Nigah

کتابوں سے خوف زدہ ریاست

[post-views]

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کتابوں کی دکانوں، تعلیمی اداروں اور کتب خانوں سے سیکڑوں کتابوں کی ضبطی محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور اجتماعی یادداشت پر مسلط کی جانے والی ایک منظم جنگ ہے۔ جب کسی خطے میں بندوق کے ساتھ ساتھ کتاب کو بھی خطرہ تصور کیا جانے لگے، جب مطالعہ مشتبہ سرگرمی اور تاریخی اختلاف جرم بن جائے، تو یہ صورت حال ریاستی اعتماد کی نہیں بلکہ گہرے سیاسی خوف کی علامت ہوتی ہے۔ کشمیر میں جاری حالیہ کارروائیوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ بھارتی حکومت صرف زمین پر اپنا کنٹرول مضبوط نہیں کرنا چاہتی بلکہ کشمیری عوام کے خیالات، تاریخی شعور اور الفاظ کے انتخاب کو بھی اپنے تابع بنانا چاہتی ہے۔

بھارتی حکام نے اسلامی لٹریچر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز کی شائع کردہ متعدد کتابیں ضبط کیں۔ پولیس نے کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مارے، الماریوں کی تلاشی لی اور ایسے علمی و مذہبی متون کو سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر پیش کیا جو بھارت کے دیگر شہروں میں دستیاب رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو کتاب دہلی، لکھنؤ یا حیدرآباد میں پڑھی جا سکتی ہے، وہ سری نگر میں قومی سلامتی کے لیے خطرہ کیسے بن جاتی ہے؟ یہ امتیازی طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ کشمیر میں قانون کا اطلاق عام شہری اصولوں کے تحت نہیں بلکہ مستقل ہنگامی اور سکیورٹی ذہنیت کے تحت کیا جا رہا ہے۔

مذہبی لٹریچر کی ضبطی کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مذہبی مطالعے اور انتہا پسندانہ مواد کے درمیان دانستہ طور پر فرق ختم کیا جا رہا ہے۔ ہر مذہبی کتاب کو شدت پسندی سے جوڑنا نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ اس سے پوری مسلم آبادی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا رجحان مضبوط ہوتا ہے۔ اسلامی فکر، تاریخ اور مذہبی فلسفے پر مبنی کتابوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اختلاف کا جواب پابندی، چھاپہ یا ضبطی نہیں ہونا چاہیے۔ علمی نظریات کا مقابلہ دلیل، تحقیق اور مکالمے سے ہوتا ہے، پولیس کارروائی سے نہیں۔

اسی دوران جموں کشمیر پیپلز فورم کی جانب سے یہ الزام سامنے آیا کہ سمگر شکشا منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں میں تقسیم کی گئی بعض کتابوں میں مقبول بٹ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے مزاحمتی رہنماؤں کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا۔ اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ ان کتابوں میں ’’بھارتی مقبوضہ کشمیر‘‘ اور اس نوعیت کی دوسری اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ اس شکایت کے بعد کتابیں واپس لینے، متعلقہ ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے اور ناشرین و تعلیمی اہلکاروں کی تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ یوں ایک نصابی یا تحقیقی اختلاف کو فوری طور پر قومی سلامتی اور علیحدگی پسندی سے جوڑ دیا گیا۔

تعلیمی مواد کی جانچ یقیناً ضروری ہے۔ اسکولوں میں ایسی کتابیں ہونی چاہییں جو درست معلومات فراہم کریں، عمر کے مطابق ہوں اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو ذمہ داری سے پیش کریں۔ لیکن کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ غیر جانب دار تعلیمی نگرانی نہیں بلکہ سیاسی چھان بین ہے۔ یہاں کتاب کا معیار اس کی تحقیق، زبان یا علمی اہمیت سے نہیں بلکہ اس بات سے طے کیا جا رہا ہے کہ وہ نئی دہلی کے سرکاری بیانیے سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔ جو عبارت حکومتی نقطہ نظر کو تقویت دے، وہ قابل قبول ہے، جبکہ جو کشمیر کی متنازع تاریخ، سیاسی مزاحمت یا عوامی شکایات کا ذکر کرے، اسے خطرناک قرار دے دیا جاتا ہے۔

جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے پچیس کتابوں پر پابندی بھی اسی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔ ان کتابوں پر علیحدگی پسند نظریات پھیلانے، بھارتی حاکمیت کو چیلنج کرنے اور ریاست مخالف جذبات پیدا کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ تاہم پابندی کی زد میں آنے والی کئی کتابیں معروف مؤرخین، قانونی ماہرین، صحافیوں اور بین الاقوامی مصنفین کی تحریر کردہ ہیں۔ ان کتابوں میں کشمیر کی آئینی تاریخ، الحاق، سیاسی وعدوں، مسلح تنازع، انسانی حقوق اور ریاستی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان موضوعات پر اختلاف ممکن ہے، لیکن ان کا مطالعہ روک دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ سرکاری بیانیہ آزادانہ علمی جانچ کا سامنا کرنے سے گھبرا رہا ہے۔

اصل جنگ الفاظ پر ہے۔ بھارتی حکومت چاہتی ہے کہ کشمیر کے لیے صرف وہی اصطلاحات استعمال کی جائیں جو اس کے سیاسی مؤقف کو جائز ثابت کرتی ہوں۔ ’’قبضہ‘‘، ’’تنازع‘‘، ’’حق خودارادیت‘‘، ’’مزاحمت‘‘ اور ’’سیاسی قیدی‘‘ جیسے الفاظ کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔ مگر الفاظ کو ممنوع قرار دینے سے وہ حقائق ختم نہیں ہوتے جن کی بنیاد پر یہ الفاظ وجود میں آئے۔ کشمیر کی تاریخ صرف سرکاری نصابی کتابوں میں محفوظ نہیں۔ یہ خاندانوں کی یادوں، شہدا کے قبرستانوں، سیاسی تحریکوں، لوک ادب، شاعری، صحافت اور نسل در نسل منتقل ہونے والے تجربات میں زندہ ہے۔

مودی حکومت کی یہ پالیسی بظاہر ’’نئے کشمیر‘‘ کی تعمیر کے نام پر چلائی جا رہی ہے، لیکن حقیقت میں اس کا مقصد ایک ایسا کشمیر تشکیل دینا ہے جہاں اختلاف خاموش ہو، تاریخ سرکاری حکم کے مطابق لکھی جائے اور نئی نسل کو صرف ایک منظور شدہ سیاسی داستان پڑھائی جائے۔ یہ تعلیمی اصلاح نہیں بلکہ فکری تطہیر ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جب حکومت یہ فیصلہ کرنے لگے کہ عوام کیا پڑھیں، کن شخصیات کو یاد رکھیں اور تاریخ کو کن الفاظ میں بیان کریں، تو تعلیم کا مقصد شعور پیدا کرنا نہیں بلکہ اطاعت پیدا کرنا بن جاتا ہے۔

میرواعظ عمر فاروق سمیت کشمیری علما، مذہبی رہنماؤں اور اہل دانش نے کتابوں پر پابندی اور ضبطی کی مذمت کرتے ہوئے اسے فکری آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف درست ہے کہ کتابیں ضبط کر لینے سے تاریخی حقائق اور عوامی یادداشت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کسی مصنف کی دلیل کمزور ہو تو اس کے جواب میں بہتر کتاب لکھی جانی چاہیے، نہ کہ اس کے قاری کو مجرم بنایا جائے۔ ایک مضبوط ریاست اختلافی تحریر سے خوف زدہ نہیں ہوتی؛ وہ اسے پڑھتی، سمجھتی اور دلیل سے جواب دیتی ہے۔

کشمیر میں کتابوں کے خلاف جاری مہم امن پیدا نہیں کرے گی۔ اس سے نوجوانوں میں مزید بداعتمادی، احساس محرومی اور سرکاری اداروں سے دوری بڑھے گی۔ جب لائبریریاں نگرانی کے مراکز، ناشر ملزم اور استاد مشتبہ بن جائیں تو تعلیم کا پورا نظام اپنی اخلاقی ساکھ کھو دیتا ہے۔ بھارت کتابوں کو الماریوں سے نکال سکتا ہے، لیکن کشمیری عوام کی یادداشت سے تاریخ نہیں مٹا سکتا۔ کتاب پر پابندی دراصل خیال سے شکست کا اعتراف ہوتی ہے، اور کشمیر میں یہی اعتراف اب پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر حسین جان

    حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔