ان دنوں ریاست خداداد پاکستان چومکھی جنگ لڑ رہی ہے. اس کا سامنا اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے دشمنوں سے ہے. یہ خدا کا کرم ہے کہ پاکستان نے اپنے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ہر میدان میں دھول چٹائی اور ہر محاذ پر شکست سے دوچار کیا. مگر اب دشمنوں نے طریقہ واردات بدل لیا ہے اور وطن عزیز کے امن کو خراب کرنے کے لئے اسلام اور جہاد جیسے مقدس نام پر فساد شروع کر دیا ہے.
پاکستان کے ناپاک دشمن دوبدو جنگ میں بدترین شکست کھا جانے کے بعد اب کرائے کے قاتلوں کے ذریعے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے خواب دیکھ رہے ہیں.
یہ کرائے کے قاتل انہیں لوگوں کے لے پالک ہیں جن پر ریاست پاکستان کے احسانات کی تاریخ دنوں، مہینوں یا سالوں پر نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے.
افغان طالبان میں کچھ نا عاقبت اندیش ایسے ہیں جنہوں نے دوحہ معاہدے کے بعد اپنے محسن پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے بجائے پاک سرزمین کے دشمنوں کی سہولت کاری اور خوشامد کو چنا. روئے زمین پر ان سے بڑا احسان فراموش کون ہو گا جنہوں نے اقتدار پہ قابض ہوتے ہی اپنے قاتلین کو گلے لگا لیا اور اپنے محسنین کے خلاف میدان سجا لیا. انہوں نے بجائے مسلمان بھائی اور اچھا ہمسایہ بننے کے یہود و ہنود کے لئے کرائے کا قاتل بننے کا فیصلہ کیا.
اور ماہانہ بنیادوں پر کروڑوں اربوں ڈالرز کے بدلے میں پاکستان کی مقدس سرزمین پر جہاد کے نام پر فساد کا دھندہ شروع کیا.
ایسا کرنے کے لیے انہیں یہ تو یاد رہا کہ اس فساد کے بدلے میں یہود ہنود سے اربوں ڈالرز ملیں گے لیکن یہ یاد نہیں رہا کہ کسی بھی اسلامی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو رسول اللہ ﷺ کے سینکڑوں فرامین "خروج” قرار دیتے ہیں جو اسلام میں ایک بہت ہی بڑا گناہ اور سنگین جرم ہے. یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے ہاں اس قدر مبغوض ہے کہ آپ نے تو ایسا کرنے والوں کو "کلاب النار” یعنی "جہنمی کتے” قرار دیا اور ان کی علامات کو کھول کھول کر بیان فرمایا. تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ امت مسلمہ کو جتنا نقصان خارجیت کے اس ناسور نے پہنچایا اتنا کسی نے نہیں پہنچایا.
آج اگر کوئی بھی شخص خارجی نور ولی محسود اینڈ کمپنی کو دیکھے گا تو وہ اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ یہ روئے زمین پر وہی خارجی ٹولہ ہے جن کی مذمت اور علامات قرآن و احادیث میں بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہیں. وہی پرانا کھیل، وہی پرانا بیانیہ اور وہی پرانے حلیے. چہروں پر داڑھیاں، سروں پر پگڑیاں اور لمبی لمبی پوشاکیں پہن کر، لوگوں کو دھوکہ دے کر، خود کو روئے زمین پر اسلام کا سب سے بڑا محافظ بتلا کر، اسلام کے سب سے بڑے قلعے پر حملہ آور ہوگئے. جہاد کے نام پر پوری اسلامی دنیا میں جہاد کی واحد علمبردار فوج پر ہی حملے شروع کر دئیے. ریاست پاکستان اور افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے اسی خارجی ٹولے کے خلاف میدان کارزار میں سرگرم ہیں. دہشت گردی کے اس عفریت سے برسرِ پیکار ہیں جس نے نہ صرف ہزاروں بے گناہ شہریوں، علماء کرام، اساتذہ، طلبہ، پولیس اور فوجی اہلکاروں کی جانیں لیں بلکہ اسلام کے مقدس تصورِ جہاد کو بھی ایک ایسے بیانیے میں قید کرنے کی کوشش کی جس کا قرآن و سنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں.
ہمارے دشمنوں نے اسلامی تعلیمات کو اپنے مکروہ عمل کے لیے استعمال کیا حالانکہ اسلام کی پوری عمارت تو امن اور انسانی حرمت پر استوار ہے. قرآن مجید میں سورہ اعراف کی آیت نمبر 56 میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے "وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ” فرما کر تاقیامت فسادیوں کے بیانیے کو زمیں بوس فرما دیا ہے. فساد کیا ہے اور کس قسم کی سرگرمیوں پر فساد کا ٹھپہ لگایا جا سکتا ہے اسے "پیغام پاکستان” نامی دستاویز میں خوب واضح کر دیا گیا ہے جس پر ہزاروں علماء کرام کے دستخط اسے انتہائی مستند، ثقہ اور ناقابلِ تردید دلیل کے طور پر ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں.
دنیا کا کوئی بھی مذہب کسی ناحق شخص کو قتل کرنے کے مذموم عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا. جب اسلام کسی عام انسان کے قتل کی مذمت کرتا ہے تو پاکستان کی سرزمین میں غیر قانونی طور پر گھس کر، خود ساختہ جہاد کا پرچم لے کر، افواج پاکستان اور نہتے شہریوں کا خون بہانا کیوں کر جائز ہو سکتا ہے. سورہ مائدہ کی آیت نمبر 32 میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے کہ
"مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا.”
یعنی جس نے کسی ایک شخص کو بھی قتل کیا اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کر دیا. یہ وہ قرآنی معیار ہے جس کے بعد کسی بازار، مسجد، اسکول، جنازے یا فوجی چوکی پر حملے کو "جہاد” کہنا دراصل قرآن کے مفہوم کو الٹ دینے کے مترادف ہے.
آقائے نامدار سرور کائنات جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان وہی ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. ایک اور روایت کا مفہوم ہے کہ "مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے.” اگر صرف ان دو احادیث کو ہی میزان بنا لیا جائے تو اس نام نہاد "پرائیویٹ جہاد” کا بدبودار بیانیہ خود بخود باطل ثابت ہوجاتا ہے.
اس فتنے کی سرکوبی کے لیے ضروری ہے کہ ہر محاذ پر اس کے خلاف کمر باندھی جائے. پاکستان کے اندرونی محاذوں کے ساتھ ساتھ بیرونی محاذوں پر بھی یہ جنگ لڑنا ضروری ہے. ریاستِ پاکستان نے متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حملہ آور سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان فتنہ پروروں کو افغانستان کی سرزمین سے سہولت میسر آتی ہے. اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور مختلف بین الاقوامی تجزیاتی اداروں نے افغانستان میں موجود مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر بارہا تشویش ظاہر کی ہے. یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال ہو تو یہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے. اسلام تو پڑوسی کے حقوق کی حفاظت، عہد کی پاسداری اور ظلم سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے. کسی بھی ریاست یا گروہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ایسے عناصر کو پناہ دے یا ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرے جو بے گناہ انسانوں کی جانوں سے کھیلتے ہوں.
ضرورت اس بات کی ہے کہ منبر و محراب، مدارس کی درسگاہیں، اور ذرائع ابلاغ سب ایک آواز ہو کر یہ اعلان کریں کہ جہاد کا اختیار جذباتی نعروں یا مسلح گروہوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ شرعی اصولوں، اخلاقی حدود اور اجتماعی نظم کا پابند ہے. جس راستے کا اختتام مسلمانوں کے خون، بچوں کی یتیمی، ماؤں کی آہوں اور دفاعی اعتبار سے دنیائے اسلام کی سب سے مضبوط اسلامی ریاست کے عدم استحکام پر ہو، اسے جہاد نہیں بلکہ فتنہ اور فساد کہا جائے گا. جب تک یہ آگاہی گھر گھر پہنچائی نہیں جائے گی تب تک خارجیت کا یہ عفریت یونہی ہماری معصوم جانوں کو نگلتا ریے گا. پاکستان کی بقا صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ فکری وضاحت سے بھی وابستہ ہے. جب تک نوجوانوں کو قرآن و سنت کی صحیح تعلیم، تحقیق پر مبنی شعور اور انتہا پسند بیانیے کا مدلل جواب نہیں ملے گا، تب تک بندوقیں خاموش ہونے کے باوجود فتنہ اپنی شکلیں بدلتا رہے گا. اس لیے آج کی سب سے بڑی ضرورت صرف دہشت گردوں سے نہیں بلکہ دہشت گردی کے نظریے سے بھی فیصلہ کن فکری مقابلہ ہے. اس ضمن میں جو سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ علماء کرام، یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام، صحافتی برادری، سکالرز اور ائمہ کرام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خوارج کے اس بیانیے کا کھل کر رد کریں تاکہ ہماری نسل نو ان کرائے کے قاتلوں سے آگاہ ہو اور دشمن کی بیخ کنی کا عمل ممکن بنایا جا سکے.
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsShariah Scholar & PhD Scholar
MS in Religious Education | Bachelor in Geography
Deputy Director, Jamia Tur Rasheed
(Lahore Campus)
CEO, Molvi Media