ذبیح اللہ مجاہد کا ۲۴ ستمبر ۲۰۲۶ کا بیان پڑھتے ہوئے ایک بات فوری طور پر نظر آتی ہے، اس میں وہ سب کچھ غائب ہے جو اصل میں اہم ہے۔ کندھار، پکتیا اور خوست میں پاکستانی کارروائیوں پر شور تو بہت ہے، لیکن ایک لفظ بھی اس بارے میں نہیں کہ ۲۳ ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستان کی طرف آٹھ ڈرون کیوں روانہ کیے گئے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آٹھ ڈرون اور سرحدی چوکیوں پر گولہ باری کی گئی، جس کے بعد پاکستان نے دس مقامات پر ہدفی کارروائی کی، یہ کارروائی انہی مقامات کو نشانہ بناتی تھی جو ڈرون حملوں کی لانچنگ اور ذخیرہ اندوزی سے جڑے تھے۔
یہ محض جنگی واقعہ نہیں، یہ ایک ایسے گہرے بحران کا حصہ ہے جو برسوں سے پک رہا ہے اور جسے طالبان حکومت نے مسلسل نظرانداز کیا۔
دہشت گردوں کا سرپرست کون؟
پاکستانی حکام کے مطابق، ۲۰۲۶ میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی نے ۱٬۳۲۷ پاکستانیوں کی جانیں لی ہیں۔ اس کے ساتھ ۲٬۴۸۴ افراد زخمی ہوئے، جب کہ پاکستانی فورسز نے ۱٬۸۶۵ دہشت گردوں کو کارروائیوں میں ہلاک کیا۔ یہ اعداد و شمار کوئی دعویٰ نہیں، یہ خون کی داستان ہے جو روز لکھی جا رہی ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ۲۶۰ افغان شہری خوارج گروپ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان میں لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ان کے جنازے افغانستان میں اٹھائے گئے، ان کی موت کا وہاں جشن منایا گیا اور ان کی قبریں وہیں بنیں۔ طالبان حکومت بتائے، یہ "آزاد شہری” کون تھے؟
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتا ہے اور طالبان قیادت کے اندر سے اسے سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
جب اقوام متحدہ کہے، تو اسے "بھارتی پروپیگنڈا” کہنا ممکن نہیں رہتا۔
ڈرون، انکار، اور سوال
پاکستانی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ یہ فضائی کارروائیاں "جان بوجھ کر، درست، محتاط اور متناسب” تھیں اور صرف انہی فوجی اہداف تک محدود رہیں جو پاکستان کے خلاف حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔ دوسری طرف طالبان حکومت نے ڈرون بھیجنے سے انکار کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈرون آئے کہاں سے۔
یہ وہی پرانا کھیل ہے: جب بھی افغان سرزمین سے خوارج کا انفراسٹرکچر نشانہ بنے، طالبان ترنت مظلوم بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے جنگجو کراس بارڈر کارروائیوں میں مکمل موافقت رکھتے ہیں اور ان کی افغانستان سے تعلق کاری باقاعدہ ہے۔
بیس سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں، خاموشی کیوں؟
اقوام متحدہ کی نگرانی رپورٹیں ثابت کرتی ہیں کہ بیس سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے آپریٹ کر رہی ہیں۔ طالبان قیادت پاکستانی اثر و رسوخ سے آزادی چاہتی ہے، مگر ٹی ٹی پی کے خوارج جنہوں نے پاکستانی ریاست کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے، انہیں افغان سرزمین پر آج بھی محفوظ پناہ حاصل ہے۔
مجاہد کے بیان میں ایک لفظ بھی ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر طالبان حکومت واقعی افغان عوام کی نمائندہ ہے، تو وہ ان تنظیموں سے اپنی سرزمین کیوں نہیں خالی کراتی؟
پروپیگنڈا ڈھال، شہری آبادی کا استعمال
طالبان کا ایک پسندیدہ حربہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر آبادی کے قریب رکھا جائے اور جب اسے نشانہ بنایا جائے تو شہری ہلاکتوں کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس تازہ کشیدگی نے چین، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یعنی جو نقصان ہو رہا ہے، وہ صرف پاکستان یا افغانستان کا نہیں، پورے خطے کا ہے۔
وقت آ گیا ہے
پاکستان نے ایک واضح اور قابلِ تصدیق میکانزم کا مطالبہ کیا ہے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو سکے۔ طالبان کے پاس صرف انکار، دھمکیاں اور پروپیگنڈا ہے۔
مجاہد کا بیان حقیقت میں ایک مظلومیت کا ڈھونگ ہے، اور یہ ڈھونگ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان سرزمین پر موجود خوارج کے نیٹ ورکس کو ختم نہیں کیا جاتا۔
جو حکومت بار بار دہشت گردوں کا دفاع کرے، وہ بے گناہ نہیں، وہ شریکِ جرم ہے۔
Author
-
View all postsڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔