تحریک طالبان پاکستان خود کو ایک منظم، مربوط اور نظریاتی تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل کوشش کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی تشہیری دستاویزات، بیانات اور ذرائع ابلاغ میں مختلف وزارتوں، انتظامی شعبوں، فوجی کمیشنوں، عدالتی اداروں اور علاقائی اکائیوں کا ذکر کرتی ہے۔ بظاہر یہ نقشہ ایک ایسی متوازی حکومت کا تاثر دیتا ہے جو واضح نظم و ضبط، مرکزی قیادت اور منظم فیصلہ سازی کے تحت کام کر رہی ہو۔ تاہم اس ظاہری ڈھانچے کے پیچھے حقیقت بالکل مختلف ہے۔ تنظیم کی تاریخ داخلی اختلافات، شخصی رقابتوں، دھڑے بندی، قیادت کے تنازعات اور وسائل پر قبضے کی خونریز کشمکش سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے اس کا نام نہاد تنظیمی ڈھانچہ کسی ادارہ جاتی قوت کا ثبوت نہیں بلکہ کمزوریوں کو چھپانے کے لیے تیار کیا گیا ایک پروپیگنڈا پردہ ہے۔
کسی بھی منظم ادارے کی بنیادی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کے ارکان ایک تسلیم شدہ نظام، واضح قانونی اصولوں اور جواب دہ قیادت کے تابع ہوں۔ تحریک طالبان پاکستان میں ایسی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ مختلف علاقوں میں سرگرم کمانڈر اکثر اپنی ذاتی وفاداریوں، قبائلی وابستگیوں، مالی مفادات اور علاقائی اثرورسوخ کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ مرکزی قیادت کے احکامات کو قبول یا مسترد کرنا بھی زمینی کمانڈروں کے مفاد سے مشروط رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم کے اندر بار بار قیادت کے خلاف بغاوتیں، الگ دھڑوں کی تشکیل اور باہمی مسلح تصادم سامنے آتے رہے ہیں۔ ایک ایسی جماعت جس کے کمانڈر اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں، اسے مرکزی نظم و ضبط کی حامل تنظیم قرار دینا حقیقت کے بجائے تشہیری مبالغہ ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کی تاریخ تنظیمی استحکام سے زیادہ مسلسل انتشار کی داستان ہے۔ مختلف ادوار میں کئی کمانڈروں نے مرکزی قیادت سے اختلاف کرکے اپنے علیحدہ گروہ بنائے، بعض نے دوسری شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کی اور بعض نے ذاتی اختلافات کے باعث اپنے سابق ساتھیوں کو نشانہ بنایا۔ تنظیم سے علیحدگی، دوبارہ شمولیت، وفاداریوں کی تبدیلی اور نئے اتحادوں کی تشکیل اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کے اندر کوئی مستقل ادارہ جاتی نظام موجود نہیں۔ اگر نام نہاد وزارتیں، عدالتیں اور فوجی کمیشن حقیقتاً مؤثر ہوتے تو فیصلے بندوق، دھمکی اور قتل کے ذریعے نہ کیے جاتے۔ داخلی تنازعات کو حل کرنے کے بجائے مخالف کمانڈروں کا خاتمہ اس تنظیم کے اصل مزاج کو بے نقاب کرتا ہے۔
حالیہ عرصے میں مختلف خوارج دھڑوں کے درمیان مسلح جھڑپوں اور اپنے ہی کمانڈروں کے قتل کے واقعات نے اس مصنوعی تنظیمی تصویر کو مزید کمزور کیا ہے۔ یہ تصادم محض نظریاتی اختلافات کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے بھتہ خوری کے علاقوں، اسمگلنگ کے راستوں، مالی وسائل، اسلحے، افرادی قوت اور مقامی اثرورسوخ پر قبضے کی جنگ بھی کارفرما ہوتی ہے۔ ہر دھڑا زیادہ وسائل اور زیادہ اختیارات کا خواہاں ہے۔ جب مفادات ٹکراتے ہیں تو نام نہاد شرعی عدالتیں خاموش ہوجاتی ہیں اور فیصلہ گولی، دھماکے یا ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں تنظیم کی طرف سے عدل، شوریٰ اور نظم کے دعوے کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں رہتے۔
تحریک طالبان پاکستان اپنی تشہیر میں مختلف محکموں اور انتظامی عہدوں کا ذکر کرکے ریاستی اداروں کی نقل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد عوام، نئے بھرتی ہونے والوں اور بیرون ملک موجود حامیوں کو یہ باور کرانا ہے کہ تنظیم صرف ایک مسلح گروہ نہیں بلکہ ایک متبادل سیاسی و انتظامی نظام بھی رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ادارے کو وزارت کا نام دے دینے سے وہ وزارت نہیں بن جاتا اور چند مسلح افراد کو قاضی مقرر کردینے سے کوئی معتبر عدالتی نظام وجود میں نہیں آتا۔ قانونی اختیار عوامی رضامندی، آئینی بنیاد، شفاف طریقہ کار اور جواب دہی سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان کا نام نہاد انتظام خوف، جبر اور مسلح دھمکی پر قائم ہے۔
جن علاقوں میں اس تنظیم نے اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کی، وہاں اس کی حکمرانی کا عملی نمونہ بھتہ خوری، اغوا، دھمکی آمیز خطوط، جبری چندہ، کاروباری افراد کو ہراساں کرنے اور اختلاف کرنے والوں کے قتل کی صورت میں سامنے آیا۔ عام شہریوں، قبائلی عمائدین، مذہبی شخصیات، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو خوف زدہ کرکے خاموش کرانا کسی منظم حکومت کی علامت نہیں بلکہ دہشت گردانہ تسلط کا طریقہ ہے۔ ریاستی نظم شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، جبکہ دہشت گرد گروہ شہریوں کو اپنے مالی، عسکری اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے نام نہاد محکمے بھی بنیادی طور پر انہی پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور تشہیر کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اس پروپیگنڈا مہم کا ایک اہم ہدف نئی بھرتیاں بھی ہیں۔ نوجوانوں کو متاثر کرنے کے لیے تنظیم اپنے داخلی انتشار کو چھپا کر ایک مضبوط اور فاتح قوت کا تصور پیش کرتی ہے۔ عہدوں، شعبوں اور کمیشنوں کے نام نوجوانوں کو یہ احساس دلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں کہ وہ کسی منظم اور باوقار تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ لیکن تنظیم میں شامل ہونے کے بعد یہی نوجوان ذاتی مفادات رکھنے والے کمانڈروں، غیر واضح احکامات اور دھڑوں کی باہمی جنگوں کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ قیادت محفوظ ٹھکانوں میں رہتی ہے، جبکہ کم عمر اور ناتجربہ کار افراد کو حملوں، دراندازی اور خودکش کارروائیوں کے لیے آگے بھیج دیا جاتا ہے۔
نام نہاد تنظیمی ڈھانچے کا دوسرا مقصد حامیوں اور مالی معاونین کو مطمئن رکھنا ہے۔ مختلف شعبوں اور انتظامی عہدوں کی تشہیر سے یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ حاصل ہونے والی رقم کسی منظم نظام کے تحت استعمال ہورہی ہے۔ حقیقت میں مالی وسائل کی تقسیم تنظیم کے اندر شدید اختلافات کا سبب بنتی ہے۔ کمانڈر اپنے اپنے حلقوں کے لیے زیادہ حصہ چاہتے ہیں اور بھتہ خوری یا غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدن پر قبضے کے لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتے ہیں۔ مالی شفافیت، آزاد نگرانی یا جواب دہی نہ ہونے کے باعث نام نہاد انتظامی ڈھانچہ بدعنوانی، ذاتی مفادات اور طاقت کی سیاست کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
کوئی بھی دہشت گرد تنظیم محض ریاستی عہدوں سے ملتے جلتے نام اختیار کرکے جائز انتظامی حیثیت حاصل نہیں کرسکتی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تحریک طالبان پاکستان نے کتنے کمیشن، محکمے یا علاقائی عہدے قائم کیے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کا عملی کردار کیا ہے۔ اگر یہ ادارے بے گناہوں کے قتل، جبری وصولیوں، اغوا، دہشت گردی اور داخلی تصادم کو روکنے سے قاصر ہیں تو ان کا وجود محض علامتی اور تشہیری ہے۔ ایسی تنظیم جو اپنے اندر اختلاف برداشت نہیں کرسکتی، اپنے کمانڈروں کو تحفظ نہیں دے سکتی اور اپنے دھڑوں کو ایک نظم کے تحت نہیں رکھ سکتی، وہ کسی معاشرے کو عدل، امن یا استحکام فراہم کرنے کی اہل نہیں ہوسکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی اصل ساخت ادارہ جاتی نہیں بلکہ جنگجو کمانڈروں، شخصی وفاداریوں اور متصادم مفادات کے غیر مستحکم اتحاد پر قائم ہے۔ اس کے نام نہاد انتظامی شعبے اس بنیادی کمزوری کو چھپانے، بھرتیوں میں اضافہ کرنے، حامیوں کو یقین دلانے اور ریاست جیسی مصنوعی شناخت قائم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ داخلی قتل و غارت، مسلسل دھڑے بندی اور وسائل پر خونریز مقابلہ اس تنظیم کی اصل حقیقت ہیں۔ لہٰذا تحریک طالبان پاکستان کا نام نہاد تنظیمی ڈھانچہ طاقت اور نظم کی علامت نہیں بلکہ گہرے انتشار، داخلی خوف اور نظریاتی دیوالیہ پن کو چھپانے کے لیے تیار کیا گیا ایک پروپیگنڈا فریب ہے۔
Author
-
View all posts
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔