ننگرہار کی آگ: خوارج اور افغان سرزمین پر ابھرتا ہوا خطرہ
ضلع اچین، ننگرہار یہ نام افغانستان کے سیاسی اور سلامتی کے نقشے پر کوئی نیا نہیں۔ لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات نے اس خطے کی سنگین صورتحال کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ بلال سروری سمیت متعدد افغان صحافیوں اور مقامی ذرائع کے مطابق، ضلع اچین کے ممند علاقے میں خوارج تنظیم داعش خراسان (ISKP) نے طالبان رجیم کے جنگجوؤں پر حملہ کر کے تقریباً 25 افراد کو ہلاک کیا، اور متعدد کے سر بھی قلم کر دیے گئے۔ یہ واقعہ محض ایک حملہ نہیں، بلکہ افغانستان کے اندر پوشیدہ لیکن خونریز جنگ کی ایک اور ہولناک کڑی ہے۔
اچین: خوارج کا تاریخی گڑھ
ISKP کی سرگرمیاں ننگرہار اور کنڑ میں سب سے زیادہ رہی ہیں، جو تاریخی طور پر اس گروہ کا مرکزی آپریشنل علاقہ ہے۔ ان حملوں کے اہداف میں عام شہری، سیکیورٹی فورسز، اور طالبان جنگجو سبھی شامل رہے ہیں۔ اچین ضلع خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے ابتدائی چار مہینوں میں ISKP نے نو صوبوں میں 119 حملے کیے، جن میں سے 62 یعنی 52 فیصد صرف ننگرہار میں ہوئے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ صوبہ خوارج کے لیے نہ صرف محفوظ پناہ گاہ رہا ہے، بلکہ ان کی عسکری طاقت کا اصل مرکز بھی رہا ہے۔
طالبان اور خوارج: نظریاتی ٹکراؤ کی گہری جڑیں
طالبان اور ISKP کے درمیان یہ لڑائی محض علاقے پر کنٹرول کی جنگ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں نظریاتی اختلافات میں پیوست ہیں۔ ISKP طالبان کو مرتد اور مشرک قرار دیتا ہے، جبکہ طالبان ISKP کے سلفی جنگجوؤں کو "خوارج” یعنی گمراہ فرقے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نظریاتی تنازع کا ایک اہم پہلو عالمی نظام کے بارے میں مختلف نقطہ نظر ہے: داعش پوری دنیا میں خلافت کا قیام چاہتا ہے، جبکہ طالبان افغانستان تک محدود قومی منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ننگرہار، کنڑ اور بدخشاں میں سلفی علماء نے طالبان کی حمایت کرتے ہوئے ISKP کے تشدد کو غیر اسلامی قرار دیا۔
یہ نظریاتی دراڑ اب میدان جنگ میں بھی واضح ہو رہی ہے۔ اچین کا تازہ واقعہ، جس میں طالبان جنگجوؤں کو نہ صرف قتل بلکہ سر قلم کیا گیا، خوارج کی سفاکانہ نفسیاتی جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ طرز عمل ISKP کے اُس وسیع تر تشدد کے نمونے کا حصہ ہے جس میں وہ اپنے مخالفین کے حوصلے پست کرنے اور علاقائی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
خوارج کا بڑھتا ہوا خطرہ اور علاقائی مضمرات
اگرچہ 2025 میں ISKP کے حملوں کی تعداد میں کمی آئی، لیکن گروہ ابھی بھی خطرناک ہے اور اس کا حملہ دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اور تازہ ترین تجزیے اسی خدشے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ISKP اس علاقائی عدم استحکام کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے، اپنی آپریشنل صلاحیت کی تعمیر نو کر رہا ہے، بھرتیاں بڑھا رہا ہے، اور اپنے علاقائی اور بین الاقوامی حملوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔
2025 کے اوائل سے ISKP نے بلوچستان میں بھی اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور بلوچ لبریشن آرمی سے براہ راست تصادم شروع ہوا ہے۔ یہ ISKP کے لیے ایک نئی حکمت عملی ہے جس کے تحت وہ پاکستانی ریاست کو کمزور کرنے اور بی ایل اے کی قوم پرستانہ اپیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے۔
اپریل 2026 میں ہرات کے انجیل ضلع میں ایک مزار پر شیعہ اجتماع کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ISKP کی کارروائیوں کا دائرہ ننگرہار تک محدود نہیں رہا۔
پاک افغان سرحد اور خوارج کا چیلنج
2021 کے بعد سے افغانستان کی سلامتی کی صورتحال بنیادی طور پر بدل چکی ہے۔ طالبان جو پہلے خطرہ تھے اب حکمران ہیں، جبکہ ISKP سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ پاک افغان سرحد کے قریب اچین ضلع میں ISKP کی بڑھتی سرگرمی صرف افغانستان کا مسئلہ نہیں رہا یہ پورے علاقے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
خوارج کا اصل فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب اس خطے کی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف مصروف ہو جاتی ہیں، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی یونٹس کمزور پڑ جاتے ہیں، اور خوارج کے خلاف مشترکہ آپریشن پس پشت چلا جاتا ہے۔
نتیجہ: خوارج کا راستہ روکنا وقت کی ضرورت
اچین کا تازہ واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ خوارج کی عسکری صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ وہ علاقائی عدم استحکام کو اپنی طاقت بنا رہے ہیں۔ طالبان ISKP کو اپنے اقتدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں، لیکن شہری خفیہ خلیوں کو ختم کرنے اور نرم اہداف پر حملے روکنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
ISKP پر پہلا بڑا کاری ضرب اس وقت لگا جب طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالتے ہی ISKP کی قیادت کو نشانہ بنایا، تاہم یہ لڑائی ابھی تک جاری ہے۔
افغانستان کے اندر خوارج کا یہ پھیلاؤ صرف افغان مسئلہ نہیں یہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ننگرہار کی آگ ابھی بجھی نہیں، بلکہ تیز ہو رہی ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے باقی دنیا کو مربوط قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے، ورنہ خوارج کا یہ فتنہ مزید خون بہاتا رہے گا۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: