہمیت محض تکنیکی نہیں رہتی۔ عبادت گزاروں، زائرین اور مسجد نبوی ﷺ سے جڑی شہری سہولیات کی سلامتی کسی بھی علاقائی محاذ آرائی سے الگ رہنی چاہیے۔ جنگوں میں خطوط دھندلے ہوسکتے ہیں، مگر حرمین شریفین سے متعلق تحفظ کی لکیر واضح رہنا ضروری ہے۔
پاکستان نے اسی پہلو کو اپنی سرکاری مذمت میں نمایاں کیا ہے۔ دو اکتوبر کو وزارت خارجہ نے حملے کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف قابل مذمت کارروائی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے شدید تشویش کا معاملہ قرار دیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کا تقدس اور زائرین و عبادت گزاروں کی سلامتی ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ اسلام آباد نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت بھی دہرائی۔
یہ موقف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے روایتی تناظر سے بھی آگے جاتا ہے۔ سعودی عرب کی قومی سلامتی پاکستان کے لیے ایک اہم علاقائی اور تزویراتی مسئلہ ہے، لیکن حرمین شریفین کی حفاظت مذہبی اعتبار سے کہیں وسیع تر اہمیت رکھتی ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کسی ایک ملک یا قوم کی جذباتی وابستگی تک محدود نہیں۔ ان سے دنیا کے مختلف خطوں میں آباد مسلمانوں کا تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں پیدا ہونے والا کوئی بھی سکیورٹی خطرہ معمول کی ریاستی کشیدگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
حوثیوں کے لیے بھی یہ لمحہ سنجیدہ غور کا تقاضا کرتا ہے۔ یمن کے تنازعے سے وابستہ شکایات، سیاسی اختلافات اور علاقائی طاقتوں سے کشیدگی اپنی جگہ، مگر ان معاملات کو مقدس شہروں سے منسلک تنصیبات تک لے جانا کسی سیاسی مقصد کے حصول کو آسان نہیں بناتا۔ اس کے برعکس ایسی کارروائیاں کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں، سفارتی امکانات محدود کرتی ہیں اور یمن کے بحران کے سیاسی حل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ کسی بھی فریق کے لیے یہ تصور خطرناک ہوگا کہ ڈرون یا میزائل کے ذریعے مقدس مقامات کے گرد موجود شہری نظام پر دباؤ ڈال کر تزویراتی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اس حوالے سے خاصا واضح ہے۔ اسلام آباد نے ایک طرف خطے میں دیرپا امن اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھی ہے، دوسری طرف سعودی عرب کے خلاف شہری اور اقتصادی اہداف پر حوثی حملوں کی مسلسل مذمت بھی کی ہے۔ آٹھ ستمبر کو سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں حملوں کے بعد بھی پاکستان نے سعودی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کی تھی، جبکہ ستمبر ہی میں مکہ مکرمہ کے خلاف ڈرون حملے کی کوشش پر پاکستانی قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی حمایت اور مقدس مقامات کی سلامتی پر مضبوط موقف ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔
مدینہ کے واقعے سے ایک وسیع تر سبق بھی اخذ ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتی ڈرون جنگ اب صرف عسکری اڈوں یا محاذوں تک محدود نہیں رہی۔ کم لاگت والے بغیر پائلٹ نظام دور دراز شہری تنصیبات کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سعودی عرب سمیت خطے کے ممالک کو فضائی دفاع، ڈرون شناخت، اہم شہری تنصیبات کے تحفظ اور ہنگامی نظام کو مزید مربوط بنانا ہوگا۔ خصوصاً مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے گرد حفاظتی انتظامات کو روایتی دفاعی سوچ سے کہیں آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔
آخرکار مدینہ پر ہونے والے اس حملے کو صرف ایک اور ڈرون واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کی اصل اہمیت اس جگہ، اس تنصیب اور اس مذہبی حساسیت میں پوشیدہ ہے جس سے یہ واقعہ جڑا ہوا ہے۔ علاقائی تنازعات ختم ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، مذاکرات ناکام بھی ہوسکتے ہیں اور سیاسی اختلافات برقرار بھی رہ سکتے ہیں، مگر ایک اصول غیر مبہم ہونا چاہیے۔ حرمین شریفین اور ان کی خدمت کرنے والا شہری ڈھانچہ علاقائی جنگوں کا میدان نہیں بن سکتا۔ مسجد نبوی ﷺ اور مسجد الحرام کی سلامتی کسی سیاسی سودے بازی کا موضوع نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے احترام، ذمہ داری اور اجتماعی حساسیت کا معاملہ ہے۔ یہی وہ سرخ لکیر ہے جس کی نوعیت واقعی باقی تمام سرخ لکیروں سے مختلف ہے۔
Author
-
View all posts
Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.