پاکستان تحریک انصاف اس وقت جس سیاسی مرحلے سے گزر رہی ہے، اس میں مسئلہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کا نہیں رہا۔ زیادہ اہم سوال خود تحریک انصاف کے اندر اختیار، فیصلہ سازی اور سیاسی سمت کا ہے۔ حالیہ دنوں میں وفاقی سطح پر پارٹی قیادت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ دو اکتوبر کو پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹیوں نے باقاعدہ مذاکرات کی منظوری دی اور اگلے روز حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے ایک میز پر بھی بیٹھے۔ مذاکرات کا مقصد بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کم کرنا اور چار اکتوبر کے مجوزہ احتجاج کا کوئی سیاسی حل تلاش کرنا تھا۔ مگر اس پورے عمل نے ایک بنیادی کمزوری بھی نمایاں کردی۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر حتمی سیاسی فیصلہ کرتا کون ہے؟
اسلام آباد میں موجود پارٹی قیادت بظاہر مذاکرات چاہتی تھی۔ بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنما مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت سے نکلنا چاہیے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا کی قیادت نے احتجاجی دباؤ برقرار رکھنے پر زور دیا۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حکومت سے بات چیت کی مخالفت تو نہیں کی، بلکہ خود بھی مذاکرات کی حمایت کی، تاہم انہوں نے چار اکتوبر کے مارچ سے پیچھے ہٹنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ تین اکتوبر تک ان کا مؤقف یہی تھا کہ لانگ مارچ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مذاکرات شروع تو ہوئے، لیکن پی ٹی آئی کی طرف سے کوئی ایسی سیاسی لچک سامنے نہ آسکی جو کسی فوری سمجھوتے کی بنیاد بن سکتی۔
یہ تضاد محض احتجاج تک محدود نہیں۔ دہشت گردی اور تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف سیاسی لہجے دکھائی دیتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کے انسداد دہشت گردی کے کردار اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ اس کے تعاون پر تحفظات اٹھائے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ مذاکرات میں باقاعدہ زیر بحث آیا۔ دوسری جانب سہیل آفریدی کا مؤقف رہا ہے کہ دو دہائیوں سے جاری انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے اور پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وفاق سے کابل کے ساتھ دوبارہ رابطہ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہاں اصل سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت واقعی وفاقی حکومت کے ساتھ کسی وسیع سیاسی مفاہمت کی خواہش رکھتی ہے تو کیا وہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی سکیورٹی اور افغانستان سے متعلق پالیسی پر بھی مکمل اختیار رکھتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر پارٹی کے مختلف مراکز سے مختلف ترجیحات کیوں سامنے آ رہی ہیں؟ اور اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اسلام آباد میں موجود مذاکراتی ٹیم آخر کس حد تک ایسے وعدے یا ضمانتیں دے سکتی ہے جن پر صوبائی حکومت بھی عمل کرے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں پی ٹی آئی کا دیرینہ بیانیہ خود سوالات کی زد میں آتا ہے۔ پارٹی قیادت ایک طرف مسلسل شکایت کرتی رہی ہے کہ اسے بانی پی ٹی آئی عمران خان تک آزادانہ رسائی نہیں دی جا رہی۔ موجودہ مذاکرات میں بھی عمران خان سے ملاقات کو اہم مطالبے کے طور پر رکھا گیا اور دوسرے دور کے مذاکرات اسی معاملے سمیت دیگر نکات پر تعطل کا شکار ہوئے۔ اگر پارٹی کے اہم فیصلے بانی کی ہدایت کے بغیر نہیں کیے جا سکتے تو پھر صوبائی سطح پر سکیورٹی، افغانستان، احتجاج اور وفاق کے ساتھ ٹکراؤ جیسے حساس معاملات پر ایک واضح اور سخت سیاسی لائن کہاں سے طے ہو رہی ہے؟
یہ سوال الزام سے زیادہ سیاسی ساخت کا سوال ہے۔ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت میں مختلف آرا ہونا غیرمعمولی بات نہیں، لیکن قومی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملات میں ابہام خطرناک ہو سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ خود سہیل آفریدی تسلیم کر چکے ہیں کہ صوبہ طویل عرصے سے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کرتا آیا ہے۔ ایسے ماحول میں صوبائی اور وفاقی قیادت کے بیانات میں معمولی فرق بھی سیاسی اور سکیورٹی سطح پر بڑی بحث کو جنم دیتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پی ٹی آئی کے سامنے اس وقت صرف حکومت سے مذاکرات کا مسئلہ نہیں بلکہ اپنی داخلی کمان واضح کرنے کا چیلنج بھی ہے۔ پارٹی کو طے کرنا ہوگا کہ اس کی پالیسی پارلیمانی قیادت بناتی ہے، صوبائی حکومت بناتی ہے یا فیصلے کسی ایسے سیاسی مرکز سے آتے ہیں جس تک خود پارٹی رہنما مکمل رسائی نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں۔
چار اکتوبر کے احتجاج سے پہلے ہونے والے مذاکرات کا تعطل اسی بڑے مسئلے کی ایک علامت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں اختلاف اپنی جگہ، لیکن مذاکرات اس وقت نتیجہ خیز ہوتے ہیں جب دونوں طرف کے نمائندے اپنے سیاسی کیمپ پر اختیار رکھتے ہوں۔ اگر وفاقی سطح پر پی ٹی آئی ایک بات کرے اور خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت ایک مختلف ترجیح سامنے لے آئے تو مذاکراتی میز پر پارٹی کی قوت بڑھنے کے بجائے کم ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ احتجاجی جماعت کے طور پر آگے بڑھنا چاہتی ہے یا ایک مربوط قومی سیاسی جماعت کے طور پر۔ دونوں کردار بیک وقت ادا کرنا ممکن ہے، مگر اس کے لیے پالیسی میں تسلسل، فیصلہ سازی میں وضاحت اور قومی سلامتی کے معاملے پر دوٹوک موقف ضروری ہے۔ ورنہ سب سے بڑا سوال حکومت نہیں، خود پی ٹی آئی کے اندر سے اٹھتا رہے گا کہ پارٹی کی اصل پالیسی کون بنا رہا ہے اور اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری آخر کس کے پاس ہے؟
Author
-
View all posts
Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.