خیبرپختونخوا آج ایک ایسی آگ میں جل رہا ہے جو صرف دہشتگردوں نے نہیں لگائی بلکہ اس آگ کو سیاسی بے حسی اور حکومتی ہچکچاہٹ نے بھی ہوا دی ہے۔ اعداد و شمار بے رحم ہیں: آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جنوری 2026 میں بتایا کہ 2025 میں ملک بھر میں دہشتگردی کے 5,397 واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں سے تقریباً 71 فیصد واقعات اکیلے خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔ کے پی میں پولیس پر حملے 327 سے بڑھ کر 510 ہو گئے یعنی ایک سال میں 56 فیصد اضافہ۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، یہ ہر ہفتے ڈھلنے والی لاشیں ہیں، ہر روز اجڑنے والے گھر ہیں۔
لکی مروت کی مثال لے لیجیے جہاں دہشتگرد بیٹنی گیس فیلڈ سے پنجاب جانے والی مین ٹرانسمشن لائن کو ہفتہ در ہفتہ دھماکوں سے اڑاتے رہے۔ جنوری 2026 میں ایک ہفتے کے اندر دو بار یہ واقعہ پیش آیا، فروری 2026 میں پھر۔ ہزاروں گھروں کا چولہا بجھ گیا، گیس کا اخراج اور شعلے دور تک دیکھے گئے، اور صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ خوارج کی سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے پاکستان کی توانائی شہ رگ کو نشانہ بنانا، عوام کو خوف میں جکڑنا، اور ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنا۔
کرم کی خون آلود سڑکیں اور مسلح قافلوں کے بغیر نہ چلنے والے راستے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عوام آج بھی بنیادی نقل و حمل کے حق سے محروم ہیں۔ بنوں، جنوبی ضلعے، قبائلی پٹی یہ سب خوارج کے خونی جغرافیے میں سمٹ آئے ہیں۔ کے پی اور بلوچستان ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے رہے، جہاں تشدد سے منسلک 63 فیصد سے زائد اموات ہوئیں۔ یہ بحران اب محض "امن و امان” کا نہیں رہا یہ ایک آئینی اور انسانی بحران ہے۔
سوال یہ ہے کہ اتنے خون کے بعد بھی کے پی حکومت کہاں تھی؟ آئی ایس پی آر چیف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی نے کے پی میں دہشتگردی کے لیے "سیاسی لحاظ سے سازگار ماحول” فراہم کیا، ایک سیاسی مجرمانہ دہشتگرد گٹھ جوڑ پروان چڑھا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ خوارج نے کبھی پی ٹی آئی قیادت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا، جبکہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن)، جمعیت علماء اسلام اور اے این پی سب ان کے حملوں کی زد میں آئے۔ یہ سوال ذہن میں کھٹکتا ہے اور جواب کا متقاضی ہے۔
پی ٹی آئی کی خود اپنی تجارتی حلقے کی وابستہ تنظیم "انصاف ٹریڈرز ونگ” نے ایک خط میں لکھا کہ پشاور میں بھتہ خوری اور اغوا کا سلسلہ "خطرناک” سطح تک پہنچ گیا ہے، حکومت کو "سب سے اعلیٰ سطح” پر آگاہ کیا گیا مگر "کوئی اقدام نہیں کیا گیا”۔
یہ الفاظ کسی حزبِ اختلاف کے نہیں یہ خود پی ٹی آئی کے اپنے حامیوں کی فریاد ہے۔
کے پی کی اپیکس کمیٹی نے خود اعتراف کیا کہ بھتہ خوری، غیرقانونی ہنڈی، اسمگلنگ اور منشیات کی تجارت دہشتگردی کی مالی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ لیکن اعتراف اور عمل میں فرق کوسوں ہے۔ جب صوبائی پولیس کے اہلکار خود منشیات کے دھندے میں ملوث ہوں، تو امن کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔ صوبے میں پانچ ہزار سے زائد کان کنی کے لائسنس صوبائی حکومت نے جاری کیے سوال یہ ہے کہ کن کو؟ کس کی سفارش پر؟ اور وہ پیسہ کہاں گیا؟
وفاقی حکومت نے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا کہ 417 ارب روپے کا خصوصی سکیورٹی فنڈ کے پی کو دیا گیا، تو وہ رقم کہاں استعمال ہوئی؟ صوبے میں دہشتگردی 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 میں اپنی ایک نئی بلندی پر پہنچی، جبکہ سکیورٹی فورسز روزانہ 206 سے زائد آئی بی اوز یعنی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انجام دے رہی تھیں اور پھر بھی زیادہ تر بوجھ افواجِ پاکستان پر پڑا، صوبائی مشینری پر نہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ ضرور سامنے رکھنا چاہیے: بنیادی مسئلہ پاک افغان سرحد کی نفاذ ناپذیری بھی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پاکستان نے بتایا کہ 2025 کے وسط سے ہزاروں دراندازوں نے سرحد پار کی۔ لیکن سرحد کا یہ استدلال صوبائی بے عملی کا جواز نہیں بن سکتا کیونکہ خوارج کی پشت پناہی کرنے والے نیٹ ورک صوبے کے اندر سے کام کر رہے ہیں، اور انہیں توڑنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
آئین کے آرٹیکل 148 (3)، 149 اور 245 وفاق کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ جب کسی صوبے میں ریاست کی رِٹ کو خطرہ لاحق ہو، تو مداخلت کی جائے۔ یہ مداخلت اب سیاسی خواہش نہیں ریاست کا فریضہ ہے۔ لیکن یہ مداخلت بھی تبھی نتیجہ خیز ہوگی جب وفاق اور صوبہ مل کر کام کریں، نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں وقت ضائع کریں۔ افسوس کہ آج وفاق اور کے پی حکومت کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں اور اس خلا سے خوارج فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کے پی کا غریب مزدور، ماں جس کا بیٹا چوکی پر شہید ہوا، دکاندار جو بھتہ دینے پر مجبور ہے، بچی جو سکول جانے سے ڈرتی ہے ان سب کو نہ کسی کی وفادار پارٹی چاہیے نہ کوئی دھرنا۔ انہیں چاہیے خوارج کے خلاف فولادی رِٹ، محفوظ سڑکیں، کھلی پائپ لائنیں اور ایسی حکومت جو اپنے لوگوں کی جان کو اپنی سیاست سے زیادہ قیمتی سمجھے۔ یہ مطالبہ کوئی انقلاب نہیں یہ تو بنیادی آئینی وعدہ ہے جو ہر حکومت نے اقتدار میں آتے وقت کیا تھا۔
وقت آ گیا ہے کہ الفاظ کو عمل سے بدلا جائے۔ کے پی کا صبر جواب دے چکا ہے۔
Author
-
View all posts
Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.