22 اکتوبر 2026 کی رات گوادر میں جو کچھ ہوا، وہ دو سطحوں پر ہوا۔ ایک زمین پر، دوسرا سوشل میڈیا کی سکرینوں پر۔ زمین پر دہشت گردوں نے ایک خالی تعمیراتی کیمپ کو نشانہ بنایا اور سڑک کنارے کھڑے ٹرکوں کو آگ لگائی۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور صفائی کا آپریشن جاری رکھا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔ لیکن اسی وقت، ڈیجیٹل دنیا میں ایک اور جنگ چھڑ چکی تھی جہاں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا تھا اور افواہوں کا بازار گرم تھا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اور جب تک ہم اس کھیل کو سمجھ نہ لیں، آخری بار بھی نہیں ہوگا۔
جھوٹ پہلے پہنچتا ہے، سچ بعد میں آتا ہے
سیکیورٹی واقعات کے دوران پاکستان کے ٹیلی ویژن چینلز اور پرنٹ میڈیا عموماً سرکاری تصدیق کا انتظار کرتے ہیں، جو کہ جاری آپریشنز کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہی تصدیق کا عمل ایک وقتی معلوماتی خلا پیدا کرتا ہے جسے دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے آن لائن حمایتی سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہیں۔
گوادر واقعے میں بھی یہی ہوا۔ بی ایل اے اور اس سے منسلک نیٹ ورکس نے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس گردش کرائیں جن میں اس واقعے کو فوج کے خلاف بڑی کامیابی کے طور پر دکھایا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کیمپ کو نشانہ بنایا گیا وہ پہلے سے خالی تھا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور سیکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے کسی دفتر یا کیمپ پر حملے کے دعوے بالکل بے بنیاد تھے۔ دہشت گردوں نے اپنے حملے کو "آپریشن الماس” کا نام دیا اور اسے فتح کے طور پر پیش کیا۔ بی ایل ایف نے دعویٰ کیا کہ اس کا صادو آپریشنل بٹالین گوادر زیرو پوائنٹ پر ایف ڈبلیو او کیمپ کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ لیکن یہ پروپیگنڈہ تھا، حقیقت نہیں۔
یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ منصوبہ ہے
بی ایل اے کے میڈیا ونگ "حکال” نے ٹیلی گرام کو اپنا بنیادی پلیٹ فارم بنا رکھا ہے جہاں سے تصاویر، ویڈیوز اور بیانات فوری طور پر جاری کیے جاتے ہیں اور پھر X اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر پھیلائے جاتے ہیں۔ یہ محض جذباتی ردعمل نہیں ہے، یہ ایک حکمتِ عملی ہے جو برسوں سے پختہ ہو رہی ہے۔
بی ایل اے نے میدانِ جنگ میں واقعات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے فوری طور پر ویڈیو مواد جاری کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ بی ایل اے سے متاثرہ پروپیگنڈا نغمات، میمیٹک ریلز اور مختصر ویڈیوز کی صورت میں پھیل رہا ہے جو خاص طور پر نوجوان نسل کو نشانہ بنا کر ان میں بھرتی کا ذریعہ بنتا ہے۔
یعنی بی ایل اے اور اس جیسے گروہوں نے ڈیجیٹل دنیا کو اپنا دوسرا محاذ بنا لیا ہے۔ ہر واقعے کے بعد وہ دو کام ایک ساتھ کرتے ہیں: ایک طرف زمین پر حملہ، دوسری طرف ڈیجیٹل دنیا میں بیانیے کی جنگ۔
عام شہری، اصل نشانہ
اس واقعے کا ایک اور پہلو قابلِ غور ہے۔ کیمپ خالی تھا، لیکن ٹرک خالی نہیں تھے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق پاک ایران سرحد کے ریمدان علاقے میں پھل لے جانے والے ٹرکوں کو بھی نذرآتش کیا گیا۔ یہ ٹرک کسی کے گھر کا چولہا جلاتے تھے۔ کوئی ڈرائیور تھا جو ہفتوں بعد گھر لوٹتا، کوئی مزدور جس کی محنت کی کمائی ان گاڑیوں میں تھی۔ دہشت گردوں نے یہ سب کچھ جلا دیا۔ یہ انقلاب نہیں، عوام دشمنی ہے۔
یہ ایک واضح نمونہ ہے جو گوادر اور بلوچستان میں بار بار نظر آتا ہے۔ 2026 میں بی ایل اے نے متعدد اہداف پر حملے کیے جن میں مسافر بس سے عام شہریوں کو اتار کر گولی مارنے جیسے سفاکانہ واقعات بھی شامل ہیں، جو واضح کرتے ہیں کہ ان گروہوں کا اصل نشانہ عام لوگ ہیں۔
ہمارا کردار کیا ہے؟
سوشل میڈیا کا صارف یہ سمجھے کہ جب وہ بغیر تصدیق کے کوئی پوسٹ شیئر کرتا ہے تو وہ بے ارادہ اس دہشت گردانہ پروپیگنڈے کا حصہ بن جاتا ہے۔ مقامی واقعات کو لابنگ، فنڈ ریزنگ اور مربوط سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر سیاسی اہمیت دلائی جاتی ہے۔ ہر غیر مصدقہ شیئر اس زنجیر کا ایک کڑا ہے۔
خبر پھیلانے سے پہلے تین سوال پوچھیں: کیا یہ خبر مستند ذریعے سے ہے؟ کیا اسے ایک سے زیادہ آزاد ذرائع نے تصدیق کی ہے؟ اور کیا اسے پھیلانے سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟
گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں، وہ پاکستان کے اقتصادی مستقبل کی علامت ہے۔ جو لوگ وہاں تعمیر کا کام کر رہے ہیں، ٹرک چلا رہے ہیں، مچھلی پکڑ رہے ہیں، وہ سب اس ملک کے عام شہری ہیں۔ دہشت گرد انہیں نشانہ بناتے ہیں اور جھوٹا پروپیگنڈا انہیں خوف زدہ کرتا ہے۔ دونوں کا مقابلہ ضروری ہے۔ ایک کا مقابلہ سیکیورٹی فورسز کر رہی ہیں، دوسرے کا مقابلہ ہمیں کرنا ہے۔
حقیقت کو جھوٹ سے تیز دوڑنا ہوگا۔
Author
-
View all posts
Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.