ضلع بنوں کے علاقے ڈومیل سے سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک بار پھر یہ سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں، اور کس کے نام پر ظلم کو جواز دیا جا رہا ہے۔ ایک کم عمر لڑکی پر بہیمانہ تشدد، پھر اسے کیمرے کے سامنے چہرہ دکھانے پر مجبور کرنا، یہ سب کسی مذہب کی خدمت نہیں، یہ طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی درندگی ہے۔ جو لوگ ایسے عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا انہیں کسی بھی طرح “اپنے” سمجھتے ہیں، انہیں یہ منظر بار بار یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ظلم کسی ایک گھر کی کہانی نہیں رہتا، یہ پورے معاشرے کا زخم بن جاتا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس لڑکی کا “جرم” صرف یہ تھا کہ وہ نوکری کرتی تھی۔ یعنی اپنے گھر کے لیے روزی کمانا، اپنے مستقبل کی فکر کرنا، اپنی محنت سے زندگی بہتر بنانا، یہ سب ان لوگوں کی نظر میں قابل سزا بن گیا۔ یہ سوچ اصل میں عورت سے نہیں ڈرتی، یہ عورت کی خود مختاری سے ڈرتی ہے۔ انہیں عورت کا بااختیار ہونا قبول نہیں، کیونکہ بااختیار عورت سوال کرتی ہے، حق مانگتی ہے، اور ظلم سہنے سے انکار کرتی ہے۔ اسی لیے وہ پہلے خوف پھیلاتے ہیں، پھر پابندیاں لگاتے ہیں، اور آخر میں تشدد کو “غیرت” اور “دین” کے نام پر بیچنے لگتے ہیں۔
یہاں مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں، مسئلہ وہ ذہنیت ہے جو ہر اختلاف کو بغاوت سمجھتی ہے، اور ہر آزادی کو فحاشی کہہ کر کچل دینا چاہتی ہے۔ فتنہ الخوارج کا طریقہ ہمیشہ ایک جیسا رہا ہے۔ پہلے وہ دین کے نام پر لوگوں کے ذہن بند کرتے ہیں، پھر اپنی مرضی کی تشریح مسلط کرتے ہیں، پھر خوف کے ذریعے خاموشی خریدتے ہیں۔ جب لوگ بولنا چھوڑ دیں تو وہ اپنے “نظام” کے نام پر ہر چیز پر قبضہ جمانے لگتے ہیں، بازار سے لے کر مسجد تک، مدرسے سے لے کر گھر کی دہلیز تک۔
اسلام کے نام پر عورت کی تعلیم روکنا، اسے کھیل اور ترقی کے مواقع سے محروم کرنا، اور اس کی محنت کو گناہ بنا دینا، یہ اسلام نہیں، یہ عورت دشمنی ہے۔ اسلام نے عورت کو وراثت کا حق دیا، نکاح میں رضامندی کو شرط بنایا، علم حاصل کرنے کی ترغیب دی، اور ظلم کو حرام قرار دیا۔ پھر کون سا اسلام ہے جو ایک کم عمر لڑکی کو نوکری کرنے پر مارنے پیٹنے کو جائز ٹھہراتا ہے؟ اگر دین کا معیار تشدد ہے، تو پھر رحم، انصاف، حیا، امانت اور سچائی کہاں گئے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہاں دین نہیں، اقتدار مطلوب ہے۔ دین صرف نعرہ ہے، جس کے پیچھے طاقت کی ہوس چھپی ہوئی ہے۔
جو لوگ فتنہ الخوارج کے ہمدرد ہیں، وہ ایک لمحے کے لیے یہ سوچیں کہ اگر یہی سوچ مضبوط ہو گئی تو سب سے پہلے کس کے حصے میں خوف آئے گا۔ جواب بہت سیدھا ہے، گھروں کی عورتیں، بیٹیاں، بہنیں۔ آج ایک لڑکی کو ویڈیو میں ذلیل کیا جا رہا ہے، کل یہ کسی بھی گھر کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ “ہمارے” ہیں اس لیے ہمیں نہیں چھیڑیں گے، وہ خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔ شدت پسندی کا کوئی گھر نہیں ہوتا، وہ صرف اپنا فائدہ دیکھتی ہے۔ آج وہ کسی پر “نوکری” کا الزام لگاتے ہیں، کل وہ “لباس” کا بہانہ بنائیں گے، پرسوں “تعلیم” کو جرم ٹھہرائیں گے، پھر کسی معمولی اختلاف پر “سزا” سنائیں گے۔ یہ سلسلہ رکتا نہیں، جب تک لوگ کھڑے ہو کر انکار نہ کریں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے گروہ صرف عورتوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ یہ پورے علاقے کو یرغمال بناتے ہیں۔ بھتہ، دھمکیاں، جبری فیصلے، لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل، یہ سب ان کے طریقے ہیں۔ وہ عدالت کا مذاق اڑاتے ہیں، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں، اور عام آدمی کو کمزور سمجھ کر کچل دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاروبار بند، تعلیم متاثر، روزگار ختم، اور ہر طرف خوف۔ پھر لوگ ہجرت کرتے ہیں، خاندان ٹوٹتے ہیں، اور علاقے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو چند شدت پسندوں کی خوشنودی کے لیے پوری آبادی چکاتی ہے۔
ایسی ویڈیوز کے بعد ہمارا امتحان شروع ہوتا ہے۔ کیا ہم اسے محض “ایک اور خبر” سمجھ کر آگے بڑھ جائیں گے، یا ہم اسے ایک خطرے کی گھنٹی سمجھیں گے؟ ہمیں واضح لفظوں میں کہنا ہوگا کہ یہ ظلم ہے، اور اس کا کوئی مذہبی جواز نہیں۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ خاموشی بھی ایک طرح کی مدد ہے۔ جو شخص ظلم دیکھ کر چپ رہتا ہے، وہ ظالم کا ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ یہاں معاشرے کے ہر طبقے کی ذمہ داری ہے، علما کی بھی، قبائلی عمائدین کی بھی، اساتذہ کی بھی، صحافیوں کی بھی، اور ریاستی اداروں کی بھی۔ صرف مذمت سے بات نہیں بنے گی، حفاظت، انصاف، اور مجرموں کو سزا بھی ضروری ہے۔
عورتوں کے لیے کام کرنا، پڑھنا، ہنر سیکھنا، اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنا کوئی عیاشی نہیں، یہ ضرورت ہے۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں غربت اور بے روزگاری عام ہو، وہاں لڑکی کی نوکری گھر کے چولہے کی آگ بھی ہے اور بھائی بہنوں کی تعلیم بھی۔ جب آپ اس راستے کو بند کرتے ہیں تو آپ صرف ایک فرد کو نہیں روکتے، آپ ایک خاندان کو توڑ دیتے ہیں۔ اور جب یہ کام تشدد کے ذریعے کیا جائے تو اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں۔ خوف کی پرورش میں پلنے والی نسل کبھی پراعتماد شہری نہیں بن سکتی۔
آج ڈومیل کی اس لڑکی کے ساتھ جو ہوا، وہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہمیں اپنی کمزوری بھی دکھائی دیتی ہے اور ہمارا فرض بھی۔ اگر ہم واقعی اپنی عورتوں کی عزت اور اپنے گھروں کا امن چاہتے ہیں تو ہمیں دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا۔ فتنہ الخوارج کے لیے کوئی جگہ نہیں، نہ ہمدردی، نہ جواز، نہ خاموش حمایت۔ جو لوگ اب بھی تذبذب میں ہیں، وہ اپنی خواتین کا انجام سوچ لیں۔ کیونکہ اگر ظلم کرنے والوں کو روکنے والا کوئی نہ رہا تو کل یہ آندھی ہر دروازے تک پہنچے گی، اور پھر پچھتانے کے لیے بہت کچھ رہ جائے گا، سوائے امن کے۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔