پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث جب بھی اٹھتی ہے تو فوری طور پر اسے نقشے، شناخت اور سیاسی تقسیم کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔ حالانکہ اس بحث کا اصل مرکز یہ ہونا چاہیے کہ ریاستی نظام عام شہری تک کتنا قریب ہے، فیصلے کتنی جلدی ہوتے ہیں، وسائل کتنی منصفانہ انداز میں تقسیم ہوتے ہیں اور عوام اپنے منتخب نمائندوں سے کتنی مؤثر جواب دہی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اگر ان بنیادی سوالات کو سامنے رکھا جائے تو نئے صوبوں کی بحث محض جغرافیائی تقسیم نہیں رہتی بلکہ انتظامی اصلاحات کا سنجیدہ معاملہ بن جاتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ نظام میں اختیارات صوبائی دارالحکومتوں میں غیر معمولی حد تک مرتکز ہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ صرف صوبائی دارالحکومت نہیں بلکہ بجٹ، بیوروکریسی، ترقیاتی منصوبوں، ملازمتوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے بڑے مراکز بھی ہیں۔ ایسے میں جو سیاسی اور انتظامی حلقے موجودہ ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ فطری طور پر کسی ایسی تبدیلی سے ہچکچاتے ہیں جو ان کی گرفت کم کر دے۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نئے صوبوں سے متعلق مؤقف یکساں نہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی صوبے کی موجودہ حدود کو سیاسی طور پر حساس سمجھتی ہے، جبکہ سندھی قوم پرست حلقوں کو خدشہ ہے کہ کسی نئی انتظامی تقسیم سے وسائل، زمین اور شناخت متاثر ہو سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کی بحث کے ساتھ صوبائی شناخت اور سیاسی وزن کا سوال جڑا ہوا ہے۔ پنجاب میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے مطالبات موجود ہیں، لیکن صوبے کی بڑی تقسیم لاہور کی سیاسی مرکزیت اور قومی سیاست میں پنجاب کے مجموعی اثر کو بھی تبدیل کر سکتی ہے۔
یہ تمام خدشات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچہ اب بھی بنیادی طور پر چار بڑے صوبوں کے گرد گھومتا ہے۔ پنجاب کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا بھی بہت بڑے اور پیچیدہ انتظامی یونٹس بن چکے ہیں۔ بلوچستان میں مسئلہ آبادی سے زیادہ وسیع جغرافیے اور دور دراز علاقوں کا ہے۔ ایسی صورت میں یہ سوال جائز ہے کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ اکیسویں صدی کے پاکستان کی ضروریات پوری کر رہا ہے؟
نئے صوبوں کے مخالفین یہ دلیل دیتے ہیں کہ مزید صوبے بنانے سے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ یہ اعتراض درست ہے۔ نئے گورنر، اسمبلیاں، کابینہ، سیکریٹریٹ، عدالتی اور انتظامی ڈھانچے مالی بوجھ پیدا کریں گے۔ لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نیا صوبہ کتنے پیسے خرچ کرے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ موجودہ نظام کی نااہلی، تاخیر، غیر ضروری سفر، رشوت، مرکزیت اور کمزور سروس ڈیلیوری کی عوام کتنی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
اگر نیا صوبہ صرف ایک نئی عمارت، نئی کابینہ اور نئی بیوروکریسی تک محدود رہے تو ایسی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ فیصلہ سازی عوام کے قریب آئے۔ ایک کسان، طالب علم، تاجر یا سرکاری ملازم کو معمول کے انتظامی مسئلے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر نہ کرنا پڑے۔ ضلعی سطح پر صحت، تعلیم، پولیسنگ، بلدیات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق زیادہ اختیارات ہونے چاہئیں۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو مقامی حکومتوں کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئین کا آرٹیکل 140 اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔ مگر عملی طور پر بیشتر صوبائی حکومتیں مالی اور انتظامی اختیار نیچے دینے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ اگر نیا صوبہ قائم ہو جائے لیکن تمام اختیارات پھر بھی نئے صوبائی دارالحکومت میں جمع رہیں تو عوام کو حقیقی تبدیلی محسوس نہیں ہوگی۔
اصل اصلاح یہ ہے کہ صوبائی سطح کے ساتھ ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بھی اختیارات منتقل ہوں۔ پانی، صفائی، مقامی سڑکیں، بنیادی صحت، اسکولوں کی نگرانی، مقامی تعمیرات اور شہری سہولیات ایسے معاملات ہیں جنہیں مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔ جتنا اختیار عوام کے قریب ہوگا، اتنی ہی ذمہ داری واضح اور جواب دہی مضبوط ہوگی۔
مالی وسائل کی تقسیم بھی اس بحث کا بنیادی حصہ ہے۔ نئے صوبے بننے سے این ایف سی کا مجموعی پول خود بخود نہیں بڑھے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حصہ زیادہ اکائیوں میں تقسیم ہوگا۔ لہٰذا کسی بھی نئے انتظامی ڈھانچے کے ساتھ واضح مالی فارمولہ ضروری ہے۔ صرف صوبے نہیں بلکہ اضلاع اور مقامی حکومتوں کے لیے بھی آئینی یا قانونی سطح پر وسائل کا مخصوص حصہ مقرر ہونا چاہیے۔
ایک اور اہم مسئلہ اقلیتوں اور مقامی شناختوں کا تحفظ ہے۔ نئی حدود بنانے سے کسی علاقے کی اکثریت اور اقلیت کا تناسب بدل سکتا ہے۔ اس لیے زبان، ثقافت، مقامی نمائندگی اور سیاسی شمولیت کے تحفظ کے لیے واضح ضمانتیں دینا ہوں گی۔ انتظامی اصلاح کا مقصد کسی شناخت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ریاستی خدمات کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
اس پورے عمل میں عوامی مشاورت بنیادی شرط ہونی چاہیے۔ نئے صوبے انتخابی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ واضح معیار کے تحت زیر بحث آنے چاہئیں۔ آبادی، جغرافیہ، معاشی قابلیت، انتظامی ضرورت، سروس ڈیلیوری اور عوامی رائے کو بنیاد بنایا جائے۔ حدود کے تعین، مالی وسائل اور اختیارات کی تقسیم پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔
پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ اختیارات چند بڑے صوبائی مراکز میں رکھنا چاہتا ہے یا ایک ایسا وفاقی ڈھانچہ بنانا چاہتا ہے جہاں حکومت عوام کے قریب ہو۔ حل شاید زیادہ صوبے ہوں،