کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج، اختلاف اور حکومت سے سوال کرنے کا حق بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن یہ حق اس وقت اپنی اخلاقی اور قانونی حیثیت کھونے لگتا ہے جب احتجاج شہریوں کے راستے روکنے، خواتین کو ہراساں کرنے، سرکاری ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنانے، تعلیمی ادارے بند کروانے اور مسلح دباؤ کے ذریعے روزمرہ زندگی مفلوج کرنے میں تبدیل ہو جائے۔ راولاکوٹ اور ضلع پونچھ کے مختلف علاقوں کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات اسی سنگین سوال کو جنم دیتے ہیں۔ اگر یہ واقعات اسی نوعیت میں پیش آئے ہیں جس طرح انتظامیہ نے بیان کیے ہیں تو پھر معاملہ سیاسی احتجاج سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے اور اسے ریاستی نظم، شہری آزادی اور عوامی سلامتی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
سب سے تشویشناک الزام تحصیل ہجیرہ میں خواتین کو راستے میں روکنے اور مبینہ طور پر انہیں نقاب اتار کر شناخت ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کا ہے۔ کسی بھی سیاسی یا احتجاجی سرگرمی کو خواتین کی عزت، نجی زندگی اور آزادانہ نقل و حرکت میں مداخلت کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ اختلاف حکومت سے ہو سکتا ہے، ریاستی پالیسیوں سے ہو سکتا ہے، انتظامیہ سے بھی ہو سکتا ہے، مگر عام شہریوں، خصوصاً خواتین کو دباؤ کا نشانہ بنانا کسی سیاسی مقصد کو جائز نہیں بناتا۔ اگر کسی گروہ کے کارکن لوگوں کی شناخت اپنی مرضی سے چیک کرنے لگیں تو یہ عملی طور پر ریاستی اختیار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
اس سے بھی زیادہ سنگین پہلو راولاکوٹ شہر اور گرد و نواح میں مبینہ مسلح مورچہ بندی کا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق چاندنی چوک سے ڈی چوک، بس ٹرمینل اور تیارمیہ کے قریب مسلح افراد کی موجودگی نے سیکیورٹی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ احتجاجی سیاست میں اسلحہ داخل ہو جائے تو مکالمے کی جگہ خوف لے لیتا ہے۔ بندوق خواہ کسی ریاستی اہلکار کے ہاتھ میں ہو یا کسی غیر ریاستی گروہ کے، اس کے استعمال اور موجودگی کو قانون کے واضح دائرے میں رہنا چاہیے۔ شہری علاقوں میں مسلح افراد کا مورچہ زن ہونا عام لوگوں کے لیے عدم تحفظ کی فضا پیدا کرتا ہے اور کسی معمولی واقعے کو بڑے تصادم میں تبدیل کرنے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ مختلف مقامات پر ناکے لگا کر سڑکیں بند کی گئی ہیں، سرکاری ملازمین کو روکا گیا، ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور بعض کو زدوکوب کیا گیا۔ یہاں ایک اصول واضح رہنا چاہیے۔ سرکاری پالیسی پر تنقید اور سرکاری ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک کلرک، استاد، ڈرائیور، طبی اہلکار یا مقامی سرکاری ملازم ریاستی پالیسی کا خالق نہیں ہوتا۔ اسے صرف اس وجہ سے نشانہ بنانا کہ وہ حکومت کے کسی ادارے سے وابستہ ہے، اجتماعی سزا کی ایک خطرناک شکل بن سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو تعلیمی اداروں کی مبینہ زبردستی بندش ہے۔ راولاکوٹ، تھوراڑ، دریک، حسین کوٹ، چک، کھائیگلہ، بجنوسہ، جھنڈاالی، دو تھان، بن بہک، بگھر، ملی سومہل، سنگولہ، پاینڈول اور جنڈالہ سمیت متعدد علاقوں میں اسکولوں اور کالجوں کی سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیاست میں ایک دن یا ایک ہفتے کی بندش بعض لوگوں کو معمولی معاملہ لگ سکتی ہے، لیکن طالب علم کے لیے تعلیمی وقت واپس نہیں آتا۔ خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں پہلے ہی محدود تعلیمی سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔ ایسے میں خوف، ناکہ بندی یا مسلح دباؤ کے ذریعے تعلیمی ادارے بند کروانا پورے معاشرے کے مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہاں ایک سیاسی تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جو عناصر خود اسکول اور کالج بند کروا رہے ہیں، وہی دھرنوں اور اجتماعات میں تعلیمی بندش کی ذمہ داری حکومت پر ڈال رہے ہیں۔ اس الزام کی آزادانہ اور شفاف جانچ ہونی چاہیے، کیونکہ عوامی رائے کے لیے درست معلومات نہایت ضروری ہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے آدھی سچائی چند منٹ میں مکمل بیانیے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری کسی اور پر ڈال رہی ہے تو اسے بھی جواب دینا چاہیے، اور اگر کوئی گروہ خود بندش کا سبب بن کر الزام حکومت پر منتقل کر رہا ہے تو یہ بھی عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہوگا۔
حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بھی صرف سخت کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ قانون نافذ کرنے کے نام پر اجتماعی سزا، غیر ضروری طاقت، بلاجواز گرفتاریاں یا پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ انتظامیہ کو ہر واقعے کے شواہد محفوظ کرنے چاہئیں، متاثرہ شہریوں کے بیانات لینے چاہئیں، خواتین کے ساتھ مبینہ ہراسگی کے واقعات کی حساس اور غیر جانب دار تحقیقات کرنی چاہئیں اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف انفرادی قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ یہی فرق قانون کی حکمرانی اور انتقامی سیاست کے درمیان قائم کرتا ہے۔
راولاکوٹ اور پونچھ کے عوام نے طویل عرصے سے سیاسی شعور، سماجی شرکت اور عوامی حقوق کی جدوجہد کی ایک مضبوط روایت برقرار رکھی ہے۔ ایسی فضا میں کسی بھی حقیقی عوامی مطالبے کو تشدد، اسلحے، خوف اور تعلیمی بندش کے ساتھ جوڑنا خود اس مطالبے کو کمزور کرتا ہے۔ سیاسی تحریکیں اس وقت طاقت حاصل کرتی ہیں جب عام شہری رضاکارانہ طور پر ان کے ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ اس وقت جب بازار، سڑک، اسکول اور سرکاری دفتر دباؤ کے ذریعے بند کروائے جائیں۔
اس بحران سے نکلنے کا راستہ واضح ہے۔ پرامن سیاسی سرگرمی کو تحفظ دیا جائے، تشدد اور مسلح دباؤ کو بلاامتیاز روکا جائے، خواتین اور طلبہ کو تنازعے سے باہر رکھا جائے، تعلیمی اداروں کو فوری طور پر معمول پر لایا جائے اور تمام فریقوں کو قانون کے ایک ہی معیار کے تحت جواب دہ بنایا جائے۔ اختلاف جمہوریت کی طاقت ہے، مگر خوف جمہوریت کی زبان نہیں۔ اگر احتجاج شہری آزادی کا نام ہے تو اسے دوسروں کی آزادی چھیننے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
Author
-
View all posts
Dr. Shahzaib Khan is a scholar of Political Science whose academic interests span political institutions, governance, public policy, comparative politics, and contemporary political developments. His work examines how states, institutions, and societies respond to evolving domestic and international challenges, with particular attention to political change, decision making, and democratic governance.