طالبان رجیم کی پاکستان دشمنی کے شواہد اب اتنے ہو چکے ہیں کہ انہیں جھٹلانا ناممکن ہو چکا ہے.
ہزاروں خارجیوں کو وہاں موجود معسکرات میں دہشتگردی کی مکمل ٹریننگ دے کر انہیں غیر قانونی اور غیر شرعی طریقوں سے پاکستان میں دراندازی کے لیے بھیجنا، ان کی مکمل پشت پناہی کرنا، ان پر ماہانہ مشاہرے لٹانا، ان کے زخمیوں کا علاج کرنا، اور انکی قیادت کو رہنے کے لیے بنگلے فراہم کرنا سب کچھ ثابت ہوچکا ہے. پڑوسی اسلامی ملک کے اندر یہ گندا اور ننگا کھیل کھیلنے کے عوض پاکستان کے دشمن ممالک سے کروڑوں ڈالر وصول کیے جاتے ہیں اور اس کا کچھ حصہ عوام پر خرچ کر کے خود کو روئے زمین کی واحد اسلامی فلاحی ریاست بنا کر پیش کیا جاتا ہے. واہ کیا کہنے اس نام نہاد کرائے کی قاتل حکومت کے.
ایلون مسک کے ٹویٹ سے یہ بھانڈا پھوٹے ہوئے اب تو دو سال کا عرصہ ہوچکا کہ امریکہ اس حکومت کو روز اول سے ہر ہفتے چار کروڑ ڈالر دیتا رہا ہے، جی ہاں پورے چار کروڑ ڈالر، جو ہر ہفتے آج بھی تسلسل کے ساتھ افغان طالبان رجیم کو مل رہے ہیں. اس وقت دنیا بھر سے اس پر تنقید ہوئی، جس پر امریکہ نے اسے ظاہراً روکنے کی بات تو انڈین لوک سبھا میں افغانستان کو ہر ماہ کروڑوں ڈالر دینے کے لیے باقاعدہ بل منظور کیا گیا. جی ہاں انڈین لوک سبھا میں اور وہ بھی سرعام. یہ کافروں کی پاک اور پوتر امداد آج بھی افغان اسٹوڈنٹس ڈھڑلے سے اڑا رہے ہیں، بس یہ نہیں بتاتے کہ یہ سب کچھ وہ پاکستان میں خونریزی، دراندازی اور بی ایل اے و ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنے کے عوض میں لے رہے ہیں. افغان اسٹوڈنٹس نے اپنی حکومت چلانے کے لیے جو سب سے مؤثر راستہ اپنایا وہ خود کو کرائے کے قاتل بنا کر عالم کفر کے بدمعاشوں کے لیے پیش کرنا تھا.
افغان عوام اور پاکستان کے سادہ لوح مسلمانوں کو باور کرایا جاتا ہے کہ افغان اسٹوڈنٹس کی یہ جماعت حضرت عیسٰی علیہ السلام کے شانہ بشانہ لڑے گی حالانکہ آج اسکی حالت یہ ہے کہ وہ عالم کفر کے ہاتھوں میں کھیلنے والا سب سے آسان گروہ بنا ہوا ہے. پہلے تو یہ راز لوگوں سے چھپا ہوا تھا مگر اب اس کے شواہد اس قدر ہو چکے ہیں کہ ان سے انکار ناممکن ہے. حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب سے بھی پوچھیں تو اتنی گواہی تو وہ بھی دیں گے کہ ہمارے ہاں فعال خارجیوں کی قیادت کا ڈیرہ افغانستان میں ہے اور سب کچھ افغان حکومت کے علم میں ہے.
آج تک افغان حکومت کے امیر المومنین نے ایک مرتبہ بھی یہ بیان نہیں دیا کہ پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار دہشتگرد ہمارے ملک سے نکل جائیں، ایسا جہاد، جہاد نہیں دہشتگردی ہے اور ہم ٹی ٹی پی کے خلاف حکومت پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ. وہ ہر گز یہ نہیں کہیں گے کیونکہ سب ان کی ایماء پر ہورہا ہے اور وہی اس کھیل کے اصل ماسٹر مائنڈ ہیں.
طالبان جب اس الزام کو جھٹلانے سے عاجز آ جاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "مشرف نے بھی تو امریکہ کو ہمارے خلاف اڈے دئیے تھے.” سوال یہ ہے کہ مشرف کی غلطی پر تو پاکستان نے نا صرف رجوع کیا، اسے غلطی تسلیم کیا، یہاں اس کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور وہ دنیا سے بدنام ہو کر گیا بلکہ اس کے بعد پاکستان نے خود امریکہ کے خلاف تمہارے شانہ بشانہ پورے بیس سال جنگ لڑی اور تمہیں جنگ جیت کر دی. مگر کیا وجہ ہے کہ لاکھوں افغانیوں کے قاتل امریکہ اور روس سے تو تمہارا یارانہ ہے اور پاکستان سے دشمنی. کہیں اسکی وجہ صرف یہ تو نہیں کہ پاکستان کے پاس اب تمہیں دینے کے لیے ڈالرز نہیں ہیں.
اس کے علاوہ امارت کے بڑے بڑے وزراء نا صرف پاکستانی افواج بلکہ یہاں کے علماء کرام کے بارے میں بھی ایسے ایسے خیالات رکھتے ہیں الامان الحفیظ. کچھ عرصہ پہلے ایک ویڈیو طالبان رجیم کے وزیر برائے امر بالمعروف و نہی عن المنکر مولانا نسیم حقانی کی سامنے آئی تھی جس میں وہ کھلم کھلا پاکستان کے نظام کو کفریہ نظام کہہ رہا تھا اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو کہہ رہا تھا کہ مفتی صاحب کو چاہیے کہ وہ آئی ایس آئی سے ڈرنے کے بجائے حق بات کریں یعنی پاکستان کے نظام کو کفریہ نظام کہیں.
مفتی عبد الرحیم صاحب جو بنفس نفیس ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ تعالٰی کے ساتھ رہے، ان کی مشاورتوں میں شریک رہے، یہاں ان کے کاز کی تشہیر کرتے رہے، اپنے دو بھائی جس نے افغان جنگ میں شہید کروائے آج آخر کیا وجہ ہے کہ وہ بھی اس موجودہ قیادت سے مایوس دکھائی دیتے ہیں. اس سب کا ایک ہی سبب ہے کہ پاکستان سے مصالحت کی ہر کوشش کو افغان سٹوڈنٹس نے ہنسی میں اڑا دیا اور امن پر ڈالروں کو ترجیح دی.
ایک پڑوسی اسلامی ریاست کے بارے میں قرآن و حدیث کی تمام تر تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اسے کفریہ نظام کہنا، وہاں دراندازی کرانا، معاہدات سے متعلق اسلامی تعلیمات کو نظریں پھیر کر انکی خلاف ورزی کرنا، مسلمانوں کا ناحق خون بہانا، انکی کفار کے خلاف جنگ کو اسلام و کفر کے معرکے کے بجائے اسے علاقائی جنگ کہہ دینا، کسی اسلامی ریاست کے خارجی دہشتگرد باغیوں کو اپنے ہاں ناصرف پناہ گاہیں دینا بلکہ انکی مدد کرنا اور ایک اسلامی ریاست کے خلاف دوسرے ممالک سے کروڑوں ڈالر وصول کرنا کیا یہ سب کر کے بھی کوئی حکومت خود کو امارت اسلامیہ کا لقب دے سکتی ہے.
افغان طالبان جب اپنی اس عبوری حکومت کو لوگوں کے سامنے "امارت اسلامیہ” کہہ کر پیش کرتے ہیں تو فوراً سیدنا موسی علیہ السلام کے دور کا وہ بدبخت سامری جادوگر یاد آ جاتا ہے کہ جس نے ایک بچھڑا بنایا اور اس میں سے ایک خاص آواز نکال کر لوگوں سے کہا کہ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) یہ تمہارا خدا ہے.
افغان طالبان بھی اپنی ناجائز حکومت کو لوگوں کے سامنے روئے زمین کی سب سے اہم اسلامی ریاست بنا کر پیش کر رہے ہیں حالانکہ یہ ایک ناجائز اور غیر شرعی حکومت ہونے کے ساتھ ساتھ اب کفار کے ہاتھوں میں یرغمال صرف ایک پراکسی بن کر رہ گئی ہے.
ان کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے اور لوگ ان کی اصلیت جان جان گئے ہیں کہ یہ درحقیقت سامری جادوگر کا ایک بچھڑا تھا جسے وہ سب سے بڑی اسلامی امارت بنائے بیٹھے تھے.
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsShariah Scholar & PhD Scholar
MS in Religious Education | Bachelor in Geography
Deputy Director, Jamia Tur Rasheed
(Lahore Campus)
CEO, Molvi Media