بلوچستان کی سرزمین پر ایک بار پھر شرپسندوں نے وہ کام کیا جو ان کی اصل شناخت کو واضح کر دیتا ہے۔ خاران کے علاقے گواش میں دو زیر تعمیر منصوبوں گورنمنٹ انٹرکالج اور مائن اینڈ منرلز لیبر ہسپتال کو توڑ پھوڑ اور آگ لگا کر فتنہ الہندوستان کے خوارج و دہشتگردوں نے ثابت کر دیا کہ ان کا اصل ہدف کوئی فوجی تنصیب یا سرکاری دفتر نہیں، بلکہ بلوچ عوام کا مستقبل ہے، ان کے بچوں کی تعلیم ہے، ان کے بیماروں کا علاج ہے اور ان کی آنے والی نسلوں کے خواب ہیں۔
یہ حملہ ایک خالی عمارت پر نہیں تھا۔ یہ اس امید پر تھا جو گواش اور گردونواح کے لوگوں کے دلوں میں پلتی تھی کہ اب ان کے بچے دور شہر جانے کی بجائے اپنے علاقے میں تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ اس یقین پر وار تھا کہ اب مزدوروں اور محنت کش طبقے کو ہسپتال کی سہولت میسر ہوگی اور انہیں بیماری میں کوئٹہ یا کراچی کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی۔
فتنہ الہندوستان کے یہ حملے بلوچستان کی ترقی کو روکنے اور صوبے کو غیر مستحکم کرنے کی واضح کوشش ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کوئی بھی انسان جس کے دل میں بلوچ عوام کی خیرخواہی کا ذرا سا بھی جذبہ ہو، وہ اسکول اور ہسپتال کو آگ کیسے لگا سکتا ہے؟ جو لوگ بلوچستان کے حقوق اور ترقی کا نعرہ لگاتے ہیں، وہ خود بلوچ عوام کی تعلیم اور صحت کے دشمن کیوں بنے ہوئے ہیں؟ یہ تضاد صرف الجھن نہیں، بلکہ ایک کھلا راز ہے جسے اب بلوچستان کے عام شہری بھی سمجھنے لگے ہیں۔
حکومت پاکستان نے بلوچستان میں سرگرم تمام دہشتگرد گروہوں کو سرکاری طور پر فتنہ الہندوستان قرار دیا ہے اور ہندوستان پر ان نام نہاد گروہوں کے ذریعے پراکسی وار چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ محض ایک بیان نہیں، اس کے پیچھے ٹھوس شواہد اور انٹیلی جنس رپورٹس ہیں جو بار بار یہی حقیقت سامنے لاتی ہیں کہ ان خوارج کو باہر سے ایندھن، ہدایات اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔
گواش جیسے دور افتادہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا قیام ویسے بھی ایک کٹھن سفر ہوتا ہے۔ خاران ضلع میں قائم ضلع رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں سکولوں کی سولرائزیشن، نئی ایمبولینسیں اور پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینکوں جیسے منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی تاکہ اس علاقے کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔ اسی تناظر میں انٹرکالج اور لیبر ہسپتال جیسے منصوبے اس خطے کے لیے کسی تحفے سے کم نہ تھے۔ لیکن فتنہ الہندوستان کے خوارج اور دہشتگرد اس تحفے کو بھی برداشت نہ کر سکے۔
31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہونے والے حملوں میں دہشتگردوں نے معصوم شہریوں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مزدوروں کو نشانہ بنایا۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو گواش میں ہسپتال جلاتی ہے اور اسکول تباہ کرتی ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک بلوچ عوام صرف ایک ڈھال ہیں، استعمال کرنے کے لیے، ان کی فلاح کے لیے نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم اور انفراسٹرکچر کے کئی ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور صوبے کو دہشتگردی کے ناسور سے آزاد کرنے کا عزم دہرایا گیا ہے۔ لیکن ہر ترقیاتی قدم کے ساتھ یہ خوارج پیچھے کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گواش کا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق بھارتی ایجنسی "را” فتنہ الہندوستان کو سرپرستی فراہم کر رہی ہے اور دہشتگرد ان کے ایجنڈے کے تحت اپنے ہی لوگوں کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ یہ سوچنے والی بات ہے کہ جو دشمن بلوچستان کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے، وہی ان گروہوں کو کھاد اور پانی دیتا ہے جو بلوچستان کی تعلیمی اور طبی سہولیات کو خاکستر کرتے ہیں۔
بلوچستان کے عوام ذہین ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جو ان کے اسکول جلاتا ہے، وہ ان کا دوست نہیں۔ جو ان کے ہسپتال تباہ کرتا ہے، وہ ان کا بھائی نہیں۔ گواش کے واقعے نے فتنہ الہندوستان کا اصل چہرہ ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ اب بلوچستان کے عوام کو بھی ان خوارج و دہشتگردوں کو مسترد کرنا ہے، صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ اپنے عمل سے، اپنی یکجہتی سے اور اپنی ترقی کی راہ میں قدم جماتے ہوئے۔
گواش کا انٹرکالج اور لیبر ہسپتال دوبارہ تعمیر ہوگا۔ یہ وعدہ نہیں، بلوچستان کے عوام کا حق ہے۔
اور جنہوں نے اسے آگ لگائی، ان کا انجام وہی ہوگا جو ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو اپنے ہی لوگوں کے دشمن بن جائے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔