Nigah

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف بڑھتی مزاحمت

طالبان رجیم کا بحران: مزاحمت، جبر اور افغان عوام
[post-views]

 

افغانستان میں وہ لوگ جو طالبان رجیم کو "امن کا ضامن” کہتے نہیں تھکتے، انہیں ایک بار اکتوبر 2026 کے اس تازہ ترین ڈیٹا پر نظر ڈالنی چاہیے جو زمینی حقیقت کی بالکل الگ تصویر پیش کرتا ہے۔ محض گیارہ دن کے عرصے میں، یعنی 7 سے 18 اکتوبر کے درمیان، افغانستان کے 12 صوبوں میں 18 سے زائد بڑی مزاحمتی کارروائیاں ہوئیں۔ 38 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں کئی کمانڈر بھی شامل تھے۔ سکیورٹی چوکیاں تباہ ہوئیں، انٹیلی جنس اہلکار نشانہ بنے، عسکری گاڑیاں جلائی گئیں۔ یہ کوئی چھٹ پٹ واقعات نہیں۔ یہ ایک منظم، پھیلتی اور گہری ہوتی ہوئی مزاحمت کی علامات ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟

جواب بہت سادہ ہے، اگرچہ اسے سمجھنے کے لیے کچھ ایمانداری درکار ہے۔ طالبان رجیم نے پانچ سال میں نہ صرف عوام کو سیاسی عمل سے باہر رکھا، بلکہ ایک ایسا نظام قائم کیا جس میں لڑکیاں 12 سال کی عمر کے بعد تعلیم سے محروم ہیں، اور اقوام متحدہ کے سینئر اہلکاروں نے افغانستان میں انسانی حقوق کے سنگین بحران کا اعلان کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان نے خواتین کے کام کرنے، آزادانہ نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر وسیع پیمانے پر پابندیاں لگائی ہیں، جن کا مقصد سماجی کنٹرول اور اختلاف رائے کو دبانا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ اگرچہ جنگ کا دور ختم ہو گیا ہے، لیکن یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ کیا واقعی امن ہے۔ انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے لیے۔ دستاویز کردہ خلاف ورزیوں میں من مانی گرفتاریاں، تشدد، ماورائے عدالت قتل، جسمانی سزائیں، جبری گمشدگیاں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر حملے، نسلی و مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، اور شہری آزادیوں کا سکڑنا شامل ہے۔

جب جبر اتنا گہرا ہو تو مزاحمت لازمی نتیجہ ہے۔

اکتوبر 2026 کے حملوں کا جغرافیہ خود بہت کچھ بتاتا ہے۔ قندھار اور ہلمند، جنہیں طالبان رجیم کے "مضبوط قلعے” کہا جاتا ہے، وہاں بھی افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (AUF) نے کارروائیاں کیں۔ ارغنداب میں کمانڈر سطح کے اہلکار ہلاک ہوئے، اسپن بولدک میں تین چوکیاں ایک ہی دن تباہ ہوئیں۔ لوگر میں انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے قریب حملہ ہوا۔ بغلان اور پنجشیر میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) نے کارروائیاں کیں۔ ہرات، ننگرہار، فراہ، وردگ، بادغیس اور بامیان تک یہ سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مسلح مزاحمتی گروہوں نے مئی اور جولائی کے درمیان 21 صوبوں میں 88 حملوں کا دعویٰ کیا۔ یعنی یہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے جو مہینوں سے جاری ہے اور اب تیز ہو رہا ہے۔

مزاحمتی تحریک کے چھٹے سال میں داخل ہونے کے بعد، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) میدانِ جنگ میں سب سے زیادہ سرگرم گروہ ہیں، جبکہ متعدد دیگر چھوٹے گروہ بھی پورے افغانستان میں کارروائیوں کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جنرل سامی سدات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے مسلح مہم کا اعلان کیا ہے، جبکہ جنرل یاسین ضیا کی افغانستان فریڈم فرنٹ نے بھی مزاحمتی کارروائیاں تیز کرنے کا عہد کیا ہے۔

طالبان رجیم کا روایتی جواب یہ ہے کہ ایسی کوئی مزاحمت موجود ہی نہیں۔ طالبان اندرونِ افغانستان کسی بھی منظم مسلح اپوزیشن کی موجودگی یا صلاحیت کی باضابطہ طور پر نفی کرتے رہے ہیں۔ لیکن اکتوبر کے یہ واقعات اس دعوے کو کھوکھلا ثابت کرتے ہیں۔ جب 12 صوبوں میں 11 دن کے اندر درجنوں کارروائیاں ہوں تو انکار کی یہ پالیسی کسی کو قائل نہیں کرتی، نہ بین الاقوامی برادری کو، نہ افغان عوام کو۔

تاہم یہاں ایک اہم پہلو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ بڑھتی ہوئی مزاحمتی تنظیموں کی تعداد کے باعث میدانِ عمل ایسے گروہوں سے بھر سکتا ہے جن میں کوئی مشترکہ سیاسی یا فوجی حکمتِ عملی نہ ہو۔ ایک موثر مزاحمت محض بندوق کی طاقت سے نہیں، بلکہ سیاسی وژن، عوامی اعتماد اور بین الاقوامی حمایت سے بنتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹنگ کے مطابق، ابھی کوئی بھی مزاحمتی گروہ علاقہ کنٹرول نہیں کرتا اور طالبان کی علاقائی بالادستی کو کوئی قابلِ ذکر چیلنج درپیش نہیں ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ مزاحمت ہے، لیکن فیصلہ کن نہیں۔ جبر ہے، لیکن اقتدار ابھی قائم ہے۔

افغانستان کا اصل المیہ یہ ہے کہ وہاں نہ جنگ مکمل طور پر ختم ہوئی ہے، نہ امن حقیقی معنوں میں آیا ہے۔ کروڑوں افغان عوام، خاص طور پر خواتین، نوجوان اور اقلیتیں، ایک ایسے نظام کے تلے زندگی گزار رہے ہیں جو انہیں شہری نہیں بلکہ محکوم سمجھتا ہے۔ افغانستان کا انسانی بحران بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے کیونکہ عطیہ دینے والے ممالک نے امداد میں کمی کر دی ہے، جبکہ تقریباً 40 فیصد آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

مزاحمت کی آگ جتنی مضبوط طاقت کے ساتھ اکتوبر 2026 میں جل رہی ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ افغان عوام نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ وہ عزت چاہتے ہیں، نمائندگی چاہتے ہیں، اور اپنے بنیادی حقوق چاہتے ہیں۔ کوئی بھی رجیم جو اپنے ہی عوام کو اتنی بڑی تعداد میں اپنے خلاف کر لے، وہ نہ تاریخ کے سامنے جواز دہ ہے اور نہ مستقبل کے سامنے۔

Author

  • Dr. Abbas Ahmed

    Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔