Nigah

دین اخلاص کا نام ہے

[post-views]

اسلام میں عبادت، قیادت اور خدمت کی اصل بنیاد اخلاص ہے۔ کسی عمل کی ظاہری شکل جتنی بھی مذہبی کیوں نہ ہو، اگر اس کے پیچھے شہرت، طاقت، دولت، سیاسی غلبہ یا لوگوں پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی خواہش موجود ہو تو اس عمل کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نیت کو صرف ایک ذاتی کیفیت نہیں سمجھا بلکہ اسے کردار، عمل اور اخلاقی ذمہ داری سے جوڑا ہے۔ دین انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مذہب کو استعمال کرنے کی۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو معمولی دنیاوی فائدے کے بدلے فروخت کرنے سے روکا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 41 کا مفہوم صرف مالی فائدے تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس میں ایک وسیع اخلاقی سبق موجود ہے۔ جب مذہبی الفاظ، مقدس تصورات یا جذبات کو ذاتی مفاد، سیاسی اثر، سماجی حیثیت یا گروہی طاقت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو دین اپنی اصل دعوت سے ہٹ کر ایک ذریعہ بننے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت اور نمائش کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یہ تعلیم اسلامی اخلاقیات کا بنیادی اصول ہے۔ کسی شخص کا لباس، زبان، مذہبی اصطلاحات یا بلند آہنگ دعوے اس کی نیت کا حتمی ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ کیا ہے۔ اگر مذہب کے نام پر نفرت، خوف، تشدد، بدلہ، شخصیت پرستی یا اندھی اطاعت پیدا کی جا رہی ہو تو صرف مذہبی نعرہ اس طرز عمل کو درست نہیں بنا سکتا۔

اسلام نے دکھاوے کی عبادت کو بھی سخت ناپسند کیا ہے۔ سورۃ الماعون میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھیں۔ یہ تعلیم آج کے دور میں پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا نے مذہبی اظہار کو وسیع کیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ مذہبی نمائش کے نئے راستے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ چند منٹ کی تقریر، جذباتی ویڈیو، مخصوص لباس یا سخت لہجہ بعض اوقات علمی گہرائی اور دینی کردار کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے۔

مذہبی قیادت کا اصل امتحان مقبولیت نہیں بلکہ کردار ہے۔ ایک مخلص عالم یا داعی لوگوں کو اپنے ساتھ باندھنے کے بجائے انہیں اصولوں، علم اور اخلاق سے جوڑتا ہے۔ وہ سوالات سے خوفزدہ نہیں ہوتا، اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا اور اپنی شخصیت کو دین سے بڑا نہیں بناتا۔ اس کے برعکس جب کسی شخصیت کے گرد ایسی فضا پیدا ہو جائے جہاں ہر تنقید کو مذہب دشمنی قرار دیا جائے تو وہاں فکری اور اخلاقی خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

قرآن مجید سورۃ النجم میں انسان کو اپنی پاکیزگی اور برتری کے دعوے سے روکتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ حقیقی تقویٰ کس کے اندر ہے۔ یہ اصول مذہبی سیاست اور مذہبی قیادت دونوں کے لیے اہم ہے۔ کوئی فرد یا گروہ صرف اس بنیاد پر ناقابل سوال نہیں بن جاتا کہ وہ مذہبی زبان استعمال کرتا ہے۔ اس کے طریقہ کار، مالی معاملات، سیاسی مقاصد، پیروکاروں کے ساتھ رویے اور معاشرے پر اثرات کا جائزہ لینا ایک جائز اور ضروری عمل ہے۔

دین کی حقیقی طاقت یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ وہ طاقتور کو انصاف، عالم کو عاجزی، حکمران کو جواب دہی اور عام شہری کو دیانت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر مذہب کے نام پر لوگوں کو خوف زدہ کیا جائے، اختلاف کرنے والوں کو خاموش کرایا جائے یا تشدد کو روحانی رنگ دیا جائے تو یہ دینی اصلاح نہیں بلکہ مذہبی اختیار کا غلط استعمال بن جاتا ہے۔

خاص طور پر نوجوانوں کے لیے یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ آج مذہبی مواد تک رسائی بہت آسان ہے، لیکن ہر مقبول مقرر مستند عالم نہیں اور ہر پرجوش تقریر متوازن دینی رہنمائی نہیں ہوتی۔ نوجوانوں کو کسی بھی مذہبی پیغام کو اس کے علم، دلیل، اخلاق اور عملی اثرات کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔ سورۃ النحل کی آیت 125 حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینے کی تعلیم دیتی ہے۔ حکمت ہمیشہ جذباتی اشتعال، توہین یا خوف سے مختلف ہوتی ہے۔

اسی طرح قرآن انصاف کو بھی بنیادی معیار قرار دیتا ہے۔ سورۃ المائدہ کی آیت 8 میں واضح کیا گیا ہے کہ دشمنی بھی انسان کو انصاف سے نہ ہٹائے۔ یہ ایک بہت مضبوط اصول ہے۔ اگر کوئی شخص مذہب کے نام پر دوسروں کے حقوق پامال کرے، بے گناہ انسانوں کے خلاف نفرت پیدا کرے یا ظلم کو جائز قرار دے تو اس کا دعویٰ خواہ کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو، اس کے عمل کو اسلامی اخلاقی معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔

اسلام شخصیت پرستی کے بجائے اصولوں کی پیروی سکھاتا ہے۔ کسی رہنما، خطیب، گروہ یا تنظیم کو اس مقام پر لے جانا جہاں اس کی ہر بات کو دین سمجھ لیا جائے، خود دینی شعور کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک صحت مند مذہبی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں علم کی قدر ہو، سوال کی گنجائش ہو، اختلاف میں ادب ہو اور لوگوں کی جان، عزت اور وقار محفوظ ہوں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی گفتگو کو شہرت، سیاسی غلبے اور ذاتی مفاد سے الگ رکھا جائے۔ دین کا مقصد انسانوں پر شخصی اقتدار قائم کرنا نہیں بلکہ انسان کے اندر تقویٰ، عدل، رحم اور ذمہ داری پیدا کرنا ہے۔ مخلص مذہبی قیادت وہ ہے جو اپنے لیے کم اور معاشرے کے لیے زیادہ سوچے۔

آخرکار، ایمان کی سب سے مضبوط علامت بلند آواز دعویٰ نہیں بلکہ خاموش کردار ہے۔ سچی دینداری خودنمائی نہیں مانگتی، نہ ہی اسے خوف اور جبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو دین دل میں اخلاص، معاشرے میں انصاف اور انسان کے رویے میں رحمت پیدا کرے، وہی اپنی اصل روح کے قریب ہے۔ مذہب اگر خدمت اور اصلاح کا ذریعہ رہے تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب اسے دنیاوی حیثیت اور اقتدار کا زینہ بنایا جائے تو نقصان صرف سیاست کو نہیں بلکہ خود مذہب کی اخلاقی ساکھ کو بھی پہنچتا ہے۔

Author

  • Dr. Muhammad Sudais

    Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔