Nigah

ٹی ٹی پی کا پھیلاؤ یا اندرونی انتشار؟

[post-views]

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مہمند، باجوڑ، کوئٹہ اور ہرنائی سے تعلق رکھنے والے مختلف گروہوں کی شمولیت کے حالیہ دعوے بظاہر تنظیمی توسیع اور بڑھتی ہوئی قوت کا تاثر دیتے ہیں۔ شدت پسند تنظیموں کے لیے اس نوعیت کے اعلانات صرف افرادی قوت میں اضافے کی خبر نہیں ہوتے بلکہ ان کا ایک نفسیاتی اور تشہیری پہلو بھی ہوتا ہے۔ نئے گروہوں کی بیعت کو نمایاں کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تنظیم کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور مختلف علاقوں کے مسلح عناصر ایک ہی قیادت کے تحت جمع ہو رہے ہیں۔ حالیہ اطلاعات میں پانچ مقامی کمانڈروں سے منسلک گروہوں کی مہمند، باجوڑ، کوئٹہ اور ہرنائی سے ٹی ٹی پی میں شمولیت کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ لیکن کسی مسلح تنظیم کی اصل حالت صرف نئے ناموں یا بیعت کے اعلانات سے نہیں سمجھی جا سکتی۔ اس کے اندر کمانڈ، مالی وسائل، علاقائی اثرورسوخ اور مختلف دھڑوں کے تعلقات زیادہ اہم تصویر پیش کرتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ٹی ٹی پی کی تشہیری تصویر اور زمینی صورتحال کے درمیان فرق نمایاں ہونے لگتا ہے۔ جنوبی وزیرستان سے سامنے آنے والی حالیہ اطلاعات کے مطابق مختلف عسکری دھڑوں کے درمیان کشیدگی نے مسلح جھڑپوں کی شکل اختیار کی ہے۔ 12 ستمبر کو وانا کے قریب کریکوٹ کے علاقے میں رحمت اللہ گروپ اور تحریک طالبان گل بہادر سے منسلک زندان گروپ کے درمیان شدید فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مقامی اور سکیورٹی ذرائع سے منسوب رپورٹس کے مطابق اس تصادم میں کمانڈر فتح اور خراسانی مارے گئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔ چونکہ ایسے واقعات کی آزادانہ تصدیق ہمیشہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی، اس لیے ان تفصیلات کو رپورٹ شدہ معلومات کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ تاہم، مختلف ذرائع میں ایک ہی نوعیت کے تصادم کا ذکر اس بات کی طرف ضرور اشارہ کرتا ہے کہ عسکریت پسند دھڑوں کے درمیان تعلقات مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں۔

اس جھڑپ کی سب سے اہم بات صرف ہلاکتیں نہیں بلکہ اس کا مبینہ سبب ہے۔ دستیاب رپورٹس میں تنازع کو چلغوزے کی تجارت سے حاصل ہونے والی بھتہ یا مالی آمدن پر کنٹرول سے جوڑا گیا ہے۔ یہ پہلو شدت پسند تنظیموں کی اندرونی سیاست کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ ایسی تنظیمیں نظریاتی نعروں کے باوجود مالی وسائل، مقامی اثرورسوخ، آمدنی کے ذرائع اور مخصوص علاقوں پر کنٹرول کی محتاج ہوتی ہیں۔ جب ایک ہی خطے میں متعدد مسلح گروہ موجود ہوں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیسہ کون جمع کرے گا، راستوں پر اختیار کس کا ہوگا، مقامی نیٹ ورک کس کے ماتحت کام کرے گا اور کس کمانڈر کو زیادہ اثر حاصل ہوگا۔ یہی اختلاف بعض اوقات نظریاتی یکجہتی پر غالب آجاتا ہے۔

اسی تناظر میں گل بہادر نیٹ ورک سے وابستہ ایک کمانڈر نصیر وزیر کی ہلاکت سے متعلق دعوے بھی گردش کر رہے ہیں، تاہم اس مخصوص دعوے کی آزاد اور مضبوط ذرائع سے مکمل تصدیق دستیاب نہیں۔ ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ ذکر ہوا ہے کہ وہ دھڑے بندی سے متعلق لڑائی میں زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوا۔ اس لیے اسے حتمی حقیقت کے بجائے ایک رپورٹ شدہ پیش رفت کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہوگا۔ لیکن اگر اس نوعیت کی کمانڈر سطح کی ہلاکتیں مسلسل سامنے آتی رہیں تو یہ کسی بھی مسلح نیٹ ورک کے لیے تنظیمی دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں، کیونکہ مقامی کمانڈر صرف جنگی کردار نہیں رکھتے بلکہ رابطہ کاری، بھرتی، مالیات اور علاقائی نیٹ ورک کے انتظام میں بھی اہم ہوتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں یہ واحد حالیہ واقعہ نہیں۔ ستمبر کے اوائل میں زرمن کے علاقے میں مقامی مسلح افراد اور ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کے درمیان ایک اور جھڑپ کی اطلاعات سامنے آئیں جس میں چار افراد مارے گئے۔ بعض ذرائع نے ان میں دو عسکریت پسندوں اور دو مقامی افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا، اگرچہ واقعے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں تھیں۔ ان واقعات کو ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں مسلح نیٹ ورکس صرف ریاستی فورسز کے دباؤ کا سامنا نہیں کر رہے بلکہ مقامی طاقت، مالی مفادات اور باہمی رقابتیں بھی ان کے لیے مستقل چیلنج ہیں۔

یہاں ٹی ٹی پی کے نئے افراد یا گروہوں کی شمولیت کے دعووں کو بھی محتاط انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی تنظیم میں پانچ نئے گروہوں کا شامل ہونا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ پہلے سے موجود دھڑے ایک دوسرے میں مکمل طور پر ضم ہو گئے ہیں۔ مسلح گروہ اپنے سابق کمانڈروں، مقامی وفاداریوں، مالی ذرائع اور مخصوص علاقوں میں اثرورسوخ کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ایک مرکزی قیادت کے نام پر بیعت اور زمینی سطح پر مکمل کمانڈ اینڈ کنٹرول دو مختلف چیزیں ہیں۔ اسی لیے تعداد میں اضافہ بظاہر تنظیمی توسیع دکھا سکتا ہے، مگر اگر اندرونی دھڑے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا رہے ہوں تو اس توسیع کے ساتھ انتظامی پیچیدگیاں بھی بڑھتی ہیں۔

ٹی ٹی پی کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا وہ مختلف پس منظر رکھنے والے مسلح گروہوں کو صرف ایک نام کے نیچے جمع کر رہی ہے یا انہیں حقیقتاً ایک مربوط تنظیمی ڈھانچے میں تبدیل بھی کر سکتی ہے۔ بھرتی کے اعلانات مختصر مدت کے لیے طاقت کا تاثر پیدا کر سکتے ہیں، لیکن تنظیمی یکجہتی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب مالی مفادات ٹکراتے ہیں، مقامی کمانڈر اختیار پر اختلاف کرتے ہیں اور مختلف دھڑے ایک ہی علاقے اور وسائل پر دعویٰ کرتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کی حالیہ رپورٹ شدہ جھڑپیں اسی تضاد کو سامنے لاتی ہیں۔

شدت پسند تنظیموں کی طاقت صرف بندوق برداروں کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی۔ حقیقی تنظیمی قوت کا تعلق نظم، قابل اعتماد کمانڈ، اندرونی اعتماد، مالی شفافیت، رابطے اور مشترکہ فیصلوں سے ہوتا ہے۔ جہاں ساتھی دھڑے ہی وسائل اور اثرورسوخ پر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں وہاں نئے ناموں کی فہرست ایک مکمل تصویر نہیں دیتی۔ ٹی ٹی پی جتنی بھی بھرتیوں اور نئی بیعتوں کا اعلان کرے، جنوبی وزیرستان میں سامنے آنے والی دھڑے بندی یہ واضح کرتی ہے کہ اس کے گرد موجود عسکریت پسند ماحول کے اندر مفادات، رقابتیں اور الگ الگ طاقت کے مراکز بدستور موجود ہیں۔ یہی اندرونی کشمکش اس دعوے کو کمزور کرتی ہے کہ مختلف گروہ ایک متحد اور مکمل طور پر مربوط کمانڈ کے تحت کام کر رہے ہیں۔

Author

  • Zubair Gul

    Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔