افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ الزام کہ پاکستان افغانستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا جواز پیدا کر رہا ہے، پاک افغان کشیدگی میں ایک نیا بیانیاتی رخ ضرور ہے، لیکن دستیاب حقائق اس مؤقف کی تائید نہیں کرتے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون جس رفتار سے ادارہ جاتی شکل اختیار کر رہا ہے، وہ اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔ اصل بحث اس مفروضے پر نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کسی دفاعی معاہدے سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، بلکہ اس سوال پر ہونی چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو درپیش عسکریت پسند خطرات کے بارے میں کابل کی موجودہ انتظامیہ کیا قابلِ پیمائش اقدامات کر رہی ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دستخط ہوا۔ سرکاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس کا بنیادی مقصد اجتماعی دفاع، باہمی دفاعی تعاون اور کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا فریم ورک قائم کرنا ہے۔ پاکستان نے بھی واضح کیا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے اصول سے ہم آہنگ ہے۔ یہ پس منظر خود اس تصور کو کمزور کرتا ہے کہ افغانستان میں سرحدی کشیدگی کو مکہ معاہدے سے جان چھڑانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ معاہدہ محض کاغذی اعلان تک محدود نہیں رہا۔ 31 اگست کو استنبول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری قیادت نے اس کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں مستقل سیکرٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہونا ہے اور ابتدائی تین سال کے لیے اس کی قیادت پاکستانی سیکرٹری جنرل کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پھر 23 ستمبر کو پاکستان نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو اس معاہدے کے تحت پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا۔ یعنی جس اتحاد سے پاکستان کے مبینہ طور پر دور ہونے کی بات کی جا رہی ہے، پاکستان اسی کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
اسی لیے زبیح اللہ مجاہد کی دلیل سیاسی طور پر تو ایک جوابی بیانیہ بن سکتی ہے، مگر واقعاتی ترتیب اس کے حق میں مضبوط شہادت فراہم نہیں کرتی۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ تنازع الگ نوعیت کا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحد پار موجود عسکریت پسند نیٹ ورکس اس کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہے ہیں، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور پاکستانی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ ستمبر میں پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کا الزام لگایا، اور اقوام متحدہ نے 21 ستمبر کی کارروائی میں تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی۔ اس لیے شہری نقصان کے الزامات کو محض نظرانداز کرنا درست نہیں، لیکن انہیں مکہ دفاعی معاہدے سے جوڑ دینا ایک الگ اور کہیں زیادہ بڑے دعوے کا متقاضی ہے، جس کے لیے اب تک معتبر ثبوت سامنے نہیں آئے۔
دوسری طرف ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی کے معاملے پر طالبان کا مکمل انکار بھی بین الاقوامی رپورٹنگ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اقوام متحدہ کی فروری 2026 کی مانیٹرنگ رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان حکام ملک میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے انکار کرتے رہے، لیکن کسی رکن ریاست نے اس مؤقف کی حمایت نہیں کی۔ اسی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کو افغانستان میں زیادہ آزادی اور سہولت حاصل رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف اس کے حملوں میں اضافہ ہوا۔ دسمبر 2025 کی اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی تعداد تقریباً چھ ہزار بتائی گئی اور اس کے عناصر کی موجودگی خوست، کنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور پکتیا میں بیان کی گئی۔ ان رپورٹس کی موجودگی میں محض یہ کہنا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی موجود ہی نہیں، سوالات ختم کرنے کے بجائے مزید پیدا کرتا ہے۔
ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن کا حالیہ دورہ بھی طالبان طرز حکمرانی کے ایک اور پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ کالن کابل سے قندھار گئے اور وہاں گورنر محمد شیرین اخوند سے ملاقات کی، لیکن ہبت اللہ اخوندزادہ سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر غیر ملکی حکام سے بہت کم ملاقات کرتے ہیں اور فیصلہ سازی کا ایک بڑا حصہ قندھار میں مرتکز ہے۔ اس واقعے کو طالبان کے اندر کسی مخصوص ’’ٹوٹ پھوٹ‘‘ کا قطعی ثبوت کہنا مشکل ہوگا، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ کابل میں قائم انتظامی ڈھانچے اور قندھار میں موجود اعلیٰ مذہبی قیادت کے درمیان اختیار کی تقسیم عام ریاستی نظاموں سے مختلف اور خاصی غیر شفاف ہے۔
افغانستان کی موجودہ قیادت کے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اپنے دفاعی تعلقات کس شکل میں منظم کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین سے منسلک مسلح گروہوں کے بارے میں دنیا اور خصوصاً اپنے ہمسایوں کو کس حد تک قابلِ اعتماد یقین دہانی کرا سکتا ہے۔ جب اقوام متحدہ کی رپورٹس ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور اسے حاصل سہولتوں کا ذکر کرتی ہوں، تو اس بحث کو کسی تیسرے دفاعی معاہدے کی طرف موڑ دینا بنیادی سوال کا جواب نہیں بنتا۔
پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے موجودہ کشیدگی کا عسکری پھیلاؤ خطرناک ہے۔ شہری ہلاکتیں ہوں تو ان کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، خودمختاری کے اصول کا احترام بھی ضروری ہے، اور سرحد پار دہشت گردی کے معتبر الزامات کا جواب محض تردید سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آنا چاہیے۔ کابل کو یہ دکھانا ہوگا کہ افغان سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف مسلح سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی، جبکہ اسلام آباد کو اپنی ہر کارروائی کو بین الاقوامی قانون، تناسب اور شہری تحفظ کے اصولوں کے مطابق ثابت کرنا ہوگا۔
مکہ دفاعی معاہدے کو اس تنازع میں کھینچنا اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اس اتحاد کو ختم نہیں بلکہ ادارہ جاتی شکل دے رہے ہیں۔ سیکرٹریٹ، سیکرٹری جنرل اور اعلیٰ سطحی دفاعی کمیٹی کا قیام اسی سمت کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس لیے زبیح اللہ مجاہد کا حالیہ بیانیہ پاکستان کی دفاعی وابستگی سے زیادہ افغانستان کے اپنے سلامتی کے سوالات پر بحث کو دوسری طرف موڑتا دکھائی دیتا ہے۔ خطے کو الزام در الزام کی نہیں، بلکہ ایسے قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت ہے جو دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد کو واقعی کم کر سکیں۔
Author
-
View all postsProfessor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.