Nigah

اظہر مشوانی کی مبینہ غنڈہ گردی بے نقاب

[post-views]

برطانیہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ سیاسی اختلاف جب اخلاق، تہذیب اور دلیل کے دائرے سے نکل جائے تو وہ محض اختلاف نہیں رہتا بلکہ بدتمیزی، اشتعال انگیزی اور سماجی انتشار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اسی خطرناک رجحان کی ایک افسوسناک مثال ہے، جس میں مبینہ طور پر اظہر مشوانی اور ان کے ساتھیوں نے سیاسی مخالفت کو ذاتی ہراسانی اور عوامی بدسلوکی میں بدل دیا۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اختلافِ رائے کا حق تسلیم کیا جاتا ہے، مگر اس حق کی آڑ میں کسی شخص، اس کے خاندان، اس کی خواتین یا اس کی عزتِ نفس کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔

یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ حافظ طاہر محمود اشرفی اس وقت اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ موجود تھے۔ ہماری دینی، معاشرتی اور خاندانی روایات میں خواتین کا احترام بنیادی قدر سمجھا جاتا ہے۔ اختلاف کسی عالمِ دین سے ہو، کسی سیاسی رہنما سے ہو یا کسی عام شہری سے، خاندان کے سامنے بدزبانی اور ہراسانی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر عینی شاہدین کی بات درست ہے کہ حافظ اشرفی بار بار حملہ آوروں کو یاد دلاتے رہے کہ ان کے ساتھ باپردہ خواتین موجود ہیں، تو پھر اس کے باوجود اشتعال انگیزی جاری رکھنا اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔

سیاسی کارکن کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اختلاف کے وقت بھی تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص سیاسی مزاج نے گالی، الزام، شور شرابے اور ہجوم کے دباؤ کو سیاسی اظہار سمجھ لیا ہے۔ یہ سوچ جمہوری اقدار کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جمہوریت دلیل، مکالمے، برداشت اور قانون کی بالادستی کا نام ہے، نہ کہ کسی شخص کو بیرونِ ملک سڑک پر گھیر کر اس کی تذلیل کرنے کا۔ جو لوگ اس عمل کو سیاسی جدوجہد سمجھتے ہیں، وہ دراصل سیاست کو کمزور اور معاشرے کو مزید تقسیم کر رہے ہیں۔

اظہر مشوانی جیسے کرداروں کے بارے میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کی سیاست میں نفرت اور اشتعال کو ہوا دینا کوئی خدمت ہے؟ پاکستان کے اندر سیاسی اختلافات پہلے ہی شدید ہیں۔ ایسے میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی ساکھ، تہذیب اور اجتماعی وقار کا خیال رکھیں۔ مگر جب کوئی گروہ غیر ملکی سرزمین پر پاکستانی شخصیات کو گھیرنے، ان پر نعرے بازی کرنے اور ان کے خاندان کو پریشان کرنے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا، بلکہ پوری پاکستانی کمیونٹی کی بدنامی ہوتی ہے۔

اس واقعے کا ایک اہم پہلو قومی اور عسکری شخصیات کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کی اطلاعات بھی ہیں۔ ریاستی اداروں، مذہبی رہنماؤں یا سیاسی مخالفین پر تنقید ہر شہری کا حق ہے، مگر تنقید اور ہرزہ سرائی میں فرق ہوتا ہے۔ دلیل کے بجائے گالی کا استعمال کمزوری کی علامت ہے۔ جو سیاسی بیانیہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے بدزبانی کا محتاج ہو جائے، وہ اخلاقی طور پر پہلے ہی شکست کھا چکا ہوتا ہے۔ معاشرے اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب اختلاف رائے کو شائستگی کے ساتھ برداشت کیا جائے۔

حافظ طاہر محمود اشرفی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کی سیاسی یا مذہبی آرا پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر کسی شخص کو اس کے اہلِ خانہ کے سامنے ہراساں کرنا نہ سیاست ہے، نہ احتجاج، نہ جمہوریت۔ یہ سراسر جارحانہ رویہ ہے جس کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب خواتین ساتھ موجود ہوں، زبان اور رویے کی حدود مزید اہم ہو جاتی ہیں۔ جو لوگ ان حدود کو پامال کرتے ہیں، وہ صرف اپنے مخالف کو نہیں بلکہ اپنی تربیت، اپنی جماعتی ثقافت اور اپنے سیاسی شعور کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے ایک ایسے طبقے کو جنم دیا ہے جو اشتعال انگیزی کو مقبولیت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ کیمرے کے سامنے نعرے لگانا، کسی کو گھیرنا، ویڈیو بنا کر پھیلانا اور پھر اسے “سیاسی کامیابی” قرار دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔ اس سے نوجوان نسل کو غلط پیغام ملتا ہے کہ طاقت، شور اور بدتمیزی دلیل سے زیادہ مؤثر ہیں۔ اگر اس رویے کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو کل یہی کلچر ہر سیاسی جماعت، ہر رہنما اور ہر شہری کے لیے خطرہ بن جائے گا۔

برطانیہ جیسے ملک میں جہاں قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کا واضح نظام موجود ہے، وہاں ایسے واقعات کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ احتجاج کا حق ضرور ہے، مگر کسی خاندان کا راستہ روکنا، خواتین کی موجودگی میں بدزبانی کرنا اور نفرت انگیز ماحول پیدا کرنا کسی قانون پسند معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی کمیونٹی کو بھی ایسے عناصر سے فاصلہ رکھنا چاہیے جو آزادی اظہار کو غنڈہ گردی کا لائسنس سمجھتے ہیں۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو اخلاقی حدود میں واپس لایا جائے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی، سیاسی اور سماجی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں نفرت، بدزبانی اور کردار کشی کی سیاست ملک کو مزید کمزور کرے گی۔ جو لوگ واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہیں، انہیں اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ملک کی عزت، معاشرتی اقدار اور باہمی احترام کو مقدم رکھتے ہیں۔ اظہر مشوانی اور ان جیسے عناصر کے مبینہ رویے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ ہم سیاست کو کس سمت لے جا رہے ہیں: دلیل کی طرف یا ہجوم کی طرف؟ مہذب معاشرے کا جواب واضح ہے کہ اختلاف ضرور ہو، مگر تہذیب کے ساتھ؛ احتجاج ضرور ہو، مگر قانون کے دائرے میں؛ تنقید ضرور ہو، مگر خاندانوں، خواتین اور ذاتی عزت کو نشانہ بنائے بغیر۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔