Nigah

ڈیجیٹل دور کے لیے قرآنی رہنمائی

[post-views]

پاکستان کا ڈیجیٹل منظرنامہ معلومات، نظریات اور سماجی رابطے کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن یہی فضا افواہوں، مذہبی اشتعال انگیزی، فرقہ وارانہ نفرت اور انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک غیر مصدقہ ویڈیو، سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا مذہبی بیان یا کسی شخص کے خلاف بے بنیاد الزام چند گھنٹوں میں وسیع پیمانے پر غصے، نفرت اور تشدد کو جنم دے سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن مجید کا تصورِ علم محض علمی یا فلسفیانہ بحث نہیں رہتا بلکہ انفرادی رویے، اجتماعی امن اور قومی سلامتی کی حفاظت کے لیے ایک عملی ضابطہ بن جاتا ہے۔ سورۂ الاسراء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، کیونکہ سماعت، بصارت اور دل، سب کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ یہ آیت ہر ڈیجیٹل صارف کو یاد دلاتی ہے کہ کسی خبر کو دیکھنا، اس پر یقین کرنا اور اسے آگے پھیلانا اخلاقی طور پر غیر جانب دار عمل نہیں بلکہ مکمل دینی جواب دہی کا معاملہ ہے۔

قرآنی علمیات کی بنیاد یہ ہے کہ حقیقت کو جذبات، تعصب اور ہجوم کے شور سے نہیں بلکہ ثبوت، تحقیق اور ذمہ دارانہ فہم سے پہچانا جائے۔ سورۂ الحجرات میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔ پاکستان کے آن لائن ماحول میں اس حکم کی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ انتہا پسند گروہ اکثر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے جعلی تصاویر، پرانی ویڈیوز، من گھڑت بیانات اور ادھوری معلومات استعمال کرتے ہیں۔ اگر شہری ہر سنسنی خیز خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کے اصل ماخذ، تاریخ، سیاق و سباق اور متعلقہ ادارے یا معتبر عالم کی رائے کی تصدیق کریں تو انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کی ترسیل کا بنیادی راستہ فوری طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے معلومات کی غیر ذمہ دارانہ ترسیل کو بھی جھوٹ کے زمرے میں رکھا۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنا، ہر موصول شدہ پیغام کو بغیر تحقیق آگے بھیجنے کے مترادف ہے۔ خصوصاً توہینِ مذہب، فرقہ وارانہ سازش، حکومتی پالیسی، مذہبی شخصیات یا قومی اداروں کے بارے میں جھوٹی خبریں شدید نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ ایسے معاملات میں ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ کسی بے گناہ کی جان، عزت اور خاندان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اس لیے محض یہ کہنا کافی نہیں کہ خبر کسی دوسرے شخص نے بھیجی تھی۔ اسلامی اخلاقیات کے مطابق ہر فرد اس مواد کی ذمہ داری قبول کرتا ہے جسے وہ اپنی مرضی سے پھیلاتا ہے۔

آن لائن بنیاد پرستی عموماً ایک منظم نفسیاتی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھتی ہے۔ پہلے کوئی مبہم یا جعلی واقعہ پیش کیا جاتا ہے، پھر اسے مذہبی توہین یا اجتماعی خطرے کا رنگ دیا جاتا ہے، اس کے بعد جذباتی زبان کے ذریعے غصہ پیدا کیا جاتا ہے اور آخر میں ہجوم کو کسی شخص، گروہ یا ادارے کے خلاف کارروائی پر اکسایا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے سورۂ النساء میں ایسے رویے کی نشاندہی کی ہے کہ جب لوگوں کے پاس امن یا خوف سے متعلق کوئی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اسے ذمہ دار اور اہلِ علم افراد کی طرف لوٹانا چاہیے۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ حساس معلومات کو فوراً عام کرنا دانش مندی نہیں۔ قومی سلامتی، مذہبی تنازع، فرقہ وارانہ کشیدگی اور کسی فرد کے خلاف سنگین الزام جیسے معاملات میں متعلقہ اداروں، معتبر علما اور مستند صحافتی ذرائع سے رجوع کرنا قرآنی ذمہ داری ہے۔

اسلامی علمی روایت میں تحقیق اور توقف کے اس اصول کو “تثبت” کہا جاتا ہے۔ تثبت کا مطلب ہے فیصلہ کرنے، الزام لگانے یا ردعمل دینے سے پہلے مکمل احتیاط، شواہد کا جائزہ اور حقیقت کی چھان بین۔ رسول اکرم ﷺ کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ محض افواہ یا یک طرفہ اطلاع پر اجتماعی فیصلہ نہیں کرتے تھے بلکہ گواہی، حالات اور نتائج کو پیش نظر رکھتے تھے۔ پاکستانی معاشرے میں اگر یہی رویہ ڈیجیٹل عادت بن جائے تو شدت پسند گروہوں کی بڑی تعداد میں مہمات خود بخود ناکام ہو سکتی ہیں۔ ہر شہری کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ خبر کا اصل ذریعہ کیا ہے، کیا اسے کسی معتبر ادارے نے رپورٹ کیا ہے، کیا تصویر یا ویڈیو پرانی تو نہیں، کیا بیان مکمل ہے اور کیا متعلقہ شخصیت یا ادارے کا مؤقف موجود ہے؟

انتہا پسند تنظیمیں پاکستان کو مذہبی، فرقہ وارانہ، لسانی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ قرآن مجید کا حکم ہے کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اس تناظر میں ہر وہ غیر مصدقہ پوسٹ جو کسی مسلک، قومیت یا طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرے، محض ایک ڈیجیٹل سرگرمی نہیں بلکہ اجتماعی وحدت کو نقصان پہنچانے والا عمل ہے۔ معاشرتی اختلاف فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، تکفیر، تحقیر اور تشدد میں تبدیل کرنا قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔ ڈیجیٹل ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ شہری ایسے مواد کو مسترد کریں جو دلیل کے بجائے نفرت اور اصلاح کے بجائے تصادم کو فروغ دے۔

جھوٹے مذہبی الزامات، بالخصوص توہینِ مذہب کے بے بنیاد دعوے، پاکستانی معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ سورۂ الاحزاب میں بے گناہ مومن مردوں اور عورتوں کو اذیت پہنچانے والوں کو بہتان اور کھلے گناہ کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ کسی شخص پر الزام لگانا، اس کی شناخت یا تصویر عام کرنا اور ہجوم کو اس کے خلاف بھڑکانا اسلامی عدل کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ قرآنی علمیات ملزم، معاشرے اور نظامِ انصاف تینوں کی حفاظت کرتی ہے، کیونکہ یہ جذباتی ہجوم کے بجائے ثبوت، قانونی کارروائی اور منصفانہ سماعت کو مقدم رکھتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز مواد کو آگے نہ بڑھانا ایک مثبت دینی اور شہری عمل ہے۔ پاکستان کے سائبر قوانین بھی نفرت انگیزی، ہراسانی، جھوٹے الزامات اور تشدد پر اکسانے والے مواد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ یوں ذمہ دارانہ آن لائن رویہ مذہبی اخلاقیات، شہری قانون اور قومی مفاد تینوں سے ہم آہنگ ہے۔

پاکستانی نوجوانوں کے لیے میڈیا خواندگی اور ڈیجیٹل تصدیق کی تربیت کو محض تکنیکی مہارت نہیں بلکہ دینی تعلیم کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ قرآن مجید کا حکم ہے کہ اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔ وائرل مذہبی دعووں پر فوری ردعمل کے بجائے مستند علما، معتبر تحقیقاتی اداروں اور ذمہ دار صحافتی ذرائع سے رجوع کرنا اسی حکم کی عملی تکمیل ہے۔ پاکستان میں افواہوں، بنیاد پرستی اور سماجی تقسیم کا مؤثر مقابلہ صرف مواد ہٹانے یا اکاؤنٹس بند کرنے سے ممکن نہیں؛ اس کے لیے ایسا باشعور شہری درکار ہے جو علم کو جذبات پر، تحقیق کو افواہ پر اور ذمہ داری کو ہجوم کی نفسیات پر ترجیح دے۔ قرآنی علمیات اسی باکردار، محتاط اور متحد ڈیجیٹل معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔