پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی، بدامنی، بیرونی مداخلت اور داخلی انتشار کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہزاروں شہری، فوجی، پولیس اہلکار، قبائلی عمائدین، اساتذہ، طلبہ اور معصوم بچے دہشت گردی کی آگ میں جل چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر سیاسی تحریک، ہر جماعت اور ہر عوامی پلیٹ فارم کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی یکجہتی کو مضبوط کرے، ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے، اور دشمن قوتوں کو کوئی ایسا موقع نہ دے جس سے پاکستان مزید کمزور ہو۔ اسی پس منظر میں پشتون تحفظ موومنٹ، یعنی پی ٹی ایم، کی سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
پی ٹی ایم نے ابتدا میں کچھ ایسے مسائل کو اجاگر کیا جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سابق قبائلی علاقوں کے عوام نے دہشت گردی، نقل مکانی، بارودی سرنگوں، لاپتا افراد، معاشی محرومی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کیا۔ ان مسائل پر آواز اٹھانا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک جائز مطالبات کی تحریک بتدریج ایسے بیانیے کی طرف چلی جائے جو ریاست، فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنائے۔ اصلاح اور محاذ آرائی میں فرق ہوتا ہے۔ تنقید اور ریاست دشمنی کے تاثر میں بھی فرق ہوتا ہے۔ پی ٹی ایم کی سیاست پر یہی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے مسائل کے حل کے بجائے بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔
پاکستان کے قبائلی اور سرحدی علاقے پہلے ہی ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی وجہ سے شدید متاثر رہے ہیں۔ ان گروہوں نے مساجد، اسکولوں، بازاروں، جنازوں، جرگوں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے پشتون عوام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ ایسے ماحول میں جب کوئی تحریک ریاستی اداروں کے خلاف سخت بیانیہ اپناتی ہے لیکن دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اتنی ہی واضح اور مسلسل آواز نہیں اٹھاتی، تو عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی ایم کا بیانیہ براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر ان عناصر کو فائدہ پہنچا سکتا ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں ہمیشہ اندرونی اختلافات کو استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے الزامات ماضی میں بار بار سامنے آتے رہے ہیں، اور سرحدی علاقوں میں بدامنی پیدا کرنے والی تنظیمیں بھی اسی فضا سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی سیاسی تحریک اگر قومی اداروں کو عوام کا دشمن بنا کر پیش کرے تو اس کا فائدہ عام شہری کو نہیں بلکہ ان قوتوں کو پہنچتا ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ سیاست کا مقصد زخموں پر مرہم رکھنا ہونا چاہیے، زخموں کو مزید گہرا کرنا نہیں۔
پشتون پاکستان کی طاقت ہیں۔ پاکستان کی فوج، پولیس، عدلیہ، پارلیمان، تجارت، تعلیم، کھیل، ادب اور صحافت میں پشتونوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے لیے پشتون عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اس لیے پی ٹی ایم یا کسی بھی سیاسی گروہ کی سیاست کو پوری پشتون قوم سے جوڑنا ناانصافی ہوگی۔ اصل سوال پشتونوں کا نہیں، بلکہ اس سیاسی بیانیے کا ہے جو پشتونوں کے دکھ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جو تحریک خود کو پشتون عوام کی نمائندہ کہتی ہے، اسے سب سے پہلے پشتون عوام کو دہشت گردی، غربت، بے روزگاری اور بیرونی سازشوں سے بچانے کی واضح حکمت عملی دینی چاہیے۔
پی ٹی ایم کو اگر واقعی عوامی حقوق کی تحریک بننا ہے تو اسے چند باتیں صاف کرنی ہوں گی۔ اسے ٹی ٹی پی اور ہر دہشت گرد تنظیم کی غیر مشروط مذمت کرنی چاہیے۔ اسے افغانستان یا کسی بھی بیرونی قوت کی مداخلت کو مسترد کرنا چاہیے۔ اسے پاکستان کے آئین، پارلیمان، عدالتوں اور جمہوری نظام کے اندر رہ کر جدوجہد کرنی چاہیے۔ اسے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ریاست سے مکالمہ کرنا چاہیے، نہ کہ ہر وقت تصادم کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔ قومیں نعروں سے نہیں بنتیں؛ قومیں اعتماد، قربانی، مکالمے اور مشترکہ مقصد سے بنتی ہیں۔
ریاست پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لے۔ لاپتا افراد کے معاملات قانون کے مطابق شفاف انداز میں حل ہونے چاہئیں۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں، انٹرنیٹ، کاروبار اور مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ سیکورٹی کے نام پر عام شہری کی عزتِ نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ان اصلاحات کا راستہ پاکستان کو کمزور کرنے سے نہیں بلکہ پاکستان کو مضبوط کرنے سے نکلتا ہے۔
آج پاکستان کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، معیشت دباؤ میں ہے، خطے میں طاقتوں کا کھیل جاری ہے، اور دشمن قوتیں اندرونی انتشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے وقت میں پی ٹی ایم جیسی تحریکوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ شکایات کے حل کا راستہ اختیار کریں گی یا ایسے بیانیے کا حصہ بنیں گی جس سے پاکستان مخالف عناصر کو فائدہ پہنچے۔ عوام کو حقوق ضرور چاہئیں، مگر حقوق کی جدوجہد قومی وحدت کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔
پی ٹی ایم کی موجودہ سیاست پر اعتراض اسی لیے ہے کہ یہ بہت سے پاکستانیوں کو قومی مفاد کے خلاف محسوس ہوتی ہے۔ عوام کو امن، ترقی، انصاف اور تحفظ چاہیے، مسلسل محاذ آرائی نہیں۔ پشتون عوام کو دہشت گردی سے نجات چاہیے، ایسے نعروں کی نہیں جو انہیں باقی پاکستان سے دور کریں۔ پاکستان سب کا ملک ہے، اور جو بھی تحریک عوام کے نام پر سیاست کرتی ہے، اسے پاکستان، اس کے عوام، اس کے آئین اور اس کے امن کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ یہی عوامی سیاست ہے، یہی قومی ذمہ داری ہے، اور یہی پاکستان کے مستقبل کا راستہ ہے۔
Author
-
View all postsڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔