گزشتہ کچھ برسوں میں “لر او بر یو افغان” کا نعرہ خاص طور پر بیرون ملک موجود کچھ سیاسی حلقوں اور پی ٹی ایم سے وابستہ آوازوں کی طرف سے بار بار دہرایا گیا ہے۔ اس نعرے کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ پاکستان میں رہنے والے تمام پشتونوں کے دل کی آواز ہو، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کے پشتون اس بیانیے کو نہ اپنی سیاسی ترجمانی سمجھتے ہیں، نہ اپنی شناخت کا درست اظہار۔ وہ اپنی تاریخ، ثقافت اور لسانی ورثے پر فخر ضرور کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی پاکستانی شہریت، اپنے قومی تشخص اور اپنے آئینی تعلق کو بھی اسی اعتماد سے تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “لر او بر” کا نعرہ پاکستان کے پشتون معاشرے میں ایک فطری جذبے کے طور پر قبول نہیں ہو سکا۔
پاکستانی پشتونوں کی پہچان کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ انہوں نے اس ملک کے ساتھ اپنا تعلق صرف قانونی کاغذوں کی حد تک قائم نہیں کیا بلکہ عملی زندگی میں ہر میدان میں اسے نبھایا ہے۔ خیبر پختونخوا، سابق فاٹا، بلوچستان کے پشتون علاقے، کراچی، اسلام آباد، لاہور اور ملک کے دیگر شہروں میں بسنے والے پشتون اپنی روزمرہ زندگی، سیاست، تجارت، تعلیم، فوجی خدمت اور سرکاری اداروں میں فعال کردار کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے برابر کے شہری ہیں۔ ان کے لیے پشتون ہونا اور پاکستانی ہونا ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں۔ یہی نکتہ ان تمام نعروں کو کمزور کر دیتا ہے جو ان کی شناخت کو سرحد پار قومیت کے ساتھ باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ پاکستان کے بیشتر پشتونوں کو “افغان” کہہ کر پکارا جانا پسند نہیں۔ اس کی وجہ کسی دشمنی یا تعصب میں نہیں بلکہ شناخت کے واضح شعور میں ہے۔ افغانستان ایک الگ ریاست ہے، اس کے شہری افغان ہیں، جبکہ پاکستان میں رہنے والے پشتون خود کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ اگر کسی پشتون کو محض اس کی زبان یا نسل کی بنیاد پر افغان کہا جائے تو وہ اسے اپنی قومی شناخت کی نفی سمجھتا ہے۔ یہ احساس عام آدمی سے لے کر تعلیم یافتہ طبقے تک پایا جاتا ہے۔ پشتون اپنی تہذیب، روایات، غیرت، مہمان نوازی اور تاریخی ورثے پر جتنا فخر کرتے ہیں، اتنا ہی وہ اس بات پر بھی اصرار رکھتے ہیں کہ ان کی سیاسی وفاداری اور قومی وابستگی پاکستان کے ساتھ ہے۔
پی ٹی ایم سے وابستہ کچھ حلقے اکثر یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ پورے پشتون معاشرے کے واحد ترجمان ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع کے عوام کی بڑی تعداد اس دعوے کو قبول نہیں کرتی۔ کسی بھی قوم یا لسانی گروہ کی نمائندگی ایک محدود سیاسی حلقہ اپنے زور بیان سے حاصل نہیں کر سکتا۔ نمائندگی کا حقیقی معیار عوامی قبولیت، انتخابی طاقت، سماجی اثر اور اجتماعی اعتماد ہوتا ہے۔ اگر کسی بیانیے کو بار بار بیرون ملک کانفرنسوں، سوشل میڈیا مہمات اور جذباتی نعروں کے ذریعے زندہ رکھنے کی ضرورت پیش آئے تو یہ خود اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے مقامی سطح پر مضبوط عوامی بنیاد موجود نہیں۔ پاکستان کے پشتونوں کی اکثریت انتشار، علیحدگی پسند سوچ اور سرحد پار قوم پرستانہ تصورات سے دور رہنا چاہتی ہے۔
اس بیانیے کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ یہ پشتون معاشرے کی اصل ترجیحات سے کٹا ہوا ہے۔ پاکستان کے پشتون آج تعلیم، روزگار، امن، ترقی، انفرا اسٹرکچر، کاروبار، سیاسی استحکام اور اپنے علاقوں میں بہتر حکمرانی چاہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے لیے بہتر اسکول اور یونیورسٹیاں چاہتے ہیں۔ وہ سڑکیں، اسپتال، روزگار کے مواقع اور محفوظ ماحول چاہتے ہیں۔ ان کی عملی سیاست انہی مسائل کے گرد گھومتی ہے۔ “لر او بر” جیسے نعرے ان زمینی ضرورتوں کا کوئی جواب نہیں دیتے۔ اس کے برعکس یہ ایک ایسا جذباتی اور تقسیم پیدا کرنے والا تصور پیش کرتے ہیں جو عام پشتون کی زندگی کو بہتر بنانے کے بجائے اسے ایک بے نتیجہ سیاسی کشمکش میں دھکیلتا ہے۔
یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ پاکستانی پشتون ریاستی ڈھانچے کا محض حصہ نہیں بلکہ ایک مضبوط ستون ہیں۔ پاکستان کی فوج میں پشتونوں کی نمایاں موجودگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بے شمار پشتون افسران اور جوانوں نے ملک کے دفاع کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ سیاست میں ان کا کردار نمایاں ہے۔ پارلیمان، صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، عدلیہ، بیوروکریسی، تعلیم، صحافت، کھیل اور کاروبار میں پشتونوں نے اپنی محنت سے مقام بنایا ہے۔ اگر کوئی قوم واقعی کسی ریاست سے کٹی ہوئی ہو تو وہ اس کے اداروں میں اس درجہ جذب اور فعال نہیں ہوتی۔ یہی شمولیت اس الزام کو رد کرتی ہے کہ پاکستانی پشتون کسی الگ قومی ایجنڈے کے منتظر بیٹھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی تعمیر میں شریک ہیں اور اسی میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں۔
بعض بیرونی حلقے اور سوشل میڈیا پر سرگرم گروہ اس نعرے کو پشتون یکجہتی کے نام پر بیچنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اصل میں یہ ایک سیاسی آلہ ہے جسے پاکستان کے اندر حقیقی عوامی قوت نہیں مل سکی۔ بیرون ملک بیٹھ کر بلند آہنگ نعروں کے ذریعے ایک مصنوعی تاثر بنایا جا سکتا ہے، لیکن زمین پر رہنے والے لوگوں کے جذبات، ترجیحات اور وابستگیاں مختلف ہوتی ہیں۔ پاکستانی پشتونوں نے دہشت گردی، بدامنی اور بے یقینی کے دور دیکھے ہیں۔ انہوں نے امن کی قیمت بھی ادا کی ہے۔ اس لیے وہ ایسے نعروں سے محتاط ہیں جو ایک بار پھر انہیں شناختی تنازع، جغرافیائی کشمکش اور سیاسی انتشار کی طرف لے جائیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہو گا کہ “لر او بر” کا بیانیہ پاکستانی پشتونوں کے دل کی آواز نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی نعرہ ہے جسے پاکستان سے باہر کے حلقوں نے زیادہ ہوا دی ہے۔ پاکستان کے پشتون اپنے نسلی اور ثقافتی وقار کے ساتھ ساتھ اپنی پاکستانی شناخت پر بھی فخر کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو کسی سرحد پار سیاسی تصور کے تابع نہیں دیکھتے۔ پی ٹی ایم یا اس جیسے حلقے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پورے پشتون معاشرے کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ زمینی سچ یہ ہے کہ پاکستانی پشتون تقسیم کے نہیں، شمولیت کے قائل ہیں۔ وہ نعرے نہیں، استحکام چاہتے ہیں۔ وہ سرحد پار قوم پرستی نہیں، پاکستان کے اندر عزت، ترقی اور باوقار شرکت چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “لر او بر” کا بیانیہ ان کے نزدیک ایک بیرونی سیاسی نعرہ ہے، نہ کہ ان کی اجتماعی خواہش۔
Author
-
View all posts
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔