Nigah

یو اے ای کی تنبیہ اور نیتن یاہو کی خاموشی

[post-views]

سات اکتوبر 2023 کا حملہ اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے انٹیلی جنس اور سکیورٹی سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً تین سال تک بنیادی سوال یہی رہا کہ اسرائیل جیسا ملک، جو غزہ کی مسلسل نگرانی، جدید انٹیلی جنس نظام، فضائی نگرانی اور انسانی ذرائع پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، اتنی بڑی کارروائی سے مکمل طور پر بے خبر کیسے رہ گیا؟ اب سامنے آنے والی نئی رپورٹنگ نے اس سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ معاملہ محض اس بات تک محدود نہیں رہا کہ انٹیلی جنس ادارے حماس کے ارادوں کو سمجھنے میں ناکام ہوئے۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ آیا اسرائیلی سیاسی قیادت کو بیرونی ذرائع سے ایسی تنبیہات موصول ہوئی تھیں جنہیں مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

ستمبر 2026 میں اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک تحقیق، جس کی تفصیلات ٹائمز آف اسرائیل نے بھی شائع کیں، میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے سات اکتوبر کے حملے سے تقریباً دس روز پہلے بنیامین نیتن یاہو کو متنبہ کیا تھا کہ حماس کے رہنما یحییٰ السنوار کسی بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک اماراتی ذریعے نے بھی اس مبینہ گفتگو کی تصدیق کی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نیتن یاہو نے یہ اطلاع اسرائیلی سکیورٹی قیادت تک اس انداز میں نہیں پہنچائی جس سے خطرے کی نوعیت کا ازسرنو جائزہ لیا جاتا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اس پورے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے گفتگو کی براہ راست تصدیق یا تردید نہیں کی، البتہ یہ کہا کہ دونوں ممالک متعلقہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرتے رہے ہیں۔

یہیں سے معاملہ سیاسی بحث سے بڑھ کر ریاستی احتساب کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر کسی اتحادی یا قریبی علاقائی ریاست کا سربراہ خود کسی ممکنہ بڑے حملے کے بارے میں تشویش ظاہر کرے تو اس اطلاع کی نوعیت معمول کی انٹیلی جنس رپورٹ سے مختلف ہوتی ہے۔ ایسی اطلاع پر سکیورٹی جائزہ، فوجی تیاری، سرحدی تعیناتی اور انٹیلی جنس معلومات کی دوبارہ جانچ ایک فطری ردعمل ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ مبینہ فون کال ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو اس کا مکمل مواد کیا تھا، اسے کس سطح پر ریکارڈ کیا گیا اور بعد میں اسرائیلی فوج اور شن بیت کو کیا بتایا گیا۔

معاملہ صرف متحدہ عرب امارات تک محدود نہیں۔ سات اکتوبر کے فوراً بعد یہ رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں کہ مصر نے اسرائیل کو غزہ سے کسی بڑی پیش رفت کے امکان کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اس وقت کے چیئرمین مائیکل مک کال نے اکتوبر 2023 میں کہا تھا کہ مصر نے اسرائیل کو حملے سے تقریباً تین دن پہلے خبردار کیا تھا، اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وارننگ اسرائیلی نظام میں کس سطح تک پہنچی۔ نیتن یاہو نے اس وقت ایسی پیشگی اطلاع ملنے کی تردید کی تھی۔ حالیہ اسرائیلی رپورٹنگ میں بھی مصری انٹیلی جنس سے آنے والی ایک عمومی وارننگ کا ذکر دوبارہ سامنے آیا ہے۔

اگر متحدہ عرب امارات، مصر اور اسرائیل کے اپنے سکیورٹی حلقوں سے آنے والے مختلف اشاروں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو سات اکتوبر کو محض ایک اچانک واقعہ کہہ کر فائل بند کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجود معلومات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نیتن یاہو حملے کا مکمل منصوبہ جانتے تھے یا انہوں نے دانستہ طور پر اسے ہونے دیا۔ ایسا نتیجہ نکالنے کے لیے بہت زیادہ ٹھوس ثبوت درکار ہوں گے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ نئی رپورٹس ایک آزاد، جامع اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی ضرورت کو کہیں زیادہ اہم بنا دیتی ہیں۔

خصوصاً اس لیے کہ رپورٹ کے مطابق یحییٰ السنوار نے بالواسطہ ذرائع سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں وہ ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہاریٹز سے منسوب رپورٹنگ میں ایسے پیغامات کا ذکر ہے جن میں ایک بڑے جھٹکے یا غیر معمولی کارروائی کی بات کی گئی۔ اگر یہ تفصیلات درست ثابت ہوتی ہیں تو اصل سوال یہ ہو گا کہ اسرائیلی فیصلہ سازوں نے ان اشاروں کو کس تناظر میں پڑھا اور خطرے کے اندازے میں کیا غلطی ہوئی۔

یہ معاملہ نیتن یاہو کی داخلی سیاست کی وجہ سے بھی زیادہ حساس ہے۔ وہ طویل عرصے سے بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری رہی، لیکن یہ کہنا کہ جنگ صرف انہیں سیاسی یا قانونی فائدہ پہنچانے کے لیے شروع یا جاری رکھی گئی، ایک سیاسی تعبیر ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

اس کے باوجود سات اکتوبر کے بعد کے واقعات نے مشرق وسطیٰ کی سیاست کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ غزہ میں تباہ کن جنگ ہوئی، لبنان کی سرحد پر لڑائی پھیلی، شام اور یمن اس وسیع علاقائی تصادم سے متاثر ہوئے اور اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی بھی نئی سطحوں تک پہنچی۔ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں جنگ، نقل مکانی، معاشی تباہی اور مسلسل عدم تحفظ سے متاثر ہوئیں۔ اسی لیے یہ جاننا محض اسرائیل کا داخلی معاملہ نہیں کہ سات اکتوبر سے پہلے کس کے پاس کیا معلومات تھیں۔

اصل سوال کسی ایک نظریے کو ثابت کرنا نہیں بلکہ ذمہ داری کا تعین کرنا ہے۔ اگر نیتن یاہو کو کوئی اہم وارننگ نہیں ملی تو آزاد تحقیقات اسے واضح کر سکتی ہیں۔ اگر وارننگ ملی مگر اسے غلط سمجھا گیا تو فیصلہ سازی کی خامیوں کا تعین ہونا چاہیے۔ اور اگر انتہائی حساس معلومات سیاسی قیادت تک پہنچیں مگر سکیورٹی نظام کو مکمل طور پر منتقل نہیں کی گئیں تو یہ ایک غیر معمولی ریاستی ناکامی ہوگی۔

سات اکتوبر کی پوری حقیقت افواہوں، سیاسی الزامات یا انتخابی بیانات سے نہیں نکلے گی۔ اس کے لیے فون ریکارڈز، سرکاری نوٹس، انٹیلی جنس بریفنگز، کابینہ دستاویزات اور متعلقہ حکام کی شہادتوں تک رسائی رکھنے والی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون سا سیاسی بیانیہ زیادہ پرکشش ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ وارننگ کس کو ملی، اس کے بعد کیا کیا گیا، اور اگر کچھ نہیں کیا گیا تو کیوں نہیں کیا گیا۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب سات اکتوبر کی تاریخ اور اس کے بعد پورے خطے پر مسلط ہونے والی تباہی کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

Author

  • Zubair Gul

    Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔