Nigah

گلوبل ٹیررازم انڈیکس

[post-views]

انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 پاکستان کے لیے محض ایک عالمی رپورٹ نہیں بلکہ ایک سخت انتباہ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان پہلی مرتبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا، جب کہ 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے 1,045 واقعات اور 1,139 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان 2013 کے بعد دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز نہیں بلکہ اس کا بڑا ہدف ہے، جس نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی عوام، معیشت، ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کی صورت میں غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔

عالمی سطح پر دہشت گردی کے واقعات اور اموات میں کمی کے باوجود پاکستان میں اس کے اثرات کا بڑھنا ایک منفرد اور سنگین سکیورٹی چیلنج کی علامت ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں 28 فیصد اور واقعات میں 22 فیصد کمی ہوئی، مگر پاکستان اس عمومی عالمی رجحان کے برعکس زیادہ متاثر ہوا۔ یہی تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے ایسے نیٹ ورکس کا سامنا ہے جو مقامی انتشار، سرحد پار نقل و حرکت، نظریاتی انتہا پسندی اور علاقائی عدم استحکام سے غذا حاصل کر رہے ہیں۔ یہ محض پولیس یا فوج کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، سفارت کاری، سرحدی انتظام، معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کا مشترکہ امتحان ہے۔

2021 کے بعد افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے سکیورٹی ماحول کو گہرا متاثر کیا۔ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے میں طاقت کا خلا، غیر محفوظ سرحدی گزرگاہیں اور دہشت گرد گروہوں کے لیے نقل و حرکت کی سہولت بڑھی۔ رپورٹ بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے دوبارہ ابھار میں اضافہ ہوا، جب کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ خطے رہے۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف یہی ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے، بیرونی سہولت کاری اور منظم مالی و عملی مدد اس خطرے کو مسلسل تقویت دے رہی ہے۔ اس تناظر میں افغانستان کی موجودہ حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

فتنہ خوارج، یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان، پاکستان کے لیے سب سے بڑا داخلی دہشت گرد خطرہ بن چکی ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق 2025 میں دنیا کے چار مہلک ترین دہشت گرد گروہوں میں ٹی ٹی پی بھی شامل رہی، اور انہی گروہوں میں ٹی ٹی پی واحد تنظیم تھی جس سے منسلک اموات میں اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو محض منتشر حملوں کا سامنا نہیں بلکہ ایک منظم، نظریاتی اور عسکری طور پر متحرک نیٹ ورک سے مقابلہ ہے۔ دوسری جانب فتنہ الہند، یعنی کالعدم بی ایل اے، جیسی علیحدگی پسند تنظیمیں بلوچستان میں قومی یکجہتی، معاشی منصوبوں اور ریاستی رٹ کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ مذہبی شدت پسندی اور علیحدگی پسند دہشت گردی کا یہ دوہرا دباؤ پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ جنگی اور داخلی سلامتی کا منظرنامہ پیدا کرتا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ کی بنیاد پر اس ناسور کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔ مگر صرف عسکری آپریشن کافی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے انٹیلی جنس کی باریک بینی، عدالتی عمل کی مضبوطی، دہشت گرد مالیات کا خاتمہ، سرحدی نگرانی، سائبر اسپیس میں شدت پسند بیانیے کی روک تھام اور نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے کے لیے تعلیم و روزگار کے مواقع ناگزیر ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں صرف بندوق سے نہیں لڑتیں، وہ خوف، پروپیگنڈے، محرومی اور ریاست مخالف بیانیے کو بھی ہتھیار بناتی ہیں۔ لہٰذا جواب بھی صرف بندوق نہیں بلکہ ریاستی کارکردگی، قومی اتحاد اور سماجی مزاحمت کی شکل میں آنا چاہیے۔

عالمی برادری کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا دہشت گردی سے متاثر ہونا صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دہشت گردی سے ہونے والی تقریباً 70 فیصد اموات صرف پانچ ممالک، یعنی پاکستان، برکینا فاسو، نائیجیریا، نائیجر اور کانگو میں مرتکز رہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردی اب بھی عالمی امن کے لیے ایک منظم خطرہ ہے، اگرچہ اس کا جغرافیہ بدل رہا ہے۔ پاکستان ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کر رہا ہے بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی ایک حفاظتی دیوار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنا عالمی سطح پر ایک خطرناک غلطی ہوگی۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کا اصل پیغام یہی ہے کہ پاکستان کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کی قربانیوں، خدشات اور ضروریات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ انٹیلی جنس، علاقائی تعاون، سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے، مالی نیٹ ورکس کی بندش اور عالمی سفارتی دباؤ کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ پاکستان کو بھی اندرونی سطح پر سیاسی استحکام، معاشی مضبوطی اور قومی اتفاق رائے کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ ایک مضبوط ریاست ہی دہشت گردی کو فیصلہ کن شکست دے سکتی ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ضرور ہے، مگر ساتھ ہی عالمی برادری کے لیے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ دہشت گردی کے شکار ملک کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا اسے اعداد و شمار کی ایک اور سرخی بنا کر نظر انداز کر دیتی ہے۔

Author

  • ڈاکٹر محمد سلیم

    محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔