Nigah

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں

[post-views]

خیبرپختونخوا ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل اور مشکل جدوجہد کا اہم محاذ رہا ہے۔ شمالی وزیرستان، ہنگو اور دوسرے حساس اضلاع میں سکیورٹی فورسز کو ایسے نیٹ ورکس کا سامنا ہے جو بارودی سرنگوں، گھات لگا کر حملوں اور چھوٹے مسلح گروہوں کے ذریعے ریاستی رٹ اور شہری زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 15 سے 17 ستمبر 2026 کے دوران شمالی وزیرستان اور ہنگو میں ہونے والی حالیہ کارروائیاں اسی مسلسل جنگ کی ایک اہم کڑی ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ان کارروائیوں میں دس عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ 17 ستمبر کو ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر آئی ای ڈی حملے کے نتیجے میں چھ فوجی جان سے گئے۔

ان واقعات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی صرف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں رہی۔ شمالی وزیرستان میں کارروائی مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں چھ عسکریت پسند مارے گئے۔ ہنگو میں ایک الگ کارروائی میں مزید چار عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی میں انٹیلی جنس، مقامی معلومات اور مخصوص اہداف کے خلاف کارروائی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

یہ طریقہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دہشت گرد گروہ روایتی محاذ پر سامنے آنے کے بجائے چھوٹے گروپوں، محفوظ ٹھکانوں، آئی ای ڈیز اور اچانک حملوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے دشمن کے خلاف صرف عددی طاقت کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے معلومات کی درستگی، تیز ردعمل، علاقوں کی مسلسل نگرانی اور مقامی سطح پر اداروں کے درمیان رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ دس عسکریت پسندوں کا مختلف مقامات پر مارا جانا ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی ادارے دہشت گرد نیٹ ورکس کو صرف ان کے حملوں کے بعد جواب دینے کے بجائے ان کے عملی ڈھانچے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کارروائیوں کے دوران ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ فوج کے مطابق مارے جانے والے افراد علاقے میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔ اس قسم کی برآمدگی کی اہمیت صرف اسلحے کی تعداد تک محدود نہیں ہوتی۔ ہر برآمد شدہ ہتھیار، بارودی مواد یا جنگی سامان کسی نیٹ ورک کی رسد، رابطوں اور عملی صلاحیت کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ یہی معلومات بعد کی کارروائیوں اور سہولت کاروں تک پہنچنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

تاہم اس کامیابی کی قیمت بھی بھاری رہی۔ آئی ای ڈی حملے میں چھ فوجی اہلکاروں کی ہلاکت یاد دلاتی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی محض اعداد و شمار یا سرکاری بیانات کا موضوع نہیں بلکہ انسانی جانوں کی قربانی سے جڑی ایک تلخ حقیقت ہے۔ دشوار گزار علاقوں میں گشت، قافلوں کی نقل و حرکت اور خفیہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں مستقل خطرات سے بھری ہوتی ہیں۔ بارودی مواد کا استعمال دہشت گرد گروہوں کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ براہ راست مقابلے کے بجائے اچانک نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں خدمات انجام دینے والے اہلکار ہر روز غیر معمولی خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔

یہ قربانیاں ایک اور بنیادی حقیقت سامنے لاتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف اس وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب فوج، پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ادارے، انٹیلی جنس تنظیمیں اور مقامی انتظامیہ ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں۔ کسی ایک کارروائی میں دس عسکریت پسندوں کا خاتمہ اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ ان کے نیٹ ورک دوبارہ منظم نہ ہو سکیں، نئی بھرتی محدود ہو، مالی معاونت کے ذرائع منقطع ہوں اور مقامی سہولت کاری کا نظام ٹوٹے۔ اسی لیے کارروائی کے بعد علاقے کی کلیئرنس اور نگرانی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی ابتدائی مسلح کارروائی۔

فوجی ترجمان نے مارے جانے والے عسکریت پسندوں کو حکومت کی اصطلاح میں فتنہ الخوارج قرار دیا اور ان کے لیے بھارتی سرپرستی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اس نوعیت کے الزامات خطے میں پہلے سے موجود پاکستان اور بھارت کے درمیان سکیورٹی کشیدگی کے وسیع تر تناظر کا حصہ ہیں۔ ایسے دعووں کے ساتھ ریاستی اداروں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں ممکن ہو، مالی روابط، اسلحے کی فراہمی، رابطوں اور دیگر قابلِ تصدیق شواہد کو سامنے لایا جائے، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی بیرونی معاونت کے مقدمے کو مضبوط کرنے کے لیے قابلِ اعتماد ثبوت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

حالیہ واقعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ایک کامیاب کارروائی کے فوراً بعد بھی کسی دوسرے مقام پر آئی ای ڈی یا خودکش حملے کا امکان برقرار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کو ایک مسلسل عمل کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ سرحدی نگرانی، بارودی مواد کی نقل و حرکت کی روک تھام، مشتبہ مالی لین دین کی جانچ، مقامی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں اضافہ اس جنگ کے لازمی اجزا ہیں۔

عزمِ استحکام کے تحت جاری کارروائیوں کا بنیادی مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ دہشت گرد تنظیموں کی کارروائی کرنے کی صلاحیت، ان کے سہولت کاری نیٹ ورک اور محفوظ مقامات بتدریج محدود کیے جائیں۔ فوج کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد بھی علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رہے تاکہ کسی ممکنہ باقی ماندہ عسکریت پسند یا نیٹ ورک کو تلاش کیا جا سکے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل قیمت ادا کی ہے، اس لیے ہر کامیاب آپریشن کو آخری منزل سمجھنے کے بجائے ایک بڑے اور مسلسل عمل کا حصہ سمجھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا۔ شمالی وزیرستان اور ہنگو کی حالیہ کارروائیاں سکیورٹی اداروں کی معلوماتی صلاحیت، عملی تیاری اور فوری ردعمل کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ چھ فوجیوں کی جانوں کا نقصان اس جدوجہد کی سنگینی کی یاد دہانی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اصل کامیابی اس دن ہوگی جب کسی مسلح گروہ کو نہ محفوظ ٹھکانہ ملے، نہ مالی سہارا، نہ مقامی سہولت کار اور نہ شہریوں کو خوف زدہ کرنے کی گنجائش۔ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ریاستی عزم، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی تعاون تینوں ناگزیر ہیں۔

Author

  • Dr. Abbas Ahmed

    Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔