Nigah

تحریک طالبان پاکستان کا نام نہاد دفاعی جہاد

[post-views]

تحریک طالبان پاکستان مسلسل اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو ’’دفاعی جہاد‘‘ کا نام دے کر مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس بیانیے کا مقصد محض کسی علمی یا فقہی مؤقف کا اظہار نہیں، بلکہ مسلح بغاوت، خودکش حملوں، شہریوں کے قتل اور ریاستی اداروں کے خلاف تشدد کو ایک مقدس فریضے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان مخصوص تاریخی واقعات، سیاسی شکایات اور مذہبی متون کی من پسند تشریحات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں اور ممکنہ بھرتیوں کو یہ باور کراتی ہے کہ پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک دینی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا نام نہاد دفاعی جہاد اسلامی اصولوں، اجتماعی فقہی بصیرت، ریاستی نظم اور بے گناہ انسانوں کے تحفظ سے متعلق قرآن و سنت کی واضح تعلیمات سے متصادم ہے۔

اسلام میں جہاد کوئی ایسا بے ضابطہ تصور نہیں جسے کوئی فرد، گروہ یا مسلح تنظیم اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرسکے۔ جہاد کے اعلان، اس کی نوعیت، شرائط، قیادت اور حدود کے بارے میں اسلامی فقہ نے واضح اصول مقرر کیے ہیں۔ کسی خودساختہ گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمانوں کو کافر، مرتد یا واجب القتل قرار دے اور پھر ان کے خلاف تشدد کو جہاد کا نام دے دے۔ تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں میں مساجد، مدارس، بازاروں، تعلیمی اداروں، جنازوں، ہسپتالوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسے حملوں میں علماء، نمازیوں، خواتین، بچوں، قبائلی عمائدین، سرکاری ملازمین، پولیس اہلکاروں اور فوجیوں سمیت ہزاروں پاکستانی جان سے گئے۔ بے گناہوں کا یہ قتل کسی بھی اسلامی اصول کے تحت دفاعی جہاد نہیں بلکہ فساد فی الارض، بغاوت اور دہشت گردی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کا بیانیہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کے متفقہ قومی اعلامیے سے بھی براہ راست متصادم ہے۔ اس دستاویز کی توثیق اٹھارہ سو سے زائد پاکستانی علماء نے کی، جن کا تعلق ملک کے مختلف مکاتب فکر اور مذہبی اداروں سے تھا۔ پیغام پاکستان میں دہشت گردی، خودکش حملوں، فرقہ وارانہ قتل، ریاست کے خلاف مسلح بغاوت اور اپنی مرضی سے جہاد کے اعلان کو صریحاً حرام قرار دیا گیا۔ یہ اعلامیہ کسی ایک سیاسی جماعت، حکومتی ادارے یا مخصوص مکتب فکر کا مؤقف نہیں، بلکہ پاکستان کے ممتاز علماء کی اجتماعی دینی بصیرت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے باوجود تحریک طالبان پاکستان اس وسیع تر علمی اتفاق رائے کو نظرانداز کرکے چند تاریخی فتاویٰ اور مخصوص حالات میں دی گئی فقہی آراء کو موجودہ حالات پر مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

ملک کے ممتاز علماء، جن میں مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی اور مفتی منیب الرحمٰن جیسے جید اہل علم شامل ہیں، بارہا واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان کے خلاف غیر مجاز مسلح جدوجہد کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ ان علماء نے خودکش حملوں، معصوم شہریوں کے قتل اور ریاستی اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی کو اسلامی احکامات کے منافی قرار دیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان چونکہ اس علمی موقف کا مدلل جواب دینے سے قاصر ہے، اس لیے وہ مذہبی جذبات کو ابھارنے، علماء کی آراء کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور نوجوانوں میں ریاست سے نفرت پیدا کرنے کا سہارا لیتی ہے۔ اس تنظیم کی مذہبی دلیل کا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ وہ جامع اسلامی اصولوں کے بجائے اپنے سیاسی اور عسکری مفادات کو دین پر مقدم رکھتی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کا یہ دعویٰ بھی حقائق کے خلاف ہے کہ پاکستان ایک غیر اسلامی ریاست ہے، اس لیے اس کے خلاف بغاوت جائز ہے۔ پاکستان ایک اسلامی آئینی ریاست ہے، جس کے آئین میں حاکمیت اعلیٰ کو اللہ تعالیٰ کی امانت قرار دیا گیا ہے۔ قرارداد مقاصد، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور آئین کی متعدد دفعات اس امر کو یقینی بناتی ہیں کہ ملکی قانون سازی قرآن و سنت کے منافی نہ ہو۔ اگر کسی شہری، مذہبی جماعت یا عالم کو کسی قانون یا حکومتی پالیسی سے اختلاف ہو تو آئین، عدالت، پارلیمان، ذرائع ابلاغ اور پرامن سیاسی جدوجہد کے راستے موجود ہیں۔ اختلاف کو مسلح بغاوت میں تبدیل کرنا، ریاستی اہلکاروں کو قتل کرنا اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا کسی صورت اسلامی اصلاح یا نفاذ شریعت نہیں کہلا سکتا۔

اسلامی تعلیمات میں انسانی جان کی حرمت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن مجید ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام معاہدات کی پاسداری، اجتماعی امن کے تحفظ، انتشار سے اجتناب اور فساد کے خاتمے کا حکم دیتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان ان بنیادی اصولوں کو نظرانداز کرکے صرف ان روایات اور تاریخی حوالوں کو نمایاں کرتی ہے جنہیں سیاق و سباق سے الگ کرکے تشدد کے حق میں استعمال کیا جاسکے۔ وہ یہ حقیقت چھپاتی ہے کہ قدیم فقہی آراء مخصوص سیاسی، عسکری اور تاریخی حالات میں دی گئی تھیں اور انہیں کسی جدید مسلم آئینی ریاست کے خلاف اندھی بغاوت کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

’’دفاعی جہاد‘‘ کا نعرہ دراصل تحریک طالبان پاکستان کے لیے بھرتی، ذہن سازی اور دہشت گردی کے جواز کا ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ نوجوانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ریاست اور سکیورٹی فورسز دین کی دشمن ہیں، لہٰذا ان کے خلاف لڑنا باعث ثواب ہے۔ اس نفسیاتی اور مذہبی استحصال کے ذریعے کم عمر اور کم تعلیم یافتہ افراد کو خودکش حملوں، مسلح کارروائیوں اور سرحد پار دراندازی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ تنظیم کی قیادت خود محفوظ پناہ گاہوں میں رہتی ہے، جبکہ گمراہ نوجوانوں کو موت، گرفتاری اور تباہی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل جہاد نہیں بلکہ مذہب کے نام پر انسانی جانوں، جذبات اور محرومیوں کا استحصال ہے۔

پاکستان کے عوام کو اس تحریف شدہ بیانیے کا مقابلہ صرف عسکری اقدامات سے نہیں بلکہ علمی، مذہبی اور فکری سطح پر بھی کرنا ہوگا۔ علماء، جامعات، مدارس، ذرائع ابلاغ اور ریاستی اداروں کو مشترکہ طور پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ جہاد اور دہشت گردی دو متضاد تصورات ہیں۔ جہاد عدل، نظم، اخلاقی حدود اور جائز اختیار کا پابند ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیاں خوف، قتل، انتشار اور فساد پر قائم ہیں۔ کسی دہشت گرد گروہ کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اسلام کے مقدس تصورات کو اپنے سیاسی عزائم اور خونی مہم کے لیے استعمال کرے۔ تحریک طالبان پاکستان کا نام نہاد دفاعی جہاد نہ دفاع ہے، نہ جہاد؛ یہ اسلام کی تحریف، ریاست کے خلاف بغاوت اور پاکستانی معاشرے پر مسلط کی گئی دہشت گردی ہے۔

Author

  • Prof. Dr. Ghulam Mujaddid

    ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔