بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ افسر سے متعلق حالیہ فوجی عدالتی کارروائی نے دفاعی اداروں میں مالی شفافیت، طبی خریداری اور داخلی احتساب کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ریٹائرڈ میجر جنرل دیویندر اروڑا کو جموں کے 166 ملٹری ہسپتال میں تقریباً گیارہ کروڑ بھارتی روپے کی طبی خریداری سے متعلق بے ضابطگیوں کے مقدمے میں فوجی عدالت نے متعدد الزامات میں قصوروار قرار دیا۔ انہیں ملازمت سے برطرفی اور ایک سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی، تاہم فیصلہ مجاز اتھارٹی کی توثیق سے مشروط ہے اور اپیل کا حق بھی موجود ہے۔ اروڑا نے الزامات تسلیم نہیں کیے، جبکہ آرمڈ فورسز ٹریبونل نے حکم دیا کہ اس کی اجازت کے بغیر سزا پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ اس لیے قانونی عمل مکمل ہونے سے پہلے حتمی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں، مگر مقدمے کی نوعیت پورے نظام کے جائزے کا تقاضا کرتی ہے۔
اس معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مبینہ بے ضابطگیاں ادویات، ڈریسنگ اور طبی آلات کی خریداری سے متعلق تھیں۔ فوجی ہسپتال زخمی اور بیمار اہلکاروں کے لیے بنیادی سہارا ہوتا ہے۔ اگر وہاں ضرورت سے زیادہ مقدار، غیر معمولی قیمت، غلط دستیابی یا مخصوص سپلائرز کے حق میں مشتبہ سرٹیفکیٹس کا استعمال ثابت ہو جائے تو نقصان صرف مالی نہیں رہتا؛ اس سے طبی تیاری، مریضوں کی حفاظت اور ادارے پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ الزام نامے کے مطابق سامان کی دستیابی اور سپلائرز سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے کا معاملہ بھی شامل تھا، جسے دفاعی خریداری کے ضابطوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
یہ واقعہ اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ سخت نظم و ضبط رکھنے والے عسکری ادارے لازماً مالی بدعنوانی سے محفوظ ہوتے ہیں۔ جہاں اختیارات وسیع، معلومات محدود اور نگرانی زیادہ تر اندرونی ہو، وہاں بدعنوانی کے امکانات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ دفاعی خریداری میں رازداری ضروری ہو سکتی ہے، مگر رازداری اور جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ حساس معلومات محفوظ رکھتے ہوئے قیمتوں کا تقابلی جائزہ، ضرورت کی آزادانہ تصدیق، سپلائرز کی جانچ اور بعد از خرید آڈٹ ممکن ہے۔
اس مقدمے کی ابتدا مبینہ طور پر ایک گمنام شکایت سے ہوئی، جس کے بعد ابتدائی تحقیق، کورٹ آف انکوائری اور تادیبی کارروائی شروع ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر شکایت سامنے نہ آتی تو کیا معمول کے مالی آڈٹ، اسٹاک کی پڑتال یا طبی ضروریات کے جائزے سے معاملہ پکڑا جا سکتا تھا؟ مؤثر احتساب وہ ہے جو غیر معمولی قیمتوں، ذخیرے کے تضادات، غیر ضروری خریداری اور ایک ہی سپلائر کو بار بار فائدہ پہنچانے کے نمونوں کو بروقت شناخت کرے۔
بھارت کے سرکاری آڈٹ ادارے کی سابقہ رپورٹیں بھی دفاعی طبی نظام میں خریداری، آلات، ذخیرہ کاری اور ہسپتال انتظامیہ کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔ یہ رپورٹیں ہر انتظامی خامی کو بدعنوانی ثابت نہیں کرتیں، لیکن یہ دکھاتی ہیں کہ دفاعی طبی شعبہ نگرانی اور وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے پہلے بھی سوالات کی زد میں رہا ہے۔ جب نظامی کمزوریاں برقرار رہیں تو انفرادی بدعنوانی کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے متعلقہ مدت کی خریداریوں، سپلائرز، منظوری دینے والے حکام اور سامان وصول کرنے والے شعبوں کا آزادانہ جائزہ ہونا چاہیے۔
اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کے خلاف کارروائی کو ادارہ جاتی کمزوری نہیں بلکہ احتساب کی آزمائش سمجھا جانا چاہیے۔ فوج کی ساکھ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بنتی؛ اس کی اخلاقی قوت اس بات سے بھی متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر طاقت کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگی سے کیسے نمٹتی ہے۔ اگر قانون ماتحت اہلکار کے لیے سخت اور اعلیٰ افسر کے لیے نرم ہو تو نظم و ضبط رسمی دعویٰ رہ جاتا ہے۔ منصفانہ کارروائی، شواہد کی جانچ اور اپیل کا حق ادارے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتا ہے۔
طبی خریداری میں ہر غیر ضروری خرچ کسی ضروری دوا، آلے، بستر یا مریض کی سہولت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ سرکاری خزانے سے ضائع ہونے والی رقم محض حسابی اندراج نہیں بلکہ محدود وسائل کے نظام میں ضائع ہونے والی طبی صلاحیت ہوتی ہے۔ حساس علاقوں میں قائم ہسپتالوں کو اضافی شفافیت کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ وہاں مریضوں اور طبی عملے کو پہلے ہی غیر معمولی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
دیویندر اروڑا کا مقدمہ ایک فرد سے بڑا معاملہ ہے۔ اس کا بنیادی سبق یہ ہے کہ دفاعی اداروں کی طاقت کو آزاد آڈٹ، شفاف خریداری، قانونی نگرانی اور مؤثر احتساب کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے۔ حتمی فیصلہ توثیق اور اپیل کے بعد مکمل قانونی حیثیت اختیار کرے گا، مگر بھارتی فوجی طبی نظام کو خریداری کے طریقۂ کار، سرٹیفکیٹس کے استعمال، اسٹاک کی تصدیق اور سپلائرز کے انتخاب کا جامع جائزہ لینا چاہیے۔ قومی سلامتی مالی جواب دہی سے استثنا کا جواز نہیں بن سکتی۔ مضبوط فوج وہ ہے جو خامیوں کو چھپانے کے بجائے انہیں تسلیم کرے، ذمہ داروں کا منصفانہ احتساب کرے اور ایسا نظام قائم کرے جس میں مریضوں کے وسائل کو ذاتی یا تجارتی فائدے کے لیے استعمال کرنا ممکن نہ رہے۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔