Nigah

عہد کی پاسداری کا نبوی فریضہ

[post-views]

اسلامی اخلاقیات میں عہد محض زبان سے ادا کیا گیا ایک جملہ نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ وعدہ ہو، معاہدہ ہو، امان ہو یا کسی تنازعے کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمت، اسلام اسے سنجیدہ اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید کا حکم نہایت واضح ہے کہ جب عہد کیا جائے تو اسے پورا کیا جائے اور پختہ وعدوں کو توڑا نہ جائے۔ سورۃ النحل میں فرمایا گیا کہ اللہ کے عہد کو پورا کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو۔ اس تعلیم میں دیانت، جواب دہی اور اعتماد تینوں شامل ہیں۔

یہ اصول پاکستان جیسے معاشرے میں مزید اہم ہو جاتا ہے جہاں مذہب کے نام پر تشدد کرنے والے عناصر اپنے اقدامات کو کبھی مزاحمت، کبھی حکمت عملی اور کبھی دینی فریضہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کوئی گروہ ہتھیار اٹھاتا ہے۔ اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب دھوکے، وعدہ خلافی اور امان کے بعد حملے کو مذہبی زبان میں قابل قبول بنانے کی کوشش کی جائے۔ ایسا بیانیہ نوجوان ذہنوں میں اخلاقی حدود کو دھندلا کرتا اور تشدد کو ایسی تقدیس دیتا ہے جو اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

قرآن جنگ اور دشمنی جیسے انتہائی حالات میں بھی خیانت کو معمول بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ سورۃ الانفال کی آیت 58 میں ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی فریق کی جانب سے خیانت کا اندیشہ ہو تو معاہدے کو واضح طور پر اس کے سامنے ختم کیا جائے تاکہ دونوں فریق یکساں طور پر صورت حال سے آگاہ ہوں۔ اسی آیت کے آخر میں صاف الفاظ میں کہا گیا کہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس اصول کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ اختلاف اور دشمنی ایک چیز ہے، جبکہ چھپ کر عہد توڑ دینا دوسری۔

یہاں نبوی تعلیم مزید واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث 3166 میں رسول اللہ ﷺ نے معاہدے کے تحت محفوظ شخص کے قتل پر انتہائی سخت وعید بیان فرمائی۔ حدیث میں ایسے شخص کو قتل کرنے والے کے بارے میں کہا گیا کہ وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔ یہ فرمان انسانی جان کے ساتھ ساتھ امان اور معاہدے کی حرمت بھی واضح کرتا ہے۔ جس شخص کو تحفظ حاصل ہو، اسے اچانک نشانہ بنانا بہادری یا مذہبی خدمت نہیں۔ نبوی تعلیم میں یہ سنگین جرم ہے۔

اسی طرح صحیح بخاری کی حدیث 34 میں عہد شکنی کو منافقت کی علامات میں شمار کیا گیا ہے۔ حدیث میں امانت میں خیانت، جھوٹ، عہد توڑنے اور جھگڑے میں حد سے گزرنے کا ذکر آتا ہے۔ یہ تعلیم ایک اہم اخلاقی سوال اٹھاتی ہے۔ اگر کوئی مسلح گروہ مذاکرات کرے، کسی مفاہمت سے فائدہ حاصل کرے، امن کا تاثر پیدا کرے اور پھر حالات سازگار ہوتے ہی دوبارہ تشدد شروع کر دے تو ایسے رویے کو نبوی حکمت عملی کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے؟

عہد کی پاسداری صرف مذہبی مسئلہ نہیں، معاشرتی اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔ ریاست اور شہری، قبائل اور مقامی انتظامیہ، مختلف برادریاں اور ادارے اسی وقت ایک منظم معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جب وعدے قابل اعتبار ہوں۔ اگر ہر فریق یہ سمجھنے لگے کہ مفاد بدلتے ہی معاہدہ بھی ختم ہو جاتا ہے تو پھر مکالمہ، ثالثی، امن مذاکرات اور قانونی سمجھوتوں کی معنویت باقی نہیں رہتی۔ نتیجہ بداعتمادی، خوف اور مسلسل تصادم کی صورت میں نکلتا ہے، جس سے سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کو پہنچتا ہے۔

قرآن اس ذمہ داری کو آخرت کی جواب دہی سے بھی جوڑتا ہے۔ سورۃ الاسراء میں حکم ہے کہ عہد پورا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ اس مختصر حکم میں بڑی معنویت پوشیدہ ہے۔ طاقت، وقتی سیاسی فائدہ یا بدلتے حالات انسان کو اخلاقی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی زبان استعمال کر کے وعدہ شکنی کو جائز بنانے کی کوشش بنیادی قرآنی اصول سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔

یہ فرق بھی سمجھنا ضروری ہے کہ معاہدے کی پاسداری کا مطلب ظلم، ناانصافی یا کسی ناقابل قبول صورت حال پر ہمیشہ خاموش رہنا نہیں۔ اسلام اختلاف کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ اعتراض کیا جا سکتا ہے، شکایت اٹھائی جا سکتی ہے اور کسی معاہدے کو باقاعدہ طریقے سے ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ سورۃ الانفال کا اصول یہی بتاتا ہے کہ تبدیلی کھلے انداز میں ہو، دھوکے سے نہیں۔ کسی فریق کو امان کا یقین دلانے کے بعد اس پر اچانک حملہ کرنا اخلاقی جرات نہیں بلکہ اعتماد کی تباہی ہے۔

اجتماعی معاملات میں نظم بھی ضروری ہے۔ سورۃ النساء کی آیت 59 میں اللہ، رسول ﷺ اور صاحبان اختیار کی اطاعت اور اختلاف کی صورت میں معاملے کو اصولی مرجع کی طرف لوٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس سے کم از کم یہ اصول ضرور سامنے آتا ہے کہ اجتماعی معاملات ذاتی خواہش اور خود ساختہ اختیار کے تابع نہیں ہونے چاہییں۔ کوئی فرد یا مسلح گروہ اپنی مرضی سے پورے معاشرے کے لیے جنگ اور امن کا فیصلہ کرے تو نتیجہ نظم نہیں بلکہ انتشار ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف دہشت گردی کا مقابلہ نہیں بلکہ اس فکری جواز کو بھی بے اثر کرنا ہے جس کے ذریعے خیانت کو حکمت، دھوکے کو تدبیر اور وعدہ شکنی کو دینی ضرورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نوجوانوں، علما، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کو یہ فرق واضح کرنا ہوگا۔ قرآن کا حکم عہد پورا کرنے کا ہے۔ نبوی تعلیم امان کے احترام کی ہے۔ اختلاف کے باوجود انصاف کا راستہ کھلا ہے، مگر خیانت کے لیے مذہبی تقدس کی کوئی گنجائش نہیں۔

ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان اسی وقت مضبوط ہوگا جب قانون کے ساتھ اخلاقی اعتماد بھی قائم ہو۔ امن صرف ہتھیار خاموش ہونے کا نام نہیں۔ امن اس یقین کا نام بھی ہے کہ دیا گیا لفظ معتبر ہوگا، امان محفوظ ہوگی اور اختلاف کے باوجود دھوکے کو راستہ نہیں بنایا جائے گا۔ عہد کی پاسداری کمزوری نہیں بلکہ کردار کی قوت ہے۔ یہی اسلامی اخلاق کا تقاضا اور ایک ذمہ دار معاشرے کی بنیاد ہے۔

Author

  • Zubair Gul

    Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔