میثاقِ مدینہ اسلامی تاریخ کا محض ایک قدیم معاہدہ نہیں بلکہ ایسا جامع سیاسی، اخلاقی اور آئینی نمونہ ہے جس نے مختلف مذاہب، قبائل اور سماجی گروہوں کو ایک منظم ریاستی نظام کے تحت جمع کیا۔ رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں جس معاشرے کی بنیاد رکھی، اس میں مذہبی شناختیں ختم نہیں کی گئیں بلکہ انہیں تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ امن، انصاف، دفاع اور شہری ذمہ داری کا اصول قائم کیا گیا۔ مسلمان، یہودی اور دیگر حلیف قبائل اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے ایک ایسے سیاسی عہد کا حصہ بنے جس کا مقصد انتشار کو روکنا، ظلم کا سدباب کرنا اور شہر کو بیرونی و داخلی خطرات سے محفوظ رکھنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میثاقِ مدینہ آج بھی پاکستان جیسے اسلامی، کثیرالمذہبی اور متنوع معاشرے کے لیے غیر معمولی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
انتہاپسند عناصر اکثر یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں مذہبی تنوع کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی، حالانکہ میثاقِ مدینہ اس دعوے کی واضح تردید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا اصول ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں، جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت 256 میں بیان ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے غیر مسلم باشندوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے بجائے ان کے ساتھ معاہدہ کیا، انہیں مذہبی آزادی دی اور ان کے شہری حقوق و ذمہ داریوں کو تسلیم کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کا مقصد عقیدے پر جبر نہیں بلکہ قانون، اخلاق اور اجتماعی نظم قائم کرنا ہے۔ پاکستان کے آئین میں مذہبی آزادی اور عبادت کے حقوق کا تحفظ اسی نبوی اصول کی جدید آئینی صورت ہے۔
میثاقِ مدینہ کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ کسی انسان کے ساتھ سلوک کا تعین صرف اس کے مذہب سے نہیں بلکہ اس کے کردار، عہد اور ریاستی وفاداری سے ہوتا ہے۔ قرآن مجید سورۃ الممتحنہ کی آیت 8 میں ان لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا حکم دیتا ہے جو مسلمانوں سے دین کی بنیاد پر جنگ نہیں کرتے۔ انتہاپسند فکر ہر غیر مسلم کو دشمن قرار دے کر قرآن کے اس واضح فرق کو مٹا دیتی ہے۔ میثاقِ مدینہ میں پُرامن غیر مسلم گروہوں کو ریاستی معاشرے کا حصہ تسلیم کیا گیا، جبکہ دشمنی اور جارحیت کا معاملہ مذہب کے بجائے عملی رویے سے جوڑا گیا۔ پاکستان میں بھی اقلیتیں محض برداشت کیے جانے والے گروہ نہیں بلکہ برابر کے شہری ہیں جن کے جان، مال، عزت اور عبادت گاہوں کا تحفظ ریاست کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اقلیتوں کا تحفظ کسی بیرونی نظریے یا مغربی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کا تقاضا ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث 3166 میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے لیے سخت وعید بیان فرمائی جو کسی معاہد غیر مسلم کو قتل کرے۔ یہ حدیث اس امر کو واضح کرتی ہے کہ پُرامن غیر مسلم شہری کی جان اسلامی قانون میں محفوظ ہے۔ چنانچہ کسی چرچ، مندر، گوردوارے، گھر یا کاروبار پر حملہ محض ایک فوجداری جرم نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے کھلی بغاوت بھی ہے۔ مذہبی نعروں کے ذریعے قتل، آتش زنی، لوٹ مار یا ہجوم کے تشدد کو جائز قرار دینا ممکن نہیں۔ ایسا کرنے والے دراصل اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اس کے عدل اور رحمت کے تصور کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
میثاقِ مدینہ نے مختلف برادریوں کو مشترکہ دفاع اور اجتماعی سلامتی کی ذمہ داری بھی دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قانونی وطن سے وفاداری، شہری امن کا تحفظ اور ریاستی معاہدے کی پاسداری اسلامی اخلاق کا حصہ ہیں۔ قرآن مجید سورۃ المائدہ کی پہلی آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ پاکستان کا آئین بھی ایک قومی عہد ہے جو ریاست اور شہریوں کے حقوق و فرائض متعین کرتا ہے۔ جو عناصر دہشت گردی، مسلح بغاوت، دھمکی، نفرت انگیزی یا تشدد کے ذریعے اس عہد کو توڑتے ہیں، وہ صرف ریاستی قانون ہی نہیں بلکہ اسلامی اصولِ وفائے عہد کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
اسلامی تصورِ تحفظ میں عبادت گاہوں کا احترام بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ سورۃ الحج کی آیت 40 میں خانقاہوں، گرجا گھروں، یہودی عبادت گاہوں اور مساجد کے تحفظ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ مذہبی مقامات کو تباہی سے بچانا انسانی تہذیب، دینی آزادی اور اجتماعی امن کا حصہ ہے۔ جو لوگ عبادت گاہوں کو نذرِ آتش کرتے، مقدس علامات کی توہین کرتے یا مذہبی اجتماعات کو نشانہ بناتے ہیں، وہ قرآنی مقصد کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کی حفاظت زندگی، دین، مال اور عزت کے تحفظ پر مبنی مقاصدِ شریعت سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
میثاقِ مدینہ کمزوری یا مصلحت پرستی کی دستاویز نہیں تھا بلکہ اصولی قوت کا اظہار تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے مختلف گروہوں کو انصاف، مشاورت اور مشترکہ دفاع کے تحت متحد کیا، لیکن قانون شکنی اور دشمنی کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ سورۃ النساء کی آیت 135 مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ انصاف پر مضبوطی سے قائم رہیں، خواہ فیصلہ خود ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ مناسب ہے کہ انتہاپسندی کا جواب اجتماعی انتقام سے نہیں بلکہ غیر جانب دار قانون، مضبوط اداروں اور مساوی انصاف سے دیا جائے۔ اکثریت اور اقلیت دونوں کے لیے ایک ہی قانون ریاستی وحدت کو مضبوط کرتا ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی سے مسلم شناخت کمزور نہیں ہوتی۔ سورۃ الحجرات کی آیت 13 میں انسانوں کو مختلف قوموں اور قبائل میں پیدا کرنے کا مقصد باہمی پہچان قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی دینی شناخت میں کامل اعتماد رکھتے تھے، مگر دوسروں کے ساتھ انصاف، حسنِ سلوک اور معاہدے کی پاسداری کرتے تھے۔ پاکستان بھی اسلامی تشخص اور شہری شمولیت کو ایک ساتھ آگے بڑھا سکتا ہے۔ اسلامیت اور رواداری باہم متصادم نہیں بلکہ اسلامی اخلاق میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
میثاقِ مدینہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ مذہبی یا سماجی تنازعات کا فیصلہ ہجوم نہیں بلکہ تسلیم شدہ قانونی اختیار کرے۔ سورۃ النساء کی آیت 58 انصاف کے ساتھ فیصلے کا حکم دیتی ہے۔ توہینِ مذہب کے الزامات، فرقہ وارانہ کشیدگی یا ذاتی تنازعات کو عوامی مشتعل ہجوم کے حوالے کرنا دین اور ریاست دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔ قانونی تحقیق، شہادت، عدالت اور منصفانہ کارروائی ہی بے گناہوں کو بچا سکتی ہے اور مجرموں کو سزا دے سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے میثاقِ مدینہ کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ عہد، تنوع کے ساتھ نظم، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور طاقت کے ساتھ انصاف قائم کیا جائے۔ ایک مضبوط اسلامی ریاست وہ نہیں جو کمزور شہریوں کو خوف زدہ کرے، بلکہ وہ ہے جو ہر پُرامن شہری کو تحفظ دے، جارحیت کو روکے اور قانون کو سب پر یکساں نافذ کرے۔ یہی نبوی توازن پاکستان کو انتہاپسندی، فرقہ واریت اور مذہبی نفرت سے نکال کر ایک محفوظ، متحد اور حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنا سکتا ہے۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔