دہشت گردی صرف بندوق، بارود اور خودکش حملوں تک محدود نہیں رہی۔ جدید تنازعات میں ایک دوسری جنگ بھی ساتھ چلتی ہے، جس کا میدان موبائل فون، سوشل میڈیا اور عوامی ذہن ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ریاست جس کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے نام سے پکارتی ہے، اس کے حوالے سے بھی یہی پہلو تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ایک حالیہ مباحثے میں بھی ٹی ٹی پی کو ایک ایسے گروہ کے طور پر بیان کیا گیا جو ڈیجیٹل پروپیگنڈا کے لیے جدید ذرائع، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت سے تیار یا بہتر کیے گئے مواد کو بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس پس منظر میں کسی دہشت گرد کارروائی کے بعد اصل واقعے کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اس واقعے کو آن لائن کس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
فتنہ الخوارج کے لیے اطلاعاتی جنگ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ دہشت گردی کے نتیجے میں شہریوں، پولیس، فوج اور مقامی آبادی کو پہنچنے والا نقصان اس کے اپنے بیانیے کے لیے ایک بنیادی تضاد پیدا کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں اور ان کا بڑا حصہ پاکستانی فوجی اور ریاستی اداروں کے خلاف رہا ہے۔ ایسے ماحول میں گروہ کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کو کسی دوسرے معنی میں پیش کرے، اپنی ذمہ داری کو کم کرے اور ریاستی اداروں کو حملہ آور کے طور پر دکھانے کی کوشش کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دہشت گردی اور پروپیگنڈا ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔
جعلی حملوں کے دعوے اس حکمت عملی کا مؤثر ہتھیار بن سکتے ہیں۔ کسی معمولی واقعے کو بڑی کارروائی قرار دینا، ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر بیان کرنا، کسی پرانی تصویر یا ویڈیو کو نئے واقعے سے جوڑ دینا یا سکیورٹی کارروائی کے حقائق کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرنا چند ایسے طریقے ہیں جن سے عوامی تاثر متاثر کیا جا سکتا ہے۔ مقصد ضروری نہیں کہ ہر شخص اس خبر پر یقین کر لے۔ بعض اوقات صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ لوگوں کے ذہن میں شک پیدا ہو جائے۔ جب ایک ہی واقعے کی کئی متضاد کہانیاں گردش کرنے لگیں تو عام شہری کے لیے حقیقت اور پروپیگنڈا میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے فتنہ الخوارج کی اطلاعاتی حکمت عملی کو محض چند سوشل میڈیا پوسٹس سمجھنا غلط ہوگا۔ ایک جھوٹا دعویٰ پہلے کسی گمنام اکاؤنٹ سے سامنے آ سکتا ہے، پھر اسے دوسرے صفحات، ویڈیوز، تبصروں اور پیغامات کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں ایسا تاثر پیدا ہو جاتا ہے جیسے متعدد آزاد ذرائع ایک ہی بات کی تصدیق کر رہے ہوں، حالانکہ اصل میں تمام مواد ایک ہی غیر مصدقہ دعوے سے نکلا ہوتا ہے۔ یہی مربوط غلط معلومات کی طاقت ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بھی حالیہ حساس حالات میں شہریوں کو غیر مصدقہ، اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد آگے پھیلانے سے گریز کی ہدایت کر چکی ہے۔
ایک اور حساس پہلو جنگجوؤں اور عام شہریوں کے درمیان فرق کا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ دہشت گرد بعض اوقات شہری آبادی میں چھپنے، عام لباس استعمال کرنے اور رہائشی علاقوں سے اپنی سرگرمیاں چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی مسلح گروہ خود کو شہری ماحول میں چھپاتا ہے تو وہ صرف اپنی شناخت نہیں چھپا رہا ہوتا بلکہ مقامی آبادی کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہوتا ہے۔ بعد ازاں کسی نقصان کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کرنا پروپیگنڈا کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم ایسے ہر مخصوص واقعے میں دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری رہتی ہے، کیونکہ اطلاعاتی جنگ میں دونوں طرف سے سامنے آنے والی تفصیلات کو ثبوت کی بنیاد پر جانچنا ہی بہتر راستہ ہے۔
اس سے بھی زیادہ سنگین صورت وہ ہے جب مسلح عناصر گھروں، مذہبی مقامات، تعلیمی عمارتوں یا گنجان آبادی کو پناہ، اسلحہ چھپانے یا نقل و حرکت کے لیے استعمال کریں۔ اگر کسی مخصوص واقعے میں ایسا ثابت ہو تو یہ مقامی شہریوں کی جان کو براہ راست خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور مذہبی و انسانی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ شہری آبادی کسی بھی مسلح گروہ کے لیے حفاظتی پردہ نہیں ہونی چاہیے۔ لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے بعد انہی کے مصائب کو سیاسی یا پروپیگنڈا مواد میں بدل دینا دہشت گردی کی انسانی قیمت کو دوگنا کر دیتا ہے۔
پروپیگنڈا کا ایک بنیادی مقصد ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانا بھی ہوتا ہے۔ دہشت گرد گروہ جانتے ہیں کہ وہ روایتی میدان میں ریاستی اداروں کی صلاحیت کا مقابلہ محدود حد تک ہی کر سکتے ہیں، مگر اطلاعاتی میدان میں ایک جھوٹا پیغام چند منٹ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے جعلی ہلاکتوں، فرضی حملوں، غیر مصدقہ آڈیوز، کٹی ہوئی ویڈیوز اور جذباتی تصاویر کا استعمال اہم بن جاتا ہے۔ مارچ 2026 میں سامنے آنے والی بعض جنگی دعوؤں کے بارے میں پاکستانی حکام نے بھی کہا تھا کہ ان کے حق میں قابل تصدیق ثبوت موجود نہیں تھے، جس سے موجودہ علاقائی کشیدگی میں تصدیق کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔
اس مسئلے کا جواب صرف مخالف پروپیگنڈا نہیں ہو سکتا۔ ریاستی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ کسی بڑے واقعے کے بعد ممکن حد تک تیزی سے قابل تصدیق معلومات، تصاویر، وقت، مقام اور دیگر بنیادی حقائق عوام کے سامنے رکھیں۔ معلومات کا خلا جتنا بڑا ہوگا، افواہوں کے لیے اتنی ہی زیادہ جگہ پیدا ہوگی۔ میڈیا اداروں، صحافیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی دہشت گرد تنظیموں کے دعووں کو محض سنسنی خیز سرخیوں کی بنیاد پر آگے بڑھانے کے بجائے واضح طور پر بتانا چاہیے کہ کون سا دعویٰ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ہے اور کون سا صرف کسی مسلح گروہ کا بیان ہے۔
عوام کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ ہر ویڈیو حقیقت نہیں، ہر تصویر اسی دن کی نہیں اور ہر وائرل پیغام خبر نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ذمہ دار شہری ہونے کا مطلب صرف سکیورٹی فورسز کی حمایت نہیں بلکہ معلومات کی تصدیق بھی ہے۔ کسی نامعلوم اکاؤنٹ کی پوسٹ کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خبر کہاں سے آئی، اس کا اصل ماخذ کیا ہے اور کیا کسی قابل اعتماد ذریعے نے اس کی تصدیق کی ہے۔
فتنہ الخوارج کی اصل طاقت صرف اسلحہ نہیں بلکہ خوف، ابہام اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ جعلی حملوں کی کہانیاں، مبالغہ آمیز ہلاکتیں اور مسخ شدہ واقعات اسی بڑی اطلاعاتی حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس کا مؤثر جواب جذباتی ردعمل نہیں بلکہ شفاف معلومات، تیز رفتار حقائق کی فراہمی، آزادانہ تصدیق اور عوام کی ڈیجیٹل آگاہی ہے۔ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے میدان میں کامیابی ضروری ہے، لیکن اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ جھوٹ کو حقیقت کا لباس پہن کر عوامی ذہن پر قبضہ نہ کرنے دیا جائے۔
Author
-
View all postsProfessor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.