Nigah

بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی سیاست

[post-views]

سیاست میں اختلاف، احتجاج اور مطالبات ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، حکومتوں سے سوال کرتے ہیں اور بعض اوقات دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاجی راستہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ لیکن ہر جدوجہد کی ایک اخلاقی حد ہوتی ہے۔ جب کسی سیاسی مطالبے کی قیمت بچوں کی تعلیم، ان کے مستقبل اور ایک پوری نسل کی ذہنی نشوونما بننے لگے تو یہ سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ کیا سیاست واقعی اس مقام تک پہنچ سکتی ہے جہاں بچوں کو اسکول نہ بھیجنے کا مشورہ بھی احتجاج کا طریقہ قرار دیا جائے؟

سردار امان سے منسوب یہ مطالبہ کہ مسئلہ حل ہونے تک والدین اپنے بچوں کو اسکول نہ بھیجیں، اسی لیے تشویش کا باعث ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اسکول جانے والے بچے کسی سیاسی تنازعے کے فریق نہیں ہوتے۔ وہ نہ حکومتی پالیسی بناتے ہیں اور نہ احتجاجی فیصلے۔ ان کا بنیادی حق تعلیم حاصل کرنا ہے۔ اگر انہیں اسکولوں سے دور رکھ کر کسی فریق پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دراصل سب سے بڑا نقصان انہی بچوں کا ہوتا ہے جن کا اس تنازعے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔

تعلیم میں ایک دن کا تعطل بظاہر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن جب یہی سلسلہ ہفتوں یا مہینوں تک پھیل جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ نصاب پیچھے رہ جاتا ہے، امتحانات متاثر ہوتے ہیں، بچوں کی تعلیمی عادت ٹوٹتی ہے اور والدین پر اضافی دباؤ بڑھتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر وہ خاندان ہوتے ہیں جن کے پاس نجی ٹیوشن، آن لائن تعلیم یا گھر پر اساتذہ کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ یوں ایسا فیصلہ جو بظاہر سیاسی دباؤ کے لیے کیا جاتا ہے، عملی طور پر معاشرے کے غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ کہنا کہ بچوں کو اسکول نہ بھیجیں اور گھر پر مائیں، بہنیں یا بیٹیاں انہیں پڑھا دیں، زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گھر کی تعلیم معاون کردار ضرور ادا کر سکتی ہے، مگر اسے باقاعدہ اسکول، تربیت یافتہ اساتذہ، نصاب، امتحانی نظام اور اجتماعی تعلیمی ماحول کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہر والدہ یا بہن کے پاس نہ تدریسی تربیت ہوتی ہے، نہ ہر مضمون پر مہارت، اور نہ ہی ہر خاندان کے پاس ایسا وقت اور وسائل ہوتے ہیں کہ وہ پورے اسکولی نظام کو گھر میں منتقل کر سکے۔

یہ دلیل اپنی جگہ ایک تضاد بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر تعلیم واقعی اتنی اہم ہے کہ بچوں کو گھر میں لازماً پڑھایا جائے تو پھر انہیں اس ادارے سے کیوں دور کیا جائے جو اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے؟ اسکول صرف کتابی تعلیم کا نام نہیں۔ وہاں بچے نظم و ضبط سیکھتے ہیں، اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ رہنا سیکھتے ہیں، سوال کرنا، مکالمہ کرنا، مقابلہ کرنا اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کو چند گھنٹوں کی گھریلو ٹیوشن سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی احتجاج کی شدت بڑھاتے ہوئے کہیں بچوں کو دباؤ کے آلے میں تبدیل نہ کر دیا جائے۔ اگر کسی تحریک کے مطالبات جائز بھی ہوں تو ان کے حصول کے لیے ایسے ذرائع اختیار نہیں کیے جا سکتے جو ایک پوری نسل کے بنیادی حقوق کو نقصان پہنچائیں۔ بچوں کی تعلیم کسی حکومت، جماعت، تنظیم یا احتجاجی قیادت کی ملکیت نہیں۔ یہ والدین اور ریاست دونوں کی ذمہ داری ہے اور خود بچوں کا بنیادی حق ہے۔

آزادکشمیر جیسے خطے میں تعلیم کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کے لیے تعلیم روزگار، سماجی ترقی اور بہتر مستقبل تک پہنچنے کا بنیادی راستہ ہے۔ پہلے ہی روزگار کے محدود مواقع، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر سیاسی کشمکش کے نتیجے میں تعلیمی سلسلہ بھی متاثر ہو تو اس کا بوجھ ان نوجوانوں کو کئی سال تک اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

احتجاجی قیادت کو بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ سیاسی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے اسکول بند کرا سکتی ہے یا کتنے بچوں کو گھروں میں بٹھا سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے لیے ایسے جمہوری اور پُرامن راستے تلاش کرے جن سے عام شہریوں، طالب علموں، مریضوں، مزدوروں اور روزمرہ زندگی پر کم سے کم منفی اثر پڑے۔ مذاکرات، جلسے، پریس کانفرنسیں، قانونی راستے اور پُرامن مظاہرے سب دستیاب طریقے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کو روکنا ان میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

والدین کے سامنے بھی ایک واضح ذمہ داری ہے۔ سیاسی وابستگیاں اور اجتماعی مطالبات اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، لیکن بچے کا تعلیمی مستقبل کسی سیاسی ضد یا وقتی حکمت عملی کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ والدین کو یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اگر آج ان کا بچہ اسکول سے باہر رہتا ہے تو اس نقصان کی ذمہ داری کل کون قبول کرے گا؟ کوئی سیاسی رہنما اس کے چھوٹے ہوئے اسباق، ضائع ہونے والے امتحان یا متاثر ہونے والے مستقبل کو واپس نہیں لا سکتا۔

سیاست بالآخر لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ مستقبل ہی کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ آزادکشمیر کے بچوں کو کسی احتجاج کا ایندھن بنانے کے بجائے انہیں کتاب، قلم، کلاس روم اور محفوظ تعلیمی ماحول ملنا چاہیے۔ اختلاف جاری رہ سکتا ہے، مطالبات اٹھائے جا سکتے ہیں اور حکومت سے جواب طلب کیا جا سکتا ہے، مگر ایک اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے: بچوں کی تعلیم سیاست سے بالاتر ہے۔ جو بھی تحریک عوامی حقوق کی بات کرتی ہے، اسے سب سے پہلے بچوں کے حقِ تعلیم کا احترام کرنا ہوگا۔ یہی ذمہ دار سیاست اور حقیقی عوامی نمائندگی کا بنیادی معیار ہے۔

Author

  • Professor Dr. Waqas Khan

    Professor Dr. Waqas Khan is a scholar of climate change, security, diplomacy, and international affairs. He earned his PhD from Beijing University, China. His research focuses on the links between environmental challenges and global security, emphasizing international cooperation, strategic policy, and the role of diplomacy in addressing emerging global issues.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔