پاکستان کی نظریاتی اور آئینی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ ریاستی نظام، قانون سازی اور اجتماعی زندگی کو قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ رکھا جائے۔ قراردادِ مقاصد اسی اصول کو پاکستان کے آئینی ڈھانچے کا حصہ بناتی ہے، جبکہ وفاقی شرعی عدالت کو یہ ذمہ داری حاصل ہے کہ وہ ملکی قوانین کا اسلامی احکامات کی روشنی میں جائزہ لے۔ اس قانونی اور آئینی نظام کی موجودگی میں کسی فرد یا مسلح گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی سیاسی ترجیحات، محدود مذہبی تشریحات یا تنظیمی مفادات کی بنیاد پر ریاست اور معاشرے کے خلاف مسلح کارروائی کو دینی فریضہ قرار دے۔ خوارج کا بنیادی فکری مسئلہ یہی ہے کہ وہ مذہب کے مسلمہ اصولوں کو اپنے سیاسی اور پرتشدد مقاصد کے تابع کرکے پیش کرتے ہیں۔
اسلام کا بنیادی پیغام امن، عدل، رحمت، انسانی جان کے احترام اور اجتماعی نظم کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ قرآن مجید انسانی جان کی حرمت کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور ناحق قتل کو ایک سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ اس کے باوجود شدت پسند گروہ مذہبی اصطلاحات کا انتخابی استعمال کرتے ہوئے تشدد کو مقدس حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب دہشت گردی کو جہاد، ریاستی اداروں پر حملے کو دینی مزاحمت اور عام شہریوں کے قتل کو کسی خود ساختہ مذہبی مقصد کے حصول کا ذریعہ قرار دیا جائے تو یہ دراصل مذہبی تعلیمات کی تشریح نہیں بلکہ ان کی تحریف بن جاتی ہے۔
خوارج کے بیانیے میں سب سے نمایاں تحریف تصورِ جہاد کے حوالے سے سامنے آتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں جہاد ایک جامع تصور ہے جو محض جنگ یا مسلح تصادم تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ عدل، ذمہ داری، اخلاقی حدود، نظم و ضبط اور اجتماعی مصلحت کے واضح تقاضے وابستہ ہیں۔ جنگی حالات میں بھی عورتوں، بچوں، غیر جنگجو افراد اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس لیے بازاروں، مساجد، تعلیمی اداروں، سکیورٹی چوکیوں یا عوامی مقامات پر حملے کرکے انہیں جہاد کہنا اسلامی تعلیمات کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کسی مسلح گروہ کا اپنے طور پر جہاد کا اعلان کردینا اس کے اقدامات کو شرعی جواز فراہم نہیں کرتا۔
خوارج کے فکری تضاد کو سمجھنے کے لیے ان کے بدلتے ہوئے سیاسی دلائل کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ ایک عرصے تک پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ان کی مسلح کارروائیوں کا بنیادی جواز بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی کو مذہبی غداری سے جوڑتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ ان تعلقات کی موجودگی میں ریاست کے خلاف مسلح کارروائی جائز ہے۔ لیکن ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد اس دلیل کی عملی بنیاد کمزور پڑ گئی، جبکہ پاکستان کے اندر دہشت گردی اور خونریزی ختم نہیں ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک خارجہ پالیسی کے فیصلے سے متعلق نہیں بلکہ تشدد پر مبنی ایک ایسے سیاسی منصوبے سے جڑا ہے جس کے لیے مذہبی دلائل حالات کے مطابق تبدیل کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح غیر مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کے سفارتی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو ’’موالات‘‘ کے نام پر حرام یا غداری قرار دینا بھی دینی تعلیمات کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کرنے کے مترادف ہے۔ اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ غیر مسلم اقوام کے ساتھ معاہدات، تجارت، سفارت کاری اور پرامن روابط ہمیشہ مطلق طور پر ممنوع نہیں رہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں صلح حدیبیہ اس حوالے سے ایک نمایاں مثال ہے، جہاں اختلاف اور کشیدگی کے باوجود ایک منظم معاہدے کے ذریعے امن اور سیاسی حکمت کو ترجیح دی گئی۔ لہٰذا جدید ریاست کے معمول کے سفارتی تعلقات کو کفر یا مذہبی جرم قرار دینا نہ صرف تاریخی حقیقت سے متصادم ہے بلکہ مسلم معاشروں کو عالمی نظام سے الگ تھلگ کرنے کی ایک خطرناک کوشش بھی ہے۔
پاکستان کے جید علماء کی اجتماعی آرا بھی اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ ریاست کے خلاف خود ساختہ مسلح جدوجہد اور بے گناہ لوگوں کا قتل اسلامی جہاد کے زمرے میں نہیں آتا۔ دہشت گردی، خودکش حملوں اور ناحق خونریزی کے خلاف بڑی تعداد میں علماء کی جانب سے جاری کیے گئے فتاویٰ اس مذہبی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتے ہیں کہ کسی تنظیم کو اپنی مرضی سے لوگوں کو کافر قرار دینے، قتل کے احکامات صادر کرنے یا مسلح بغاوت شروع کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ مذہبی فتویٰ جب سیاسی انتقام اور تنظیمی مفاد کا ہتھیار بن جائے تو اس کا نتیجہ دین کی خدمت نہیں بلکہ معاشرتی انتشار اور فساد کی صورت میں نکلتا ہے۔
ممتاز مذہبی علماء بھی بارہا اس اصول کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جہاد کے نام پر عام شہریوں، سرکاری اہلکاروں یا غیر جنگجو افراد کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خلاف اپنے موقف میں شہریوں کی جان کی حرمت پر زور دیا ہے، جبکہ مفتی عبدالرحیم سمیت متعدد علماء جہاد اور مسلح اقدام کو ریاستی نظم و اختیار سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ اس اصول کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر ہر تنظیم یا فرد اپنی مذہبی تعبیر کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے لگے تو ریاست، معاشرہ اور قانون کا پورا نظام ختم ہو جائے گا اور مذہب انتشار کا ذریعہ بن جائے گا۔
خوارج کی تکفیری سوچ بھی اسی تحریف کا دوسرا رخ ہے۔ سیاسی اختلاف رکھنے والوں، ریاستی اہلکاروں، علماء یا عام شہریوں پر کفر کے فتوے عائد کرنا اور پھر اسی بنیاد پر ان کے قتل کو جائز سمجھنا ایک نہایت خطرناک فکری رویہ ہے۔ اسلامی علمی روایت میں تکفیر ہمیشہ انتہائی حساس اور سخت شرائط سے مشروط مسئلہ رہی ہے۔ اس کے برعکس شدت پسند تنظیمیں تکفیر کو سیاسی ہتھیار بنا کر اختلاف کو جرم اور قتل کو مذہبی ذمہ داری میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی سوچ معاشرے میں خوف، تقسیم اور مسلسل تشدد کو جنم دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے خوارج کے خلاف جدوجہد محض عسکری یا سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک فکری اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ ریاست کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ مدارس، جامعات، مساجد، ذرائع ابلاغ اور علمی اداروں کے ذریعے جہاد، تکفیر، ریاست، امن اور انسانی جان کی حرمت سے متعلق درست اسلامی تصورات کو بھی عام کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ مذہبی جذبات اور مذہبی علم دو مختلف چیزیں ہیں اور کسی مسلح تنظیم کا قرآن و حدیث کے چند اقتباسات پیش کرنا اس کے سیاسی مقاصد کو اسلامی نہیں بناتا۔
اصل مقابلہ اسلام اور کسی مخالف نظریے کے درمیان نہیں بلکہ اسلام کی مستند تعلیمات اور مذہب کی سیاسی تحریف کے درمیان ہے۔ خوارج مذہب کو تشدد کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ اسلامی اصول جان کے تحفظ، عدل، اجتماعی نظم اور امن کی تعلیم دیتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ریاست اور معاشرے کا مشترکہ موقف اسی وقت زیادہ مؤثر ہوگا جب عسکری کارروائی کے ساتھ اس فکری تحریف کو بھی بے نقاب کیا جائے۔ خوارج کے خود ساختہ جہاد کو مسترد کرنا دراصل جہاد کے حقیقی اسلامی تصور، انسانی جان کی حرمت اور معاشرے کے امن و استحکام کا دفاع ہے۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔