اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں صبر، رحمت اور عدل محض انفرادی خوبیاں نہیں بلکہ ایک ایسے متوازن معاشرے کی بنیاد ہیں جس میں اختلاف کو دشمنی، شکایت کو انتقام اور غصے کو تشدد میں تبدیل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ قرآن اور سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایک مومن سے مشکل حالات میں سب سے پہلے ضبط، اخلاقی استقامت اور انصاف کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس انتہا پسند سوچ انسان کے جذبات کو اس انداز سے متاثر کرتی ہے کہ غصہ بہادری، سنگ دلی دینی غیرت اور انتقام انصاف محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی اخلاق اور انتہا پسندانہ ذہنیت ایک دوسرے کے بالکل متضاد راستے اختیار کرتے ہیں۔
قرآن مجید اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ صبر کریں، ثابت قدم رہیں اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ کامیابی حاصل ہو۔ سورۃ آل عمران میں ارشاد ہے کہ “اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدم رہو، ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔” صبر کا مفہوم یہ نہیں کہ ظلم یا ناانصافی کو خاموشی سے قبول کر لیا جائے۔ اسلامی تصور میں صبر اپنے جذبات، ردِعمل اور فیصلوں کو اخلاقی حدود میں رکھنے کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوری تشدد پر اکسانے والی فکر دراصل صبر کی قرآنی تعلیم سے انحراف کرتی ہے۔ وہ نوجوان جو کسی حقیقی یا فرضی شکایت کے جواب میں فوراً غصے اور انتقام کی طرف مائل ہو جائے، انتہا پسندوں کے لیے آسان ہدف بن سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں صبر انسان کو جذباتی فیصلے کے بجائے شعوری اور ذمہ دارانہ طرزِعمل اختیار کرنا سکھاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے مومن کی زندگی کا ایک خوبصورت نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا کہ اس کا ہر معاملہ خیر کا باعث ہے۔ خوشی ملے تو شکر کرتا ہے اور تکلیف آئے تو صبر اختیار کرتا ہے۔ یہ تعلیم انسان کو حالات کا غلام بننے کے بجائے اپنے کردار کا مالک بناتی ہے۔ انتہا پسندی اسی داخلی طاقت کو کمزور کرتی ہے۔ وہ محرومی، غصے، بے روزگاری، سیاسی شکایت، فرقہ وارانہ اختلاف یا کسی ناانصافی کو ایسے جذباتی بیانیے میں بدل دیتی ہے جس میں تشدد ایک فوری حل دکھائی دینے لگتا ہے۔ اسلام کا راستہ اس کے برعکس انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ دکھ اور اختلاف کے باوجود اپنی اخلاقی حدود نہ توڑی جائیں۔
غصے پر قابو پانا بھی اسی اخلاقی تربیت کا حصہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسروں کو پچھاڑ دے بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ یہ حدیث طاقت کے اس تصور کی مکمل نفی کرتی ہے جسے شدت پسند گروہ نوجوانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں بلند آواز، سخت زبان، اسلحہ اور فوری انتقام طاقت کی علامت بن جاتے ہیں، جبکہ نبوی معیار میں اپنی خواہش، نفرت اور غصے کو قابو میں رکھنا حقیقی قوت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں اگر نوجوانوں کو یہی تصورِ طاقت تعلیم، خطبات، خاندان اور سماجی تربیت کے ذریعے دیا جائے تو تشدد پسند بیانیوں کی کشش نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔
اسلام کا دوسرا بنیادی اخلاقی ستون رحمت ہے۔ قرآن نبی کریم ﷺ کی بعثت کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رحمت اسلام کے اخلاقی نظام کے کنارے پر موجود کوئی اضافی خوبی نہیں بلکہ خود رسالت کے بنیادی مقصد کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ ایک مسلمان دن میں بار بار اللہ کو رحمٰن اور رحیم کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ایسے دین کے نام پر ایسی سوچ کیسے درست قرار دی جا سکتی ہے جو بے گناہوں کے قتل، عوام میں خوف، عبادت گاہوں پر حملوں یا شہری زندگی کی تباہی کو جائز بنانے کی کوشش کرے؟ یہ رویہ اسلامی رحمت کے تصور سے براہِ راست ٹکراتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے اور زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ اس تعلیم کی روشنی میں کسی شہری، بچے، عورت، مسافر یا ایسے شخص کو نقصان پہنچانا جو کسی تنازعے میں شریک ہی نہ ہو، اسلامی اخلاق کا حصہ نہیں بن سکتا۔ شدت پسند نظریات کا ایک بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ وہ انسانوں کو فرد کے طور پر دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں اور انہیں گروہوں، فرقوں یا شناختوں میں تقسیم کر کے اجتماعی طور پر مجرم قرار دینے لگتے ہیں۔ رحمت اس غیر انسانی رویے کو توڑتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود انسانی جان، عزت اور حرمت باقی رہتی ہے۔
تیسرا ستون عدل ہے۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، خواہ گواہی خود اپنے خلاف کیوں نہ دینی پڑے۔ یہ معیار غیر معمولی ہے کیونکہ اسلام انصاف کو اپنی جماعت، مسلک، خاندان یا سیاسی وابستگی سے مشروط نہیں کرتا۔ سورۃ المائدہ میں مزید واضح فرمایا گیا کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔ یہی تعلیم انتہا پسندانہ انتقام کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ اگر کسی ایک فرد نے جرم کیا ہے تو پوری برادری مجرم نہیں ہو سکتی۔ کسی گروہ سے اختلاف اس کے بے گناہ افراد کے خلاف تشدد کا جواز نہیں بنتا۔ عدل کا مطلب یہی ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق دیکھا جائے، نفرت یا اجتماعی تعصب کے مطابق نہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں حلف الفضول بھی اسی اخلاقی اصول کی روشن مثال ہے۔ نبوت سے قبل رسول اللہ ﷺ ایک ایسے معاہدے میں شریک ہوئے جس کا مقصد مظلوم کی مدد کرنا تھا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی قبیلے سے ہو۔ بعد میں بھی آپ ﷺ نے اس معاہدے کو پسند فرمایا۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کا معیار قبیلہ، نسل یا مذہبی گروہ بندی نہیں بلکہ حق اور انصاف ہے۔ یہی اصول آج کے معاشرے میں بھی فرقہ وارانہ، نسلی اور سیاسی انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
صبر، رحمت اور عدل ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ صبر انسان کو فوری اشتعال سے بچاتا ہے، رحمت اسے سنگ دلی سے روکتی ہے اور عدل اسے انتقام کے بجائے حق کا راستہ دکھاتا ہے۔ صبر اگر رحمت سے خالی ہو تو محض بے حسی بن سکتا ہے۔ رحمت اگر عدل کے بغیر ہو تو کمزوری محسوس ہو سکتی ہے اور عدل اگر صبر سے جدا ہو جائے تو سخت گیری میں بدل سکتا ہے۔ ان تینوں کا امتزاج وہ قرآنی توازن پیدا کرتا ہے جو فرد کو اخلاقی طور پر مضبوط اور معاشرے کو تشدد کے خلاف محفوظ بناتا ہے۔
پاکستان میں انتہا پسندی کا مقابلہ صرف قانون، طاقت یا سکیورٹی اقدامات سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے اخلاقی اور فکری سطح پر بھی کام کرنا ہوگا۔ مدارس، جامعات، مساجد، خاندان، ذرائع ابلاغ اور سماجی ادارے اگر صبر، رحمت اور عدل کو عملی دینی اقدار کے طور پر نمایاں کریں تو شدت پسندانہ بیانیے کی جذباتی بنیاد کمزور کی جا سکتی ہے۔ قرآن کا پیغام زندگی کو سنوارنے، انسان کو اخلاقی بلندی دینے اور معاشرے میں انصاف قائم کرنے کے لیے ہے۔ اسی لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ انتہا پسندی کا مؤثر جواب اسی قرآنی اخلاق کی طرف واپسی میں ہے جہاں غصے کے مقابلے میں صبر، نفرت کے مقابلے میں رحمت اور انتقام کے مقابلے میں عدل کو ترجیح دی جاتی ہے۔
Author
-
View all posts
محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔