پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کم ہی ایسے لمحات آئے ہیں جنہیں واقعی تاریخی کہا جا سکے۔ مکہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان دستخط ہونے والا "مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ یہ تین ملکوں کا وہ اتحاد ہے جس میں پاکستان اپنی وسیع عسکری استعداد اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کی حیثیت سے، سعودی عرب اپنے معاشی وسائل اور علاقائی اثر و رسوخ کے ساتھ، اور نیٹو کا رکن ترکیہ اپنی بڑی فوج اور تیزی سے ترقی کرتی ملکی دفاعی صنعت کے ساتھ شامل ہے۔ اس معاہدے کو لے کر پاکستان میں جو بحث چھڑی ہے، وہ محض قانونی نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا گہرا رنگ بھی نظر آتا ہے۔
پہلے ذرا اس معاہدے کے پس منظر پر نظر ڈالیں۔ پاکستان اور سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025 کو وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے موقع پر اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ملکوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اس کے بعد نئے مکہ معاہدے کی نوعیت قدرے مختلف ہے پہلا معاہدہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی پر مرکوز تھا، جبکہ نئی دستاویز ہتھیاروں کی مشترکہ پیداوار کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی سعودی عرب کے فنڈز، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی جنگی صلاحیتوں کو یکجا کرنا۔
پاکستان نے مئی میں تقریباً آٹھ ہزار فوجی سعودی عرب روانہ کیے اور JF17 لڑاکا طیارے، ڈرون اور چینی HQ9 فضائی دفاعی نظام بھی منتقل کیے۔ یعنی یہ محض کاغذی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک فعال اور زندہ شراکت ہے جو زمین پر جاری ہے۔ یہ اتحاد ایران اور حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے سامنے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ایک مضبوط سکیورٹی محور قائم کر رہا ہے۔
اب آئیے اس قانونی تنازع کی طرف جو اس معاہدے کے گرد پیدا ہوا ہے۔ مطیع اللہ جان نے اپنی پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ یہ معاہدہ پارلیمنٹ سے منظور کیوں نہیں کروایا گیا اور ترکیہ کی مثال دے کر استدلال کیا کہ وہاں پارلیمنٹ ہی ایسے معاہدوں کو منظوری دیتی ہے۔ یہ بات سننے میں جمہوری اور قابلِ فہم لگتی ہے، لیکن آئینی حقیقت مختلف ہے۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کی توثیق کی۔ اور یہ محض رسمی کارروائی نہیں تھی، بلکہ آئینِ پاکستان کے عین مطابق تھی۔ آرٹیکل 90 اور 97 کے تحت اور Rules of Business کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کا آئینی اختیار وفاقی کابینہ کے پاس ہے، پارلیمنٹ کے پاس نہیں۔ ترکیہ کے آئین میں معاہدوں کی منظوری پارلیمنٹ کے ذریعے ہوتی ہے لیکن پاکستان کا آئینی ڈھانچہ مختلف ہے اور دونوں کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک ملک کے قانون کو دوسرے پر لاگو کرنے کی کوشش کی جائے۔
اگرچہ بہت سے ممالک میں معاہدوں کی توثیق کا اختیار حکومت کی ایگزیکٹو شاخ کو حاصل ہوتا ہے، تاہم کئی ممالک نے معاہدہ سازی کے عمل میں کسی نہ کسی سطح پر پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔
یہ ایک جائز بحث ہے اور پاکستان میں بھی "Ratification of Foreign Agreements by Parliament Bill” پر بحث ہو چکی ہے۔ لیکن آج کی بات یہ ہے کہ جو قانون موجود ہے، اس کے مطابق کابینہ کی منظوری مکمل اور درست عمل ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ معاہدہ چھپایا گیا۔ یہ الزام حقیقت کے خلاف ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ تینوں ممالک کی باہمی رضامندی سے معاہدے کا متن عام کیا گیا۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خود اس معاہدے کی اہمیت کا ذکر کیا اور بتایا کہ کئی عرب اور مسلم ممالک بھی اسی نوعیت کا معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ جو چیز چھپائی جائے وہ ایوان میں بیان نہیں کی جاتی۔
اس معاہدے کا مقصد خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص ایران سے متعلق صورتحال کے تناظر میں دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا ہے اور یہ موجودہ معاہدوں کی جگہ نہیں لیتا۔ یعنی یہ اتحاد نیٹو کا متبادل نہیں، بلکہ ایک نیا اور اضافی سکیورٹی فریم ورک ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس تمام شور و غوغا سے پاکستان کو کیا ملتا ہے؟ ہر بار جب پاکستان کوئی دیرپا اور وزنی سفارتی قدم اٹھاتا ہے تو اندرونی سیاسی گروہ اسے متنازع بنانے میں لگ جاتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ دشمن اس اندرونی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے دشمن چاہے وہ سرحد پار بیٹھے ہوں یا ملک کے اندر فتنہ پھیلانے والے کھارجی اور دہشت گرد ہوں ہمیشہ اس وقت سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جب ہم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔
صحافت کا فرض ہے کہ سوال اٹھائے، جواب طلب کرے، آئینی و قانونی پیچیدگیوں کو عوام کے سامنے رکھے۔ لیکن جب سوال اٹھانے کا مقصد حقیقت جاننا نہیں بلکہ سنسنی پھیلانا ہو، جب ترکیہ کے آئین کو پاکستان پر لاگو کر کے الجھن پیدا کی جائے، جب کابینہ کی قانونی منظوری کو "چھپانے” کا نام دیا جائے تو یہ صحافت نہیں رہتی، یہ بدنیتی بن جاتی ہے۔
پاکستان نے جو قدم اٹھایا ہے وہ کسی ایک حکومت کی کامیابی نہیں، یہ پوری قوم کی کامیابی ہے۔ کئی ممالک اب پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے کرنا چاہتے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا مقام بین الاقوامی سطح پر بڑھ رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے قومی مفادات کو سیاسی اختلافات سے اوپر رکھنا سیکھیں اور ایسے معاہدوں پر فخر کریں جو کسی بھی آئینی اور قانونی لحاظ سے مکمل طور پر درست بنیادوں پر کھڑے ہیں۔