سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا ایک قانونی بندوبست نہیں تھا، بلکہ جنوبی ایشیا میں جنگ، عدم اعتماد اور مستقل کشیدگی کے ماحول میں قائم رہنے والی ایک نایاب سفارتی ضمانت تھا۔ 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس بنیادی سمجھوتے کی علامت تھا کہ سیاسی اختلافات، سرحدی تنازعات اور جنگی حالات کے باوجود دریاؤں کو ہتھیار نہیں بنایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ 1965 کی جنگ، 1971 کے سانحے، اور 1999 کے کارگل بحران جیسے شدید ترین ادوار میں بھی برقرار رہا۔ اس کی یہی تاریخی پائیداری اسے عالمی سطح پر بین الاقوامی آبی تعاون کی ایک کامیاب مثال بناتی رہی۔
لیکن 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل یا “التوا” میں ڈالنے کا فیصلہ اس پوری تاریخی روایت سے ایک خطرناک انحراف ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک قانونی معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ اس بنیادی اصول کو بھی پامال کرتا ہے جس پر بین الاقوامی قانون کھڑا ہے: معاہدوں کی پاسداری لازم ہے۔ ریاستیں اگر اپنی سیاسی ضرورت، داخلی دباؤ یا نظریاتی اشتعال کے تحت بین الاقوامی معاہدوں کو معطل کرنے لگیں تو عالمی نظم محض طاقتور ریاستوں کی خواہشات کا تابع ہو کر رہ جائے گا۔
سندھ طاس معاہدے کی اصل طاقت صرف دریاؤں کی تقسیم میں نہیں تھی بلکہ اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں تھی۔ مستقل انڈس کمیشن، تکنیکی مشاورت، غیر جانب دار ماہرین اور ثالثی کے قانونی فورمز اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ اختلافات جنگی بیانیے میں تبدیل ہونے کے بجائے قانونی اور تکنیکی راستوں سے حل ہوں۔ بھارت کا یک طرفہ اقدام اسی ادارہ جاتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ جب ایک بالائی ریاست طے شدہ طریقہ کار کو نظرانداز کر کے پانی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بناتی ہے تو پورے خطے میں عدم اعتماد، غیر یقینی اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس فیصلے کے اثرات محض سفارتی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کے ہیں۔ پاکستان کی زراعت، خوراکی تحفظ، توانائی پیداوار اور دیہی معیشت کا بڑا حصہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر منحصر ہے۔ پانی کے بہاؤ، سیلابی اطلاعات، آبی ذخائر اور بالائی منصوبوں سے متعلق غیر یقینی صورت حال پاکستان کے کسان، صنعت کار، توانائی منصوبہ ساز اور عام شہری سب کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے بھارت کا یہ اقدام صرف ایک قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ پاکستان کی انسانی سلامتی، معاشی استحکام اور زرعی مستقبل کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
بھارت کے اس رویے کو جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی ہندوتوا سیاست کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ جب قوم پرستی انتقام، غلبے اور علاقائی بالادستی کے تصور میں ڈھل جائے تو پانی جیسا مشترکہ قدرتی وسیلہ بھی سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔ دریاؤں کو سزا، دباؤ یا طاقت کے اظہار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر خطرناک ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی تصورات کے بھی منافی ہے۔ پانی سرحدوں سے گزرنے والا قدرتی نظام ہے؛ اسے نفرت، انتقام یا انتخابی سیاست کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔
اس صورت حال میں پاکستان کا ذمہ دارانہ رویہ زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے معاہدے کی شقوں، قانونی فورمز اور غیر جانب دار ثالثی کے راستوں پر اعتماد کا اظہار کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور ادارہ جاتی عمل کا پابند ہے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے اخلاقی اور قانونی برتری فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت کا انکار، تاخیر اور یک طرفہ پن اس کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور یہ تاثر مضبوط کرتا ہے کہ وہ کثیرالجہتی معاہدوں کو اپنی سیاسی سہولت کے مطابق مانتا یا رد کرتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اس لیے اہم تھا کہ اس نے دشمنی کے باوجود نظم کو قائم رکھا۔ اگر یہ اصول ٹوٹتا ہے تو نقصان صرف پاکستان یا بھارت تک محدود نہیں رہے گا۔ دنیا بھر میں کئی دریا ایسے ہیں جو ایک سے زیادہ ریاستوں سے گزرتے ہیں۔ اگر بھارت جیسی ریاستیں یک طرفہ طور پر آبی معاہدوں کو معطل کرنے کی مثال قائم کرتی ہیں تو دوسرے خطوں میں بھی بالائی ریاستیں اسی طرزِ عمل کو اختیار کر سکتی ہیں۔ یوں ایک علاقائی بحران عالمی آبی قانون کے لیے خطرناک مثال بن جائے گا۔
آج اصل سوال صرف یہ نہیں کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے ساتھ کیا کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی معاہدے طاقتور ریاستوں کی مرضی کے تابع ہوں گے یا قانون کی پابندی سب کے لیے برابر رہے گی؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو قانونی، سفارتی اور تکنیکی سطح پر مسلسل اٹھاتا رہے۔ عالمی اداروں، دوست ممالک، ماہرینِ قانون اور آبی ماہرین کو یہ باور کرانا ہوگا کہ سندھ طاس معاہدے کا دفاع صرف پاکستان کے پانی کا دفاع نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں، معاہداتی وفاداری اور خطے کے امن کا دفاع ہے۔
سندھ طاس معاہدہ جنگوں سے بچ گیا تھا کیونکہ دونوں ریاستوں نے کبھی نہ کبھی یہ تسلیم کیا تھا کہ کچھ اصول جنگ سے بھی بلند ہوتے ہیں۔ بھارت کا 2025 کا اقدام اسی سمجھداری کی نفی ہے۔ اگر پانی کو سیاست کا ہتھیار بنا دیا گیا تو جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور اعتماد کی کوئی بھی بنیاد محفوظ نہیں رہے گی۔ پاکستان کی مزاحمت قانون، دلیل اور سفارت کاری کے ذریعے ہونی چاہیے، کیونکہ یہی راستہ نہ صرف قومی مفاد کا تحفظ کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ دریا طاقت کی ملکیت نہیں، قانون کی امانت ہیں۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: