جاوید ہاشمی کی عمر اور بیماری سب کو معلوم ہے، مگر مسئلہ یہ نہیں کہ ایک بزرگ سیاست دان کمزور ہو گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کمزوری کے پردے میں جو جھوٹ، جذباتی ہیجان، اور غیر ذمہ دارانہ بات پھیلائی گئی، وہ کسی کی جسمانی حالت کا عذر نہیں بن سکتی۔ سوشل میڈیا پر لکھی گئی ایک غلط بات عام آدمی کے لیے بھی نقصان دہ ہوتی ہے، لیکن جب یہی بات ایک معروف چہرہ پھیلائے تو اس کی ضرب زیادہ لگتی ہے، کیونکہ لوگ نام دیکھ کر بات کو سچ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غلطی محض “غلطی” نہیں رہتی، عوامی گمراہی بن جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ خود کو بہت “اصولی” اور “حق گو” ثابت کرنے کے چکر میں ہر اس بات کو سچ مان لیتے ہیں جو ان کے غصے اور تعصب کو سہارا دے۔ انہیں دلیل نہیں چاہیے، انہیں صرف ایک کہانی چاہیے، ایسی کہانی جو ان کے پسندیدہ بیانیے میں فٹ ہو جائے۔ پھر وہ اسے شیئر کرتے ہیں، پھیلاتے ہیں، اور جو سوال کرے اسے غدار، بکاؤ، یا دین دشمن قرار دے دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ بہادری ہے نہ اصول پسندی۔ یہ سادہ لوحی ہے، اور بدترین صورت میں جان بوجھ کر پھیلائی گئی جہالت۔
غزہ کے حوالے سے یہ دعویٰ کہ پاکستانی فوجی وہاں تعینات ہیں، بنیادی عقل کے خلاف ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہ رہتی۔ اس کے سفارتی اثرات ہوتے، عالمی میڈیا میں شور ہوتا، ریاستی سطح پر واضح مؤقف اور ذمہ داری کا اعلان ہوتا۔ فوجی تعیناتی کوئی فیس بک کی افواہ نہیں، ریاست کا سنجیدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اس طرح کے دعوے کو بغیر ثبوت کے پھیلانا نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی گھٹیا کوشش بھی ہے۔
پھر اس جھوٹ کو مزید “مزیدار” بنانے کے لیے ہلاکتوں اور “ٹنل کلیئرنس” جیسی کہانیاں گھڑ لی گئیں۔ یہ حصہ سب سے زیادہ شرم ناک ہے، کیونکہ غزہ میں حقیقی جانیں جا رہی ہیں، حقیقی خاندان اجڑ رہے ہیں، حقیقی بچوں کی لاشیں اٹھ رہی ہیں۔ ایسے میں فرضی بہادری کے قصے گھڑ کر خود کو بڑا ثابت کرنا، دراصل مظلوموں کی تکلیف کو اپنی سیاست اور اپنی شہرت کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ہمدردی کا معیار یہ نہیں کہ آپ کتنا چیختے ہیں، معیار یہ ہے کہ آپ کتنا سچ بولتے ہیں۔
ایک اور بنیادی بات جسے بار بار نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ ہے اختیار اور مینڈیٹ۔ پاکستان کے پاس غزہ میں کسی کو غیر مسلح کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں۔ یہ بات ہزار بار دہرائی جا چکی ہے، مگر کچھ لوگ سمجھنے کے بجائے جذباتی جملے چپکا کر خود کو بڑا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کے تنازعات نعروں سے حل نہیں ہوتے۔ وہاں قانون، سفارت کاری، طاقت کا توازن، اور زمینی حقائق کام کرتے ہیں۔ جو شخص یہ سب نظر انداز کر کے ایسے دعوے کرے، وہ سیاسی شعور نہیں دکھا رہا، وہ اپنی لاعلمی کی نمائش کر رہا ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے خطرناک پہلو دین کا استعمال ہے۔ مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کر کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش، اور پھر جعلی فتووں یا مقدس حوالوں سے لوگوں کو دبانے کی کوشش، نہ دین کی خدمت ہے نہ اخلاق کی۔ یہ صرف ایک ڈھال ہے، تاکہ کوئی سوال نہ کر سکے۔ جو شخص جھوٹ پر مذہب کی مہر لگاتا ہے، وہ دوہرا جرم کرتا ہے، جھوٹ بھی بولتا ہے، اور دین کو بھی بدنام کرتا ہے۔ اگر کسی میں واقعی خوف خدا ہے تو اسے جھوٹ پھیلانے، الزام لگانے، اور لوگوں کے جذبات بھڑکانے سے ڈرنا چاہیے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسے پوسٹوں کا جواب نہیں دینا چاہیے۔ اصولاً یہ بات درست لگتی ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ خاموشی سے افواہ نہیں مرتی۔ افواہ تب مرتی ہے جب اسے واضح طور پر غلط کہا جائے، اور لوگوں کو بتایا جائے کہ ثبوت کیا ہے اور حقیقت کیا۔ اصل مخاطب جاوید ہاشمی نہیں، اصل مخاطب وہ نوجوان ہیں جو یہ سب پڑھتے ہیں، اور پھر اسی انداز میں سوچنا سیکھتے ہیں۔ اگر ہم نے انہیں یہ نہ سکھایا کہ ہر بات پر یقین نہیں کرنا، تو کل کو وہ ہر جھوٹے نعروں کے پیچھے لگ جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کی عمر کی حد پر بحث سنجیدگی سے ہونی چاہیے۔ کم عمر ذہن الگورتھم کے ہاتھوں جلدی پھسلتا ہے۔ لیکن صرف عمر کا مسئلہ نہیں، مزاج کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے بالغ لوگ بھی سوشل میڈیا پر بالکل بچوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ وہ بغیر سوچے شیئر کرتے ہیں، بغیر پڑھے رائے دیتے ہیں، اور پھر اپنی غلطی ماننے کے بجائے ضد میں آ جاتے ہیں۔ اس لیے حل صرف پابندی نہیں، تربیت بھی ہے۔ اسکولوں میں میڈیا لٹریسی، گھروں میں گفتگو، اور عوامی سطح پر یہ اصول کہ “ثبوت کے بغیر دعویٰ جرم ہے” جیسے رویے پیدا کرنے ہوں گے۔
آخر میں بات سیدھی ہے۔ جو بات آپ لکھ رہے ہیں، پہلے اسے چیک کریں۔ اگر نہیں چیک کر سکتے تو نہ لکھیں۔ اگر غلط ثابت ہو جائے تو اسے ہٹائیں اور مانیں۔ غلطی ماننا کمزوری نہیں، بالغ ذہن کی علامت ہے۔ اور اگر کوئی عوامی شخصیت ہے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ عام آدمی سے زیادہ وزن رکھتے ہیں۔ جھوٹ، افواہ، اور مذہبی جذبات کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش، کسی کی بیماری کا نتیجہ نہیں، یہ کردار کی کمزوری ہے۔ ہمیں اسی کمزوری کو روکنا ہے، ورنہ ہم اپنی نئی نسل کو سچ نہیں، شور وراثت میں دیں گے۔
Author
-
View all posts
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔