کابل کے اومید مرکز پر حملے کے بعد جو بیانیہ سامنے آیا، اس میں انسانی المیے کو مرکز میں رکھا گیا، اور بجا طور پر رکھا گیا، کیونکہ عام شہریوں، مریضوں اور بے بس افراد کی موت کسی بھی جنگی ماحول میں سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔ طالبان حکام نے سیکڑوں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا، جبکہ اقوامِ متحدہ کے مشن یوناما نے کم از کم 269 ہلاکتوں اور 122 زخمیوں کی تصدیق کی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس بیانیے کا ایک بڑا حصہ صرف ہلاکتوں کی تعداد پر اٹک گیا، جبکہ یہ سوال پس منظر میں دھکیل دیا گیا کہ کیا طالبان نے کابل کے گنجان شہری علاقوں کو عسکری ڈھانچوں، اسلحہ ذخائر، دہشت گرد نیٹ ورکس اور فوجی لاجسٹکس کے لیے استعمال کیا؟
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے کسی اسپتال کو دانستہ نشانہ نہیں بنایا بلکہ دہشت گرد انفراسٹرکچر، عسکری تنصیبات اور گولہ بارود کے ذخائر کو ہدف بنایا۔ دوسری طرف طالبان نے اسے ایک طبی مرکز پر حملہ قرار دیا۔ یہی تضاد اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر رپورٹوں کے مطابق اومید مرکز سابقہ نیٹو بیس، کیمپ فینکس، کے قریب یا اسی احاطے سے منسلک مقام پر واقع تھا، جسے بعد میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ وہاں یا اس کے قریب گولہ بارود کا ڈپو موجود تھا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا تھا بھی تو شہری موجودگی کے باعث تناسب، احتیاط اور پیشگی جائزے کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔
طالبان کی تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ وہ شہری آبادی، گھروں، بازاروں، مساجد، اسکولوں اور طبی مراکز کے قریب عسکری سرگرمیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2015 میں Kunduz کے واقعات پر لکھا تھا کہ طالبان جنگجو شہری گھروں میں چھپ کر عام لوگوں کو خطرے میں ڈال رہے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ نے افغانستان میں اسکولوں کے فوجی استعمال پر رپورٹ کیا کہ طالبان اور دیگر مسلح عناصر تعلیمی عمارتوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔ یہ کوئی نیا الزام نہیں، بلکہ طالبان کے جنگی طریقۂ کار کا مستقل حصہ رہا ہے: پہلے شہری جگہ کو عسکری ڈھال بناؤ، پھر حملے کی صورت میں شہری نقصان کو عالمی پروپیگنڈا بنا دو۔
افغانستان گرین ٹرینڈ، جس کی قیادت سابق نائب صدر اور سابق انٹیلی جنس چیف امراللہ صالح سے منسوب ہے، نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے تقریباً 23 کنٹینرز پر مشتمل اسلحہ اور فوجی سازوسامان کابل کے بغلِ قاضی علاقے میں ایک آٹے کی مارکیٹ کے قریب منتقل کیا۔ یہ دعویٰ آزادانہ تصدیق کا محتاج ہے، مگر اگر اس میں صداقت ہے تو یہ ایک نہایت خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے: یعنی عسکری مواد کو شہری تجارت، خوراکی منڈیوں اور گنجان محلوں کے قریب رکھنا۔ ایسی حکمت عملی میں شہری صرف حادثاتی متاثرین نہیں بنتے، بلکہ انہیں جان بوجھ کر عسکری خطرے کے قریب رکھا جاتا ہے۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسپتالوں اور طبی مراکز کو خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ جنیوا کنونشن چہارم کا آرٹیکل 18 شہری اسپتالوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ مگر یہی قانون آرٹیکل 19 میں واضح کرتا ہے کہ اگر کوئی اسپتال اپنی انسانی ذمہ داریوں سے ہٹ کر دشمن کے خلاف نقصان دہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو تو اس کا تحفظ ختم ہو سکتا ہے۔ آئی سی آر سی کی تشریح کے مطابق اسلحہ ذخیرہ کرنا، گولہ بارود رکھنا، جنگجوؤں کے لیے رابطہ مرکز بنانا یا فوجی مقصد کو طبی عمارت کے قریب رکھ کر محفوظ بنانے کی کوشش کرنا ایسے اعمال میں شامل ہو سکتے ہیں جو طبی تحفظ کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔
اضافی پروٹوکول اول کے آرٹیکل 51(7) کے مطابق شہری آبادی یا ان کی نقل و حرکت کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ کسی عسکری ہدف کو حملے سے محفوظ بنایا جائے۔ آئی سی آر سی کے customary international humanitarian law میں بھی انسانی ڈھال کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح روم اسٹیٹیوٹ کے تحت اسپتالوں، مذہبی، تعلیمی اور خیراتی عمارتوں پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا ہے، مگر یہ تحفظ اس وقت تک ہے جب تک وہ عمارتیں عسکری اہداف میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ یہاں اصل قانونی بحث یہی ہے: اگر طالبان شہری علاقوں کے اندر گولہ بارود، ڈرون، جنگجو یا دہشت گرد لاجسٹکس چھپاتے ہیں تو شہری نقصان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری صرف حملہ آور ریاست پر نہیں بلکہ اس ڈھال بنانے والے فریق پر بھی آتی ہے۔
طالبان مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی، مگر اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں اور علاقائی رپورٹوں نے بار بار اس کے برعکس اشارے دیے ہیں۔ عرب نیوز نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 37ویں مانیٹرنگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں سب سے بڑے دہشت گرد گروہوں میں سے ایک کے طور پر سرگرم ہے اور اسے نسبتاً آزاد ماحول حاصل ہے۔ اسی رپورٹنگ میں القاعدہ اور دیگر گروہوں کے لیے بھی افغانستان میں سہولت کاری اور موجودگی کے خدشات سامنے آئے۔
پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اس کی کارروائیاں دہشت گرد ٹھکانوں، ٹی ٹی پی نیٹ ورکس، عسکری لاجسٹکس اور سرحد پار حملوں میں ملوث ڈھانچوں کے خلاف ہیں۔ مارچ 2026 کی کشیدگی کے دوران پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دہشت گرد انفراسٹرکچر اور معاون عسکری مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ طالبان نے شہری نقصان کو مرکزی بیانیہ بنایا۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا حق بھی بین الاقوامی قانون کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہوتا۔ شہری نقصان، تناسب، احتیاط اور ہدف کی تصدیق ہر صورت لازم رہتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ طالبان کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ شہری علاقوں کو عسکری گودام بنا کر پھر ہر دھماکے کو صرف مخالف فریق کی سفاکی کے طور پر پیش کریں۔
اومید مرکز کا معاملہ ایک آزاد، شفاف اور تکنیکی تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ تحقیقات صرف بمباری کی قانونی حیثیت تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ اس پورے ماحول کا جائزہ بھی لینا چاہیے جس میں طبی مرکز، سابقہ فوجی احاطہ، ممکنہ گولہ بارود، طالبان کنٹرول، دہشت گرد نیٹ ورکس اور شہری آبادی ایک ہی جغرافیے میں جمع تھے۔ اگر طالبان نے عسکری ڈھانچوں کو شہری مقامات کے قریب رکھا، تو انہوں نے شہریوں کو خطرے میں ڈالا۔ اگر حملہ آور فریق نے شہری نقصان کے خطرے کا درست اندازہ نہیں کیا، تو اس سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے۔ مگر صرف ایک رخ دکھانا انصاف نہیں، پروپیگنڈا ہے۔
طالبان کا سب سے مؤثر ہتھیار بندوق نہیں، بیانیہ ہے۔ وہ شہری آبادی کے درمیان عسکری ڈھانچے چھپاتے ہیں، پھر جب جنگ اس جگہ تک پہنچتی ہے تو وہ دنیا کے سامنے صرف لاشیں دکھاتے ہیں، مگر اسلحہ، کنٹینرز، ڈرون، دہشت گرد روابط اور فوجی ذخائر کا ذکر غائب کر دیتے ہیں۔ اومید مرکز کے گرد اٹھنے والے سوالات اسی بڑے مسئلے کی علامت ہیں۔ شہریوں کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ دہشت گرد گروہ اسپتالوں، بازاروں اور محلوں کو ڈھال بنا کر خود کو قانونی تحفظ دے دیں۔ اصل انسان دوستی یہ ہے کہ ہر شہری موت پر دکھ ہو، ہر حملے کی تفتیش ہو، اور طالبان کی اس پالیسی کو بھی بے نقاب کیا جائے جو افغان عوام کو اپنی بقا اور پروپیگنڈا کی قیمت کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
Author
-
View all posts
حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔