حسین حقانی کا حالیہ مضمون، جو ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں ایران پر امریکی پابندیوں اور متبادل تجارتی راستوں کے موضوع پر شائع ہوا، کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کسی بھی سنجیدہ پالیسی تجزیے کی بنیاد جغرافیہ، نقل و حمل کی حقیقی صلاحیت، تجارتی حجم اور موجودہ زمینی حالات ہونے چاہییں۔ لیکن پاکستان کو ایران کے لیے امریکی پابندیوں سے بچنے والے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش اس وقت کمزور دکھائی دیتی ہے جب خود مضمون میں بیان کیے گئے اعداد و شمار اور خطے کے عملی حالات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے۔ ہڈسن کے مضمون میں ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار چین، عراق اور ترکی بتائے گئے ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ تجارت کو نسبتاً محدود قرار دیا گیا ہے۔
یہاں سب سے پہلا مسئلہ تناسب کا ہے۔ مضمون کے مطابق چین ایران کا سب سے اہم اقتصادی شراکت دار رہا ہے اور ایرانی تیل کی بہت بڑی مقدار چینی منڈی تک پہنچتی رہی ہے۔ عراق اور ترکی کے ساتھ ایران کی تجارت بھی اربوں ڈالر پر مشتمل ہے۔ اسی تحریر میں پاکستان ایران تجارت کے لیے 3.13 ارب ڈالر کا عدد پیش کیا گیا ہے اور اسے نسبتاً محدود حجم بھی کہا گیا ہے۔ اس کے باوجود بعد میں پاکستان کو ایران کی پابندیوں سے بچنے کی حکمت عملی میں ایک نمایاں کردار دینے سے ایک ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے جو خود پیش کیے گئے تجارتی تناسب سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتا۔
مزید اہم سوال وسطی ایشیا کا ہے۔ پاکستان کی وسطی ایشیا تک براہ راست زمینی سرحد موجود نہیں۔ روایتی زمینی رسائی افغانستان سے ہو کر جاتی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے بعد بڑی سرحدی گزرگاہیں تجارت کے لیے بند ہوئیں اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ شدید متاثر ہوئی۔ جنوری 2026 تک ہزاروں کنٹینرز پاکستانی بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے تھے۔ جولائی 2026 کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ تاریخی کم ترین سطح تک گر چکی تھی۔
یہ زمینی حقیقت اس دعوے کو کم از کم مزید وضاحت کا محتاج بناتی ہے کہ ایران پاکستان کے راستے وسطی ایشیا کے لیے کوئی مضبوط اور مسلسل تجارتی راہداری قائم کر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان خود افغانستان کا راستہ محدود ہونے کے بعد وسطی ایشیا تک اپنی بعض برآمدات ایران کے راستے بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جون 2026 کی رپورٹنگ کے مطابق یہ راستہ موجود ضرور ہے لیکن طویل فاصلے کی وجہ سے تجارت کا حجم محدود ہے۔ یعنی عملی تصویر یہ بھی دکھاتی ہے کہ بعض صورتوں میں پاکستان ایران کو وسطی ایشیا سے جوڑنے کے بجائے خود ایران کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
چین کے حوالے سے دعویٰ مزید جغرافیائی جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان واحد زمینی رابطہ خنجراب پاس کے ذریعے ہے۔ یہ بلند پہاڑی راستہ تجارتی اعتبار سے فعال ضرور ہے لیکن اس کی استعداد سمندری بندرگاہوں یا بڑی بین الاقوامی ریل راہداریوں سے یکسر مختلف ہے۔ مارچ 2026 تک خنجراب کے راستے چین سے پاکستان آنے والی 1,774 کھیپیں کلیئر کی گئی تھیں۔ یہ سرگرمی اہم ہے مگر اسے ایران اور چین کے وسیع تجارتی تعلق کا بنیادی ستون سمجھنا مشکل ہے۔
مزید یہ کہ ہڈسن کے اسی مضمون میں تسلیم کیا گیا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان بنیادی زمینی تجارتی رابطے وسطی ایشیا کی ریلوے لائنوں سے گزرتے ہیں۔ چین کے یی وو اور شی آن جیسے شہروں سے مال قازقستان اور ترکمانستان کے ذریعے براہ راست ایران پہنچ سکتا ہے۔ یہ راستہ پاکستان میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ اسی مضمون میں بعد ازاں یہ کہنا کہ ایران اور چین کے بہت سے نقل و حمل کے رابطے پاکستان سے گزرتے ہیں، خود اسی تحریر کے پہلے بیان کردہ جغرافیائی نقشے کے ساتھ سوال پیدا کرتا ہے۔
اگر کوئی چینی کارگو خنجراب کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو اور پھر ایران جانا چاہے تو اسے شمالی پاکستان سے پورا ملک عبور کرتے ہوئے بلوچستان اور تفتان تک جانا پڑے گا۔ یہ طویل، مہنگا اور لاجسٹک اعتبار سے پیچیدہ سفر ہے۔ بڑے حجم کی چین ایران تجارت کے لیے اس راستے کو مرکزی راہداری سمجھنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ کتنے کنٹینرز حقیقتاً اس مکمل روٹ پر سفر کر رہے ہیں، ان کی مالیت کیا ہے اور وہ مجموعی چین ایران تجارت کا کتنے فیصد بنتے ہیں۔ محض کسی راستے کا نقشے پر موجود ہونا اس کے بڑے پیمانے پر استعمال کا ثبوت نہیں ہوتا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قانونی تجارت، ٹرانزٹ سہولت اور پابندیوں سے دانستہ بچنے کی کارروائی میں فرق رکھا جائے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت، بارٹر میکانزم اور ضروری اشیا کی نقل و حرکت کئی معاشی اور انسانی ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کو خود بخود امریکی پابندیوں سے بچنے کی مربوط حکمت عملی قرار دینے کے لیے مخصوص شواہد درکار ہوتے ہیں۔ ہڈسن کی تحریر بعض قانونی اور انتظامی اقدامات کو وسیع تر پابندی شکن نظام کے ساتھ جوڑتی ہے، مگر اس تعلق کی مقدار اور عملی اہمیت واضح اعداد و شمار کے ساتھ ثابت نہیں کرتی۔
حسین حقانی کی تحریر میں ایک قابل بحث بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ ایران واقعی مختلف زمینی، سمندری، مالی اور علاقائی راستوں کے ذریعے بیرونی دباؤ کے اثرات کم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ روس، چین، ترکی، عراق، وسطی ایشیا اور بحیرہ کیسپین اس بڑی تصویر کا حصہ ہیں۔ پاکستان بھی ایران کا ہمسایہ ہے اور دونوں کے درمیان تجارت ہوتی ہے۔ مگر اس حقیقت سے یہ نتیجہ لازماً اخذ نہیں ہوتا کہ پاکستان ایران کے لیے چین اور وسطی ایشیا تک رسائی کا کلیدی راستہ بن چکا ہے۔
پالیسی تجزیے میں نقشے کا فاصلہ، سرحد کی حالت، ٹرانزٹ کی گنجائش، کنٹینرز کی تعداد اور حقیقی تجارتی حجم سب اہم ہوتے ہیں۔ انہی پیمانوں پر دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار موجود ضرور ہے، لیکن اسے اس حجم اور اہمیت سے پیش کرنا جس سے ایران کے پابندیوں سے بچنے کے نظام کا مرکزی ستون ہونے کا تصور پیدا ہو، دستیاب شواہد سے کہیں زیادہ بڑا دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ ایک معتبر تجزیے کو مفروضے سے نہیں بلکہ قابل پیمائش زمینی حقائق سے شروع ہونا چاہیے۔