پشاور کے نواحی علاقے سرہ خورہ میں پولیس چوکی کو نشانہ بنانے والا دھماکا محض ایک سکیورٹی تنصیب پر حملہ نہیں تھا۔ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی جب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بناتی ہے تو اس کے اثرات صرف وردی تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہری، مقامی کاروبار، آمدورفت اور پورا معاشرتی ماحول اس کی زد میں آتا ہے۔ 16 ستمبر کو فرنٹیئر روڈ پر سرہ خورہ پولیس چوکی کے قریب بارود سے بھری ایک گاڑی میں دھماکا ہوا۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکے سے چوکی کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا اور آس پاس کھڑی گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ مختلف ابتدائی رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد سے متعلق جزوی فرق سامنے آیا، تاہم اے ایس آئی عمر خان سمیت پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی جبکہ ایک شہری کے زخمی ہونے کی بھی رپورٹ سامنے آئی۔
اس واقعے میں سب سے اہم پہلو ہدف کا انتخاب ہے۔ پولیس اہلکار ایسے مقامات پر تعینات ہوتے ہیں جہاں ان کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی، جرائم کی روک تھام اور کسی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دینا ہوتی ہے۔ ایسے اہلکاروں کو بارودی مواد سے نشانہ بنانا دراصل اس حفاظتی حصار کو کمزور کرنے کی کوشش ہے جو ریاست اور شہری کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ اے ایس آئی عمر اور ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ حملہ آور اُن افراد کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں جو روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر مقامی آبادی کی حفاظت کرتے ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ یہی احتیاط دہشت گردی سے متعلق ہر واقعے کی رپورٹنگ میں ضروری ہے۔ لیکن ذمہ داری کے دعوے سے قطع نظر، حملے کا طریقہ اور ہدف خود ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ پولیس چوکی پر گاڑی میں نصب بارودی مواد کے ذریعے حملہ کسی اتفاقی تشدد کا واقعہ نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش تھی۔ پولیس کے مطابق بارودی مواد ایک لوڈر رکشے میں نصب کیا گیا تھا اور بم ڈسپوزل یونٹ نے دھماکے میں تقریباً 50 کلوگرام بارودی مواد استعمال ہونے کی اطلاع دی۔
دہشت گرد تنظیمیں عموماً یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کی لڑائی صرف ریاستی اداروں سے ہے، لیکن زمینی حقیقت اس دعوے کو بار بار غلط ثابت کرتی ہے۔ سرہ خورہ کے واقعے میں ایک شہری کا زخمی ہونا اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔ جب کسی بازار، سڑک، رہائشی علاقے یا عوامی گزرگاہ کے قریب دھماکا کیا جاتا ہے تو حملہ آور یہ طے نہیں کر سکتا کہ اس کی زد میں صرف پولیس اہلکار آئیں گے۔ وہاں سے گزرنے والا مزدور، دکاندار، طالب علم، ڈرائیور یا کسی گھر کا فرد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں کو صرف سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ کہنا حقیقت کو محدود کر دینا ہے۔ اس تشدد کی اصل قیمت معاشرہ ادا کرتا ہے۔
پولیس چوکی کی بیرونی دیوار کا گرنا یا گاڑیوں کا تباہ ہونا بظاہر مادی نقصان ہے، لیکن اس کے وسیع اثرات زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ ایک علاقے میں مسلسل پولیس چوکیوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا جائے تو نفری کا بڑا حصہ دفاعی اقدامات میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اضافی ناکے لگتے ہیں، سرچ آپریشن بڑھتے ہیں، سڑکوں پر نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ آتا ہے۔ لوگ بازار جانے، بچوں کو اسکول بھیجنے یا شام کے بعد سفر کرنے سے ہچکچانے لگتے ہیں۔ یوں ایک دھماکے کی آواز چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا پیدا کردہ خوف کئی دن اور بعض اوقات کئی ماہ تک معاشرے میں موجود رہتا ہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ سرہ خورہ اور متنی کے اطراف پولیس تنصیبات پہلے بھی حملوں کا سامنا کر چکی ہیں۔ پولیس حکام نے ماضی کے حملوں کے بعد بھی علاقے میں خطرات موجود رہنے اور سرچ آپریشن جاری رکھنے کی بات کی تھی۔ 19 ستمبر کو متنی پولیس اسٹیشن کی حدود میں میرا پولیس چوکی پر مبینہ کواڈ کاپٹر کے ذریعے بارودی مواد گرائے جانے کا ایک اور واقعہ بھی رپورٹ ہوا، اگرچہ اس میں جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس کو روایتی حملوں کے ساتھ ساتھ بدلتی ہوئی تکنیک اور ٹیکنالوجی پر مبنی خطرات کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔
اس صورتحال میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حفاظت کو صرف چوکیوں کی دیواریں بلند کرنے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ انٹیلی جنس شیئرنگ، داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی، مشکوک گاڑیوں کی بروقت شناخت، جدید نگرانی کے آلات، بم ڈسپوزل صلاحیت اور مقامی آبادی کے ساتھ اعتماد پر مبنی رابطہ زیادہ اہم ہے۔ دہشت گرد گروہوں کے لیے سب سے مشکل ماحول وہ ہوتا ہے جہاں مقامی لوگ انہیں چھپنے، نقل و حرکت کرنے یا معلومات حاصل کرنے کی جگہ نہ دیں۔ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد اسی لیے انسداد دہشت گردی کی بنیادی ضرورت ہے۔
سرہ خورہ حملے سے ایک بات بالکل واضح ہے کہ پولیس پر حملہ اور عوامی سلامتی پر حملہ دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔ پولیس اہلکار زخمی ہوتا ہے تو اس چوکی سے وابستہ پورا علاقہ سکیورٹی دباؤ محسوس کرتا ہے۔ ایک شہری زخمی ہوتا ہے تو دہشت گردی کا یہ دعویٰ بھی ختم ہو جاتا ہے کہ تشدد صرف کسی مخصوص ادارے تک محدود ہے۔ سڑکیں، کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی سب امن سے وابستہ ہیں، اور پولیس انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے کی ہر کوشش انہی چیزوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
پشاور اور خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی کی قیمت ادا کرتے آئے ہیں۔ اسی لیے ایسے ہر حملے کا جواب صرف فوری سرچ آپریشن نہیں بلکہ ایک مستقل، انٹیلی جنس پر مبنی اور عوامی تعاون سے چلنے والی حکمت عملی ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کا مقصد خوف پیدا کرکے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھانا ہوتا ہے۔ اس مقصد کو ناکام بنانے کا مؤثر طریقہ یہی ہے کہ پولیس محفوظ، چوکس اور مقامی آبادی کے قریب رہے اور شہری یہ محسوس کریں کہ امن کی حفاظت صرف ریاستی اداروں کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Author
-
View all posts
Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.