خطے کی سیاست میں پاکستان کا کردار پہلے کبھی اتنا مرکزی نہیں رہا
آج سے چند ماہ پہلے جب دنیا کا نقشہ آگ کی لپیٹ میں تھا، ایران اور امریکہ ایک مکمل جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے، اور خلیج کی سمتوں سے اٹھتا ہر دھواں ایک بڑے طوفان کی آمد کا اعلان کر رہا تھا، تب اسلام آباد نے وہ کام کیا جو واشنگٹن، لندن اور بیجنگ سب مل کر نہ کر پائے تھے۔ پاکستان کی قیادت نے ابتدائی جنگ بندی کروائی، جسے بعد میں پاکستان کی درخواست پر مزید بڑھایا گیا، اور اس وقفے کو ایک مستقل اور جامع امن معاہدے کی بنیاد بنانے کا موقع ملا۔
آج 27 اکتوبر 2026 کو تہران میں وہ تاریخی ملاقات ہوئی جو بذاتِ خود ایک سفارتی کرامت ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران نے علاقائی امن و سلامتی پر ایک نئے چار طرفہ مکالمے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ ملاقات تہران میں مکہ معاہدے کے تین ملکوں کے اعلیٰ فوجی، دفاعی اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان ہوئی۔ یہ کوئی معمولی سفارتی ملاقات نہیں تھی۔ یہ اس بات کا پہلا موقع تھا جب مکہ معاہدے کے ممالک کے اعلیٰ حکام نے مشترکہ طور پر ایران کے ساتھ براہِ راست روابط قائم کیے۔
مکہ معاہدہ جو کل تھا خواب، آج ہے حقیقت
7 اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے ذریعے ایک نئے سہ فریقی سلامتی اتحاد کی بنیاد رکھی گئی۔ مگر اس معاہدے کی اہمیت محض دفاعی نہیں، اس کا اصل جوہر سیاسی اور سفارتی ہے۔ مکہ معاہدے کے ممالک کی ایران کے ساتھ پہلی ملاقات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی کشیدگی کا حل سفارت کاری میں ہے، چاہے دفاعی تعاون جاری رہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالین کے ساتھ ملاقات کی۔ یہ منظر کچھ عرصہ پہلے ناقابلِ تصور تھا۔ ریاض اور تہران کے درمیان پل بنانا، اور وہ بھی براہِ راست ایک ہی میز پر، یہ کام پاکستان کے سوا کوئی نہیں کر سکتا تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سفارت کاری کا نیا چہرہ
اس پوری داستان کا مرکزی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ سال 2026 میں وہ تہران کا یہ تیسرا دورہ کر چکے ہیں۔ اپریل میں اپنے تین روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر انہوں نے ایرانی صدر، وزیرِ خارجہ، پارلیمان اسپیکر اور مرکزی فوجی کمانڈ کے سربراہ سے ملاقاتیں کیں۔ مئی میں اپنے دورے کے دوران انہوں نے ایران کے صدر، پارلیمان اسپیکر، وزیرِ خارجہ اور وزیرِ داخلہ سے گفتگو کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق "پاکستان سیاسی رسائی فراہم کرتا ہے، خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ذریعے۔”
یہ چھوٹا سا جملہ بڑی بات کہتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ایران کے دروازے جب کھلتے ہیں، تو اسلام آباد کی دستک پر کھلتے ہیں۔
اس دورے کی ایک اور غیر معمولی بات یہ تھی کہ پاکستان نے واضح طور پر ان دعووں کو رد کیا کہ فیلڈ مارشل نے ایران کا دورہ امریکی صدر ٹرمپ کے ایلچی کی حیثیت سے کیا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ ایک آزاد سفارتی مشن تھا، جو کسی بھی امریکی ہدایت سے مکمل طور پر آزاد تھا۔ یہی پاکستان کی طاقت ہے، وہ کسی کے ایجنٹ کے طور پر نہیں، ایک خودمختار ثالث کے طور پر بات کرتا ہے، اور اسی لیے اس کی بات سنی جاتی ہے۔
مکہ معاہدہ امن کا منشور، کسی کے خلاف نہیں
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں یہ عہد کیا کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مگر یہ صرف دفاعی ڈھال نہیں ہے، آج تہران میں ہونے والی ملاقات نے ثابت کیا کہ مکہ پیکٹ ایک سفارتی چھتری بھی ہے جس کے سائے تلے دشمن بھی بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دورہ معاہدے کے اراکین کی کوششوں کا حصہ ہے جو کشیدگی کو کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور پاکستان و قطر کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے لیے کیا گیا۔
وہ جو سوچتے تھے پاکستان تنہا ہو جائے گا
کچھ ماہ پہلے کہا جاتا تھا کہ خطے کی نئی صف بندی میں پاکستان غیر متعلق ہو جائے گا۔ آج حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے OIC اجلاس میں ایرانی قیادت کو یہ یقین دلایا کہ سعودی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، اور اس یقین دہانی کے بعد ایران نے سعودی عرب پر حملے سے گریز کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا 2026 میں تہران کا یہ تیسرا دورہ اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک مؤثر سفارتی چینل پیش کر سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خود فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی، یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔
آج تہران میں جو ہوا، وہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی، یہ پاکستان کی اس فکر کا ثمر ہے جو کہتی ہے کہ خطے میں امن بندوق سے نہیں، میز پر آ کر ملتا ہے۔ مکہ پیکٹ نے نہ صرف ایک دفاعی اتحاد قائم کیا، بلکہ ایک ایسا سفارتی پلیٹ فارم بنایا جو ایران اور سعودی عرب کو ایک ساتھ لا سکتا ہے۔
پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ تنہا کرنے کے خواب خواب ہی رہتے ہیں۔ حقیقت وہی ہوتی ہے جو آج تہران کے کانفرنس ہال میں لکھی گئی، پاکستان، مرکز میں، امن کا ضامن بن کر۔