اسلام کے نام پر سب سے خطرناک تحریف وہ ہے جس میں ایک حرام عمل کو مذہبی اصطلاحات کا لباس پہنا کر مقدس بنانے کی کوشش کی جائے۔ خودکش حملوں کے معاملے میں یہی مسئلہ ہمارے سامنے ہے۔ کسی انسان کا اپنی جان جان بوجھ کر ختم کرنا اور ساتھ بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دینا نہ عبادت ہے، نہ قربانی اور نہ ہی شہادت کا کوئی قابل قبول راستہ۔ قرآن مجید واضح حکم دیتا ہے کہ ’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو‘‘ یعنی انسانی جان، حتیٰ کہ انسان کی اپنی جان بھی، اس کی ایسی ذاتی ملکیت نہیں جسے وہ کسی تنظیم، کمانڈر یا سیاسی مقصد کے لیے ختم کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی خودکشی کے بارے میں نہایت سخت تنبیہ فرمائی۔ صحیح بخاری میں خود کو ہلاک کرنے والے کے لیے سخت وعید بیان ہوئی ہے۔ محض کسی دھماکے کو ’’فدائی کارروائی‘‘ یا حملہ آور کو ’’شہید‘‘ کہہ دینے سے فعل کی شرعی حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی۔
یہاں بنیادی سوال نیت کے دعوے کا نہیں بلکہ عمل کی شرعی حیثیت کا ہے۔ اسلام میں اچھا مقصد حرام ذریعے کو حلال نہیں کرتا۔ اگر کسی کارروائی میں نمازی، طالب علم، بازار میں موجود شہری، مسافر، مزدور، ڈرائیور یا راہ گیر مارے جائیں تو کسی سیاسی شکایت یا مذہبی نعرے سے ان کا خون مباح نہیں ہو جاتا۔ قرآن انسانی جان کے احترام کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور قتل ناحق کو سنگین ترین جرائم میں شمار کرتا ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر یہ تصور ناقابل قبول ہے کہ کسی بڑے سیاسی مقصد کی خاطر چند بے گناہ جانوں کو ’’ضروری نقصان‘‘ سمجھ لیا جائے۔
شدت پسند بیانیے کی ایک دوسری خرابی اجتماعی جرم کا تصور ہے۔ کبھی کسی شخص کو حکومت کا حمایتی کہہ کر نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی کسی خاندان، فرقے، علاقے یا قوم سے تعلق اس کے خلاف جرم بنا دیا جاتا ہے۔ قرآن اس اصول کو رد کرتا ہے کہ ایک انسان دوسرے کا بوجھ اٹھائے۔ کوئی بچہ اپنے باپ کے عمل کا مجرم نہیں، کوئی شہری حکومت کی کسی پالیسی کا ذاتی طور پر ذمہ دار نہیں اور کسی خاندان یا برادری کی شناخت اسے قتل کا مستحق نہیں بنا سکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کی حالت میں بھی عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ جب باقاعدہ جنگ میں بھی غیر جنگجوؤں کی جان محفوظ ہے تو بازار، مسجد، اسکول یا مسافر گاڑی میں انہیں نشانہ بنانے کے لیے مذہبی دلیل کہاں سے آ سکتی ہے؟
یہ تحفظ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ اسلامی روایت عہد، امان اور شہری تحفظ کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ نے معاہد، یعنی مسلمانوں کی امان میں رہنے والے شخص، کے قتل پر ایسی سخت وعید بیان فرمائی کہ قاتل جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہنے کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مذہبی اختلاف کسی پڑوسی، اقلیتی شہری، غیر ملکی مہمان یا محفوظ شخص کی جان کو بے قیمت نہیں بناتا۔ پاکستان کا قومی بیانیہ بھی مذہبی اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ، فرقہ وارانہ تشدد کی ممانعت اور مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی نفی کرتا ہے۔
شدت پسند بھرتی کرنے والے نوجوانوں کو ایک اور خطرناک فریب دیتے ہیں کہ تنظیم کا امیر یا کمانڈر ان کے لیے آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ مگر اسلام میں کوئی کمانڈر جنت کی ضمانت نہیں دے سکتا، نہ کسی دوسرے شخص پر اپنے گناہ کی ذمہ داری منتقل کر سکتا ہے۔ صحیح بخاری میں وہ واقعہ موجود ہے جس میں ایک امیر نے اپنے ماتحتوں کو آگ میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ صحابہؓ نے ایسا نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہے۔ یعنی خودکشی یا ناجائز قتل کا حکم ماننے سے انکار بغاوت نہیں بلکہ دینی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح وردی کسی انسان کو کافر نہیں بناتی۔ پولیس اہلکار، فوجی، سرکاری ملازم یا کسی ریاستی ادارے سے وابستہ شخص کو محض اس کی ملازمت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا خطرناک تکفیری سوچ ہے۔ قرآن سورۃ النساء میں یہ تنبیہ کرتا ہے کہ جو شخص سلام اور ایمان کا اظہار کرے، اسے دنیاوی مفاد کی خاطر یہ نہ کہا جائے کہ تم مومن نہیں۔ پاکستان کے قومی بیانیہ برائے انسداد دہشت گردی میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریاستی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کو کافر قرار دے کر ان کے قتل کا جواز پیدا کرنا قابل قبول نہیں اور مسلح تشدد کو شریعت کے نفاذ کا راستہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فتنے کے نام پر قتل و فساد پیدا کرنا بھی ایک گہرا تضاد ہے۔ قرآن اگر دو مسلمان گروہوں کے درمیان نزاع ہو تو اصلاح، انصاف اور صلح کا راستہ دکھاتا ہے۔ فتنہ ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ شہر خوف میں مبتلا کر دیے جائیں اور عام لوگوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جائے۔ صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں سخت الفاظ فرمائے جو امت پر ٹوٹ پڑے، نیک و بد کی تمیز ختم کر دے اور عہد رکھنے والوں کا بھی لحاظ نہ کرے۔ یہ اصول واضح کرتا ہے کہ اندھا دھند تشدد اسلامی نظم اخلاق کے بالکل برعکس ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ معاشروں میں ناانصافی، سیاسی شکایات، غربت، محرومی اور غصہ موجود ہو سکتا ہے۔ مگر اسلام مظلوم ہونے کو ظالم بننے کا لائسنس نہیں دیتا۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ کسی قوم سے دشمنی انسان کو انصاف چھوڑنے پر مجبور نہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اصل طاقت اس شخص کی قرار دی جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ یہی فرق انصاف اور انتقام میں ہے۔ انصاف ثبوت، قانون اور ذمہ داری مانگتا ہے جبکہ انتقام اکثر پہلے مار دیتا ہے اور بعد میں الزام تلاش کرتا ہے۔
اسی اصول کا اطلاق مالی اور سماجی مدد پر بھی ہوتا ہے۔ ایسی تنظیم کو چندہ دینا جو قتل، خودکش حملوں، نفرت یا بھرتی میں ملوث ہو، صرف اس لیے صدقہ نہیں بن جاتا کہ چندہ مذہبی نام سے مانگا گیا ہے۔ قرآن گناہ اور زیادتی میں تعاون سے منع کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ظالم کی مدد کی تشریح یہ فرمائی کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔ لہٰذا اصل خیر یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں، یتیموں، زخمیوں، بے گھر افراد اور بحالی کے منصوبوں کی مدد کی جائے، نہ کہ ایسے نیٹ ورکس کی جو نوجوانوں کو موت کی طرف دھکیلتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام زندگی سے مایوسی نہیں، زندگی کی اصلاح سکھاتا ہے۔ قرآن اللہ کی رحمت سے ناامید ہونے سے منع کرتا ہے۔ ایک بھٹکا ہوا نوجوان بھی واپس آ سکتا ہے، توبہ کر سکتا ہے، علم حاصل کر سکتا ہے اور معاشرے کے لیے مفید زندگی گزار سکتا ہے۔ دہشت گرد بھرتی کرنے والا اسے موت کے بعد عزت کا خواب دکھاتا ہے، جبکہ اسلام اسے زندگی میں ذمہ داری، توبہ، عدل اور خدمت کا راستہ دیتا ہے۔ انتہا پسندی کے مقابلے میں مؤثر دینی جواب صرف مذمت نہیں بلکہ متبادل بھی ہونا چاہیے، جس میں معتبر علما کی رہنمائی، نفسیاتی اور سماجی بحالی، قانونی احتساب، متاثرین کے حقوق اور خطرے میں موجود نوجوانوں کے لیے واپسی کا دروازہ شامل ہو۔ اسلام کی قوت بے گناہ خون بہانے میں نہیں، بلکہ جان بچانے، ظلم روکنے اور انسان کو تباہی سے واپس لانے میں ہے
Author
-
View all postsProfessor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.