Nigah

سرحد پار دہشت گردی اور افغان تعلق

[post-views]

پاکستان کے لیے دہشت گردی کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے واضح سرحد پار پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ 5 اکتوبر کو ضلع کرم میں فتنہ الخوارج کے خلاف سکیورٹی آپریشن کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں میں افغان شہریوں کی شناخت نے ایک بار پھر اس بحث کو تقویت دی ہے کہ پاکستان کے خلاف سرگرم بعض دہشت گرد نیٹ ورکس کو افغانستان سے افرادی قوت، نقل و حرکت اور سماجی سطح پر ایسی سہولت میسر ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ مارے جانے والے افراد میں سیف اللہ عرف سیف اللہ جمشید ولد تجلی، سکنہ جانی خیل پکتیا، اور عمر فدائی شامل تھے۔ ان کی افغان شہریت کی تصدیق اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اب تک 257 سے زائد افغان شہری ایسے واقعات میں شناخت کیے جا چکے ہیں جن میں دہشت گردی کی کارروائیاں پاکستان کے اندر انجام دی گئیں۔

یہ مسئلہ کسی قوم یا پورے معاشرے کو مورد الزام ٹھہرانے کا نہیں۔ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور خاندانی روابط بھی گہرے ہیں۔ اصل تشویش ان افراد اور نیٹ ورکس سے ہے جو افغان سرزمین یا افغان شناخت کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اگر ایک مخصوص تعداد میں افغان شہری مسلسل ایسے حملوں، خودکش کارروائیوں یا عسکریت پسند تنظیموں سے منسلک پائے جا رہے ہیں تو اسے محض اتفاق کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کرم آپریشن کے بعد سامنے آنے والی ایک اور تفصیل نے معاملے کو مزید سنجیدہ بنا دیا۔ اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے دہشت گردوں کے لیے افغانستان میں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ جانی خیل کے علاقے رباط میں سیف اللہ کے لیے ہونے والے اجتماع میں فتنہ الخوارج کے پرچموں والے پوسٹر بھی نمایاں طور پر آویزاں تھے۔ اگر کسی ایسے شخص کو، جو ایک ہمسایہ ملک میں دہشت گردی کے دوران مارا گیا ہو، اپنے آبائی علاقے میں بطور قابل احترام کردار پیش کیا جائے تو یہ صرف ایک جنازہ یا تعزیتی اجتماع نہیں رہتا بلکہ ایک مخصوص عسکریت پسندانہ بیانیے کی سماجی قبولیت کی علامت بن جاتا ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں صرف بندوق اور گولی کے سہارے زندہ نہیں رہتیں۔ انہیں نظریاتی حمایت، محفوظ پناہ گاہ، بھرتی کے ذرائع، مالی مدد، سہولت کاروں، نقل و حرکت کے راستوں اور سماجی جواز کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی دہشت گرد کی موت کے بعد اس کی کھلے عام تشہیر یا تعظیم دراصل اسی ماحولیاتی ڈھانچے کا حصہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر نیٹ ورک اور سہولت کاری کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ سکیورٹی فورسز مسلسل آپریشنز کر رہی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر دہشت گرد سرحد پار سے آتے رہیں، حملہ کریں، مارے جائیں اور پھر افغانستان میں ان کی یاد میں اجتماعات منعقد ہوں، تو صرف پاکستان کے اندر کارروائیاں اس مسئلے کا مستقل حل کیسے بن سکتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی تبھی ممکن ہے جب سرحد کے دونوں جانب موجود پورے نیٹ ورک کو توڑا جائے۔

افغان طالبان حکومت بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ ایک اہم اعلان ہے، مگر اب اصل ضرورت عملی اقدامات کی ہے۔ اگر پاکستان ایسے افراد کے نام، شناخت، علاقوں اور تنظیمی وابستگی کے شواہد پیش کرتا ہے تو کابل پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان معلومات کی سنجیدہ تحقیقات کرے۔ صرف الزام مسترد کر دینا کافی نہیں، کیونکہ ہر نیا واقعہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ کر رہا ہے۔

اس صورتحال کا ایک سفارتی پہلو بھی ہے۔ پاکستان اب دہشت گردی کے افغان پہلو کو صرف دو طرفہ مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے علاقائی فورمز پر بھی اٹھا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام آباد اس خطرے کو ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد گروہ پاکستان، وسطی ایشیا یا دیگر ریاستوں کے لیے خطرہ بنتے رہے تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔

پاکستان کو بھی اپنی پالیسی میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ افغان شہریوں کی مجموعی آبادی کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف غلط ہوگا بلکہ یہ پاکستان کے اپنے سکیورٹی مفادات کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ اصل توجہ مشتبہ افراد، سہولت کاروں، غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور تنظیمی روابط پر ہونی چاہیے۔ جدید بائیومیٹرک نظام، سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور منظم قانونی کارروائی اس سلسلے میں زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتے ہیں۔

افغانستان کے حکام کے سامنے بھی ایک واضح انتخاب ہے۔ اگر وہ عالمی اور علاقائی سطح پر ایک ذمہ دار ریاستی نظام کے طور پر قبولیت چاہتے ہیں تو انہیں ایسے تمام عناصر کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے جو افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنا، بھرتی کے مراکز بند کرنا، انتہا پسندانہ تشہیر محدود کرنا اور سرحد پار حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

کرم آپریشن میں افغان شہریوں کی شناخت ایک واقعہ سے بڑھ کر ایک انتباہ ہے۔ یہ اس بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے اب مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سرحد کے دونوں اطراف امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف اسلام آباد اور کابل کے تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی سلامتی، تجارت اور استحکام متاثر ہوگا۔

آج ضرورت الزام تراشی سے زیادہ ذمہ داری کی ہے۔ پاکستان کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھنے چاہییں، جبکہ افغان حکام کو ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی سرزمین واقعی کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ راستہ ہے جو دونوں ممالک کو مسلسل تصادم کے بجائے ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Author

  • Dr. Muhammad Sudais

    Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔