Nigah

گوردوارہ پنجہ صاحب اور لنگر کی روایت

[post-views]

Ajay Pal Singh Banga کا گوردوارہ سری پنجہ صاحب جانا محض ایک رسمی دورہ نہیں تھا، یہ ایک معنی خیز اشارہ تھا۔ پاکستان کے بارے میں بیرونی دنیا میں اکثر ایک ہی رخ والی تصویر دکھائی جاتی ہے، جس میں سکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی نمایاں رہتی ہے۔ حقیقت اس سے زیادہ وسیع ہے۔ جب عالمی سطح کے ایک بڑے ادارے کا سربراہ کسی سکھ مقدس مقام پر حاضری دے، دعا میں شریک ہو، اور سکھ برادری کے ساتھ لنگر میں بیٹھ کر کھانا کھائے تو یہ ایک نرم لیکن مضبوط پیغام بن جاتا ہے کہ پاکستان کا سماجی اور مذہبی مزاج صرف خبروں کی سرخیوں تک محدود نہیں۔

اس دورے کی اصل اہمیت اس جگہ کی روحانی اور تاریخی حیثیت سے جڑی ہے۔ گوردوارہ سری پنجہ صاحب سکھ مذہب کے لیے محض ایک عمارت نہیں، ایک زندہ روایت ہے، ایک یاد ہے، ایک رابطہ ہے۔ یہاں حاضری دینے والے زائرین عبادت، دعا اور اجتماع کے ذریعے اپنی شناخت سے جڑتے ہیں۔ ایسی جگہ پر احترام کے ساتھ قدم رکھنا اور برادری کے ساتھ بیٹھنا محض پروٹوکول نہیں رہتا، یہ باہمی احترام کی عملی شکل بن جاتا ہے۔ لنگر کی روایت خود مساوات اور انسانی برابری کی علامت ہے، جہاں امیر اور غریب، مقامی اور غیر ملکی، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے ہیں۔ کسی اعلیٰ عالمی عہدے دار کا لنگر میں شریک ہونا اسی پیغام کو مزید واضح کرتا ہے۔

اس موقع پر محمد اورنگزیب اور سردار رمیش سنگھ اروڑا کی موجودگی بھی محض نمائشی نہیں سمجھی جانی چاہیے۔ یہ ریاستی سطح پر ذمہ داری اور شمولیتی سوچ کا اظہار ہے۔ اقلیتوں کے حقوق اور عبادت گاہوں کا تحفظ کسی خیرات یا وقتی توجہ کا موضوع نہیں، یہ حکمرانی کا بنیادی فرض ہے۔ جب حکومتی نمائندے خود آ کر احترام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں تو ایک اہم پیغام اندرون ملک بھی جاتا ہے کہ اقلیتیں اسی معاشرے کا برابر حصہ ہیں، اور بیرون ملک بھی کہ پاکستان اپنی مذہبی تنوع کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سکیورٹی انتظامات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے دوروں میں فول پروف انتظامات کا ہونا صرف ایک انتظامی کامیابی نہیں، اعتماد سازی کا عمل ہے۔ پاکستان میں مذہبی مقامات کو ماضی میں خطرات لاحق رہے ہیں، اس لیے ہر کامیاب اور پُرامن دورہ یہ دکھاتا ہے کہ ادارے ہائی پروفائل مہمانوں اور زائرین کی حفاظت کے لیے صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر اُن سکھ زائرین کے لیے اہم ہے جو بیرون ملک سے آتے ہیں اور اپنے سفر کے فیصلے میں سکیورٹی کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔ تحفظ کا احساس مذہبی سیاحت کی بنیاد ہے، اور یہ بنیاد مضبوط ہو تو سیاحت خود بخود آگے بڑھتی ہے۔

یہاں اصل موقع مذہبی سیاحت کا ہے، اور پاکستان کو اسے ایک باقاعدہ قومی ترجیح کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ پنجاب میں سکھوں کے کئی مقدس مقامات ہیں، اور ہر سال خاص طور پر بیساکھی کے موقع پر ہزاروں مقامی اور غیر ملکی یاتری آتے ہیں۔ اگر حکومت تاریخی مقامات کی مرمت اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مکمل سیاحتی سہولتیں بھی بہتر کرے، تو یہ شعبہ کہیں زیادہ فائدہ دے سکتا ہے۔ زائرین کے لیے آسان آمد و رفت، واضح رہنمائی، صاف ستھرے راستے اور سہولت گاہیں، تربیت یافتہ گائیڈز، اور احترام پر مبنی مہمان نوازی، یہ سب مل کر ایک ایسا تجربہ بناتے ہیں جسے لوگ واپس جا کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ایک خوشگوار تجربہ اپنی جگہ خود سفارت کاری بھی بن جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے فائدے واضح ہیں۔ مذہبی سیاحت صرف آمدن کا ذریعہ نہیں، یہ عوامی رابطوں کی ایک طاقتور شکل ہے۔ جب بیرون ملک سے آنے والے سکھ زائرین پاکستان سے مثبت یادیں لے کر واپس جاتے ہیں تو اُن کی کہانیاں تعصبات کو کم کرتی ہیں۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے احترام دیکھا، حفاظت دیکھی، اور انسانی برابری کا عمل دیکھا۔ ایسی باتیں سیاسی بیانیوں سے زیادہ دیرپا اثر رکھتی ہیں، کیونکہ یہ ذاتی مشاہدے پر مبنی ہوتی ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں ایسی ہی حقیقت پسندانہ کہانیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

لیکن ایک بات صاف ہے، ایک دو دوروں سے تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ مذہبی ہم آہنگی تب ثابت ہوتی ہے جب اقلیتیں عام دنوں میں بھی خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کریں۔ اسکول میں، دفتر میں، تھانے میں، عدالت میں، اور سوشل میڈیا کے شور میں بھی۔ اگر پاکستان واقعی اپنی رواداری کی بات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تو اسے مستقل مزاجی دکھانی ہو گی، نفرت انگیز رویوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی کرنی ہو گی، اور اقلیتوں کے حقوق کو صرف تقریروں تک محدود نہیں رکھنا ہو گا۔

اس کے باوجود، Ajay Pal Singh Banga کا گوردوارہ سری پنجہ صاحب آنا ایک امید افزا لمحہ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کے پاس اپنی شناخت کو ایک نئے انداز میں پیش کرنے کا موقع موجود ہے، ایک ایسے ملک کے طور پر جو اپنے مذہبی ورثے کی حفاظت بھی کرتا ہے اور مہمانوں کو عزت بھی دیتا ہے۔ اگر اس موقع کو پالیسی، سہولتوں اور مستقل تحفظ میں بدلا گیا تو پاکستان مذہبی سیاحت کو نہ صرف معاشی فائدے میں بدل سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اعتماد اور نیک نامی بھی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو شور کم کرتا ہے اور حقیقت کو نمایاں کرتا ہے، اور آج کے دور میں یہی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔