سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے: "میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔” جب آزاد کشمیر کی سیاست دیکھتے ہیں اور خاص طور پر راجہ فاروق حیدر کے کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ محاورہ حرف بحرف سچا ثابت ہوتا ہے۔ اقتدار میں "آزاد کشمیر پاکستان کا پانچواں صوبہ” کا بیانیہ اور اقتدار سے باہر نکلتے ہی "وفاق” کے بجائے "حکومتِ پاکستان” کا نام لینے پر اصرار یہ دوہرا معیار نہ صرف ایک سیاستدان کی بے نقابی ہے بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی ثقافت کا ایک تکلیف دہ عکس بھی ہے۔
اقتدار کی میٹھی چاشنی
آزاد کشمیر کی حقیقی طاقت 1952ء سے مظفرآباد سے کھسک کر اسلام آباد میں کشمیر امور کی وزارت کے پاس منتقل ہو چکی ہے یہ ایک کھلی حقیقت ہے جسے آزاد کشمیر کا ہر باشعور شہری جانتا ہے۔ مگر جب اقتدار ملے تو یہ "حقیقت” یاداشت سے محو ہو جاتی ہے اور پانچویں صوبے کا خواب دکھایا جاتا ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے منصب پر رہتے ہوئے آزاد کشمیر کو پاکستان کے ساتھ مضبوط آئینی تعلق میں باندھنے کے ایسے بیانیے دیے جن سے ان کی وفاداری ظاہر ہوتی تھی۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو فرماتے تھے کہ کشمیری صرف پاکستان کے ساتھ الحاق کا انتخاب کریں گے کیونکہ ان کے دلوں میں پاکستان کے ساتھ گہری محبت اور وابستگی ہے۔
یہ وہ دور تھا جب گفتگو پھولوں کی خوشبو سے مہکتی تھی، الفاظ شہد میں ڈوبے ہوتے تھے اور ہر بیان پاکستان پرستی کا مظاہرہ کرتا تھا۔
اقتدار جاتے ہی کڑواہٹ کا ظہور
مگر جوں ہی کرسی ہاتھ سے گئی، لہجہ بدل گیا، بیانیہ پلٹ گیا اور "وفاق” کی جگہ "حکومتِ پاکستان” نے لے لی۔ فروری 2026ء میں مظفرآباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں راجہ فاروق حیدر نے پی پی پی کی حکومت پر لیجسلیٹو اسمبلی کی منظوری کے بغیر بجٹ تبدیلیاں کرنے کا الزام لگایا اور اسے غیر آئینی قرار دیا۔ یعنی جو نظام کل اچھا تھا، آج وہی نظام آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس نظام میں بیٹھے لوگ بدل گئے ہیں۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات 2026ء کے بعد راجہ فاروق حیدر نے نئے وزیراعظم کے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا، حالانکہ انہوں نے اسمبلی میں آ کر اپنا ووٹ ضرور ڈالا۔ سیاسی حلقوں نے ان کے اس اقدام کو حکومت سازی کے مرحلے پر ایک "مضبوط سیاسی پیغام” سے تعبیر کیا۔ یہ وہی شخص ہے جو کل تک نظام کا حصہ تھا، آج اسی نظام سے اختلاف پر اتر آیا ہے۔
سیاسی منافقت کا نمونہ یا پاکستانی سیاست کی عکاسی؟
یہاں سوال صرف راجہ فاروق حیدر کا نہیں بلکہ یہ ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے۔ آزاد کشمیر میں سیاست ہمیشہ سے "کرسی مرکز” رہی ہے۔ سیاسی مبصرین نے خود کہا ہے کہ "عوام 2025ء تک پختہ ہو چکے ہیں اور وہ منافقت کو پہچانتے ہیں۔” مگر افسوس کہ پہچاننے اور اس کا علاج کرنے میں فرق ہے۔
راجہ فاروق حیدر نے حالیہ انتخابات کے بعد واضح اعلان کیا کہ پی ایم ایل این حکومت سازی کے کسی عمل میں حصہ نہیں لے گی اور پارٹی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ یہ ایک حق ہے اپوزیشن میں بیٹھنا جمہوریت کا حصہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب آپ اقتدار میں ہوں تو جو بیانیہ اپنائیں اور اقتدار سے باہر ہوں تو اس کے بالکل برعکس راستے پر چلیں تو اسے سیاسی موقف تبدیل کرنا نہیں، منافقت کہتے ہیں۔
عوام کا درد، سیاستدانوں کی کرسی
آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہاں کی عوامی تحریکیں بنیادی حقوق بجلی، گیس، آٹا جیسے مطالبات پر سڑکوں پر آتی رہی ہیں۔ آزاد کشمیر کے حالیہ وزیراعظم نے خود اعتراف کیا کہ جواں عوامی ایکشن کمیٹی تحریک کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور ایک ٹروتھ کمیشن کی ضرورت ہے۔ یہ وہی بحران ہے جس کی جڑ ان سیاسی رہنماؤں کے دوہرے کردار میں پوشیدہ ہے جو اقتدار میں "سب ٹھیک ہے” کہتے ہیں اور باہر نکلتے ہی "سب خراب ہے” کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔
نہ ملک کے، نہ عوام کے، نہ کسی پارٹی کے بس اپنی کرسی کے۔ راجہ فاروق حیدر جیسے سیاستدانوں کا یہی المیہ ہے کہ جب اقتدار ہو تو نظام سے عشق اور جب باہر ہوں تو اسی نظام پر تھوکنا شروع کر دیتے ہیں۔ البتہ اگست 2026ء کے حالیہ انتخابات میں راجہ فاروق حیدر نے لا 32 سے 45 فیصد سے زائد ووٹ لے کر نشست جیتی جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ووٹر ابھی بھی ان پر اعتماد کرتا ہے۔ مگر یہی اصل المیہ ہے۔
آخری بات
آزاد کشمیر کو آج ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جن کا مؤقف کرسی کے ساتھ نہ بدلے، جن کی زبان اقتدار میں اور باہر ایک ہو، اور جو عوام کے لیے وہی زہر نہ اگلیں جو کل تک وہ خود پی رہے تھے۔ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو” یہ صرف ایک محاورہ نہیں، یہ آزاد کشمیر کی سیاست کا وہ آئینہ ہے جس میں راجہ فاروق حیدر کا چہرہ بالکل صاف دکھائی دیتا ہے۔ عوام کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس آئینے کو توڑیں گے یا اپنی تقدیر اسی میں دیکھتے رہیں گے۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔