دنیا کسی بڑے دھماکے، اچانک اعلان یا تاریخی سربراہی اجلاس کے ذریعے نئے جوہری عہد میں داخل نہیں ہوئی۔ یہ تبدیلی خاموشی سے 5 فروری 2026 کو اس وقت واقع ہوئی جب امریکا اور روس کے درمیان آخری مؤثر اسٹریٹجک جوہری اسلحہ کنٹرول معاہدہ، نیو اسٹارٹ، اپنی مدت پوری کر گیا۔ پچاس برس سے زیادہ عرصے میں پہلی بار دنیا کی دو سب سے بڑی جوہری طاقتوں کے اسٹریٹجک ہتھیاروں پر کوئی قانونی اور قابل تصدیق دوطرفہ حد موجود نہیں۔ 2026 کے تازہ عالمی تخمینوں کے مطابق امریکا اور روس مل کر دنیا کے تقریباً 86 فیصد جوہری وارہیڈز کے مالک ہیں۔ یوں یہ محض ایک معاہدے کا اختتام نہیں بلکہ اس اصول کی کمزوری ہے جس کے تحت سرد جنگ کے بدترین ادوار میں بھی جوہری مسابقت کو کچھ قواعد کے اندر رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
نیو اسٹارٹ کی اصل اہمیت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ اس نے ہر فریق کو 1,550 تعینات اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز اور 700 تعینات بین البراعظمی میزائلوں، آبدوز سے داغے جانے والے میزائلوں اور بھاری بمبار طیاروں تک محدود کیا۔ اس کی اصل طاقت اعتماد کے بجائے تصدیق میں تھی۔ معلومات کا تبادلہ، جوہری نظاموں میں تبدیلیوں کی اطلاعات اور موقع پر معائنے دونوں ممالک کو یہ جاننے کا ذریعہ دیتے تھے کہ دوسرا فریق کیا کر رہا ہے۔ 2023 میں یہ شفافیت شدید متاثر ہوئی اور معائنے اور معلوماتی تبادلے رک گئے، لیکن عددی حدود پھر بھی ایک سیاسی اور عملی رکاوٹ کے طور پر موجود رہیں۔ اب وہ آخری قانونی دیوار بھی گر چکی ہے۔
اس صورت حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بظاہر کچھ بھی ڈرامائی طور پر تبدیل نہیں ہوا۔ نہ واشنگٹن نے ہزاروں نئے وارہیڈز تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے اور نہ ماسکو نے فوری طور پر اپنی جوہری قوت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وہ سابقہ حدود کی پابندی اس وقت تک جاری رکھ سکتا ہے جب تک امریکا بھی ایسا کرتا رہے۔ لیکن یہ پابندی اب معاہدے، معائنے یا قانونی ذمہ داری سے نہیں بلکہ عارضی سیاسی حساب کتاب سے جڑی ہے۔ مئی تک دونوں ملک سابقہ حدود سے تجاوز کرتے دکھائی نہیں دیے اور اگست 2026 تک اسٹریٹجک استحکام اور جوہری اسلحہ کنٹرول پر باقاعدہ امریکی روسی رابطہ بھی بحال نہیں ہوا تھا۔ یہی خاموشی سب سے زیادہ تشویش ناک ہے۔
جوہری استحکام صرف اس بات کا نام نہیں کہ ایک ملک کے پاس کتنے ہتھیار ہیں۔ اصل استحکام اس یقین سے پیدا ہوتا ہے کہ ہر فریق کو دوسرے کی صلاحیت، تعیناتی اور حدود کے بارے میں قابل اعتماد معلومات دستیاب ہوں۔ جب تصدیق ختم ہو جاتی ہے تو منصوبہ ساز حقائق کی جگہ بدترین ممکنہ مفروضوں پر فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ اگر واشنگٹن کو شک ہو کہ ماسکو خاموشی سے اپنی تعینات قوت بڑھا رہا ہے تو وہ احتیاطاً اپنے ہتھیار بڑھانے پر غور کرے گا۔ اگر روس بھی یہی سوچے تو جوابی ردعمل شروع ہوگا۔ اسلحے کی دوڑ اکثر کسی باقاعدہ فیصلے سے نہیں بلکہ عدم اعتماد کے ایسے ہی سلسلے سے جنم لیتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ پرانے دوطرفہ ماڈل کی جگہ ایسا جدید معاہدہ آنا چاہیے جس میں چین بھی شامل ہو۔ اصولی طور پر یہ دلیل بے وزن نہیں۔ چین کی جوہری قوت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تازہ تخمینے اسے تقریباً 620 وارہیڈز تک پہنچا چکے ہیں۔ مگر یہی اعداد بتاتے ہیں کہ مسئلہ کہاں ہے۔ چین کا ذخیرہ اب بھی امریکا اور روس کے ہزاروں وارہیڈز کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔ بیجنگ ایسی پابندی قبول کرنے میں دلچسپی کیوں لے گا جو موجودہ عدم مساوات کو مستقل شکل دے سکتی ہو؟ دوسری طرف روس کا مؤقف رہا ہے کہ اگر چین مذاکرات میں آئے تو برطانیہ اور فرانس کی جوہری قوتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یوں ایک زیادہ جامع معاہدے کی خواہش عملی طور پر کسی بھی معاہدے کے نہ ہونے کا جواز بن سکتی ہے۔
اس بحران نے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو بھی کمزور کیا ہے۔ اپریل اور مئی 2026 میں ہونے والی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی جائزہ کانفرنس بالآخر کسی متفقہ حتمی دستاویز تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ یہ ناکامی صرف امریکا اور روس کے اختلافات کی پیداوار نہیں تھی، مگر اس ماحول نے مسئلے کو ضرور سنگین بنایا۔ غیر جوہری ممالک سے یہ توقع رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ہمیشہ جوہری ضبط کو قبول کریں جبکہ بڑی طاقتیں خود تخفیف اسلحہ، شفافیت اور قابل تصدیق پابندیوں سے دور ہوتی دکھائی دیں۔ عدم پھیلاؤ کا نظام صرف قانون پر نہیں، مثال پر بھی قائم ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئی عالمی جوہری دوڑ لازماً شروع ہو چکی ہے۔ جوہری قوتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ مہنگا، تکنیکی طور پر پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے۔ امریکا اور روس پہلے ہی ایسی تباہ کن صلاحیت رکھتے ہیں جو باہمی تباہی کو یقینی بنانے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔ اسی لیے ماہرین درست طور پر خبردار کرتے ہیں کہ نیو اسٹارٹ کا خاتمہ خود بخود ہزاروں نئے ہتھیاروں کی تعیناتی میں تبدیل نہیں ہوگا۔ اصل نقصان اس پیش بینی، شفافیت اور اعتماد کا ہے جو غلط اندازوں کو روکنے میں مدد دیتا تھا۔
آج شاید فوری ضرورت کسی عظیم الشان نئے معاہدے سے زیادہ ایک عبوری انتظام کی ہے۔ امریکا اور روس سابقہ عددی حدود کی باہمی پابندی، بنیادی معلومات کے تبادلے، میزائل تجربات کی پیشگی اطلاع اور اسٹریٹجک مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ چین، فرانس اور برطانیہ کو مرحلہ وار شفافیت اور خطرات میں کمی کے مذاکرات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ مکمل تخفیف اسلحہ ایک طویل منزل ہے، لیکن جوہری سیاست میں ناقص مگر قابل تصدیق پابندی بھی کسی مکمل خلا سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔
دنیا جس نئے عہد میں داخل ہوئی ہے اس کی سب سے خطرناک علامت ہتھیاروں کی تعداد نہیں بلکہ قواعد کی عدم موجودگی ہے۔ امریکا اور روس باہمی ضبط پر انحصار کر رہے ہیں، چین اپنی قوت میں اضافہ کر رہا ہے، دیگر جوہری ریاستیں اپنے نظام جدید بنا رہی ہیں اور عالمی عدم پھیلاؤ کا ڈھانچہ سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جوہری بحران ہمیشہ میزائل داغے جانے سے شروع نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی وہ اس وقت شروع ہوتے ہیں جب معاہدے خاموشی سے ختم ہوتے ہیں، مذاکرات رک جاتے ہیں اور ریاستیں ایک دوسرے کے ارادوں کو جاننے کے بجائے اندازے لگانے لگتی ہیں۔ نیو اسٹارٹ کا خاتمہ شاید آج بحران محسوس نہ ہو، لیکن اگر قابل تصدیق پابندیوں کا کوئی نیا نظام قائم نہ ہوا تو آنے والی دنیا اس خاموش تاریخ کو ایک بہت بڑے اسٹریٹجک موڑ کے طور پر یاد کر سکتی ہے۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: