وفاقی دارالحکومت کی شہری نظم و نسق سے متعلق اداروں میں شفافیت، دیانت اور جواب دہی صرف انتظامی نعرے نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیادی شرط ہیں۔ اسی تناظر میں اگر سی ڈی اے کے اندر جاری احتسابی عمل کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ادارہ کم از کم اس سطح پر ایک سنجیدہ پیغام دے رہا ہے کہ بدعنوانی، اختیار کے غلط استعمال اور انتظامی بے ضابطگیوں کو محض اس لیے نظر انداز نہیں کیا جائے گا کہ وہ ماضی میں ہوئی تھیں یا ان میں ملوث افراد کسی بااثر عہدے پر فائز رہے ہوں۔ ریاستی اداروں کی ساکھ اسی وقت بنتی ہے جب وہ وقت، تعلق اور منصب سے بالاتر ہو کر اپنے اندر موجود خرابیوں کا جائزہ لینے کی ہمت رکھتے ہوں۔ پرانی بے ضابطگیوں کی چھان بین انتقامی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ذمہ دار حکمرانی کی علامت ہوتی ہے، کیونکہ جو ادارہ اپنے ماضی کا حساب نہیں لے سکتا وہ اپنے حال کو بھی درست نہیں کر سکتا۔
چیئرمین سی ڈی اے کے حالیہ اقدامات کو اسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی انتظامی سربراہ کی پالیسی یہ ہو کہ عوامی عہدہ ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا، شہری وسائل کو مخصوص گروہوں کی خواہشات کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا، اور فیصلے دستاویزی اصولوں کے مطابق ہوں گے، تو یہ کسی ایک فرد کی تشہیر نہیں بلکہ ادارہ جاتی سمت کا اظہار ہوتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت جیسے حساس اور نمایاں شہر میں زمین، ترقیاتی منصوبوں، تجاوزات، ٹینڈرنگ، ہاؤسنگ، ماحولیات اور شہری سہولیات کے معاملات ہمیشہ مفادات کے دباؤ میں رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر قیادت شفاف شہری نظم و نسق کی بات کرے اور اسے عمل سے ثابت کرنے کی کوشش کرے تو لازماً اس کے سامنے مزاحمت بھی آئے گی۔ اس مزاحمت کو بعض اوقات انتظامی ناکامی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ کئی بار یہی مزاحمت اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اصلاحات کسی نہ کسی گہرے مفاد کو متاثر کر رہی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں جب کبھی کسی بڑے ادارے کے اندر احتساب یا اصلاح کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے شور اٹھتا ہے۔ کچھ حلقے فوری طور پر اسے سیاسی رنگ دیتے ہیں، کچھ اسے ذاتی لڑائی قرار دیتے ہیں، اور کچھ ایسی فضا بناتے ہیں جس میں اصل سوال، یعنی ریکارڈ کیا کہتا ہے، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی بحث کا معیار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ رائے دینے کا حق ہر شہری، ہر صحافی اور ہر مبصر کو حاصل ہے، مگر اس حق کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہے، اور وہ ہے تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر بات کرنا۔ صحافت کا اصل کام شہریوں کو باخبر کرنا ہے، ان کے ذہنوں میں قیاس آرائی، ابہام اور غیر مصدقہ تاثر بھرنا نہیں۔ اگر کوئی دعویٰ کیا جائے تو اس کے ساتھ ریکارڈ، دستاویز، حکم نامہ، نوٹیفکیشن، آڈٹ یا متعلقہ سرکاری مواد بھی پیش ہونا چاہیے۔ محض اندازے، سنی سنائی باتیں یا شخصی تاثر نہ تو صحافتی معیار پر پورا اترتے ہیں اور نہ ہی عوامی مفاد کی خدمت کرتے ہیں۔
اسی لیے حالیہ بحثوں میں یہ اصول سامنے رہنا چاہیے کہ کسی بھی صحافی یا تبصرہ نگار، خواہ وہ کتنا ہی معروف کیوں نہ ہو، کی رائے کو حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کسی نے سی ڈی اے یا اس کی قیادت پر سوالات اٹھائے ہیں تو ان سوالات کی جانچ شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اگر ثبوت موجود ہیں تو انہیں سامنے آنا چاہیے، اور اگر ثبوت نہیں ہیں تو محض بلند آہنگ تبصرہ ادارہ جاتی اصلاحات کے راستے میں دھند پیدا کرتا ہے۔ جمہوری معاشرے میں تنقید کا احترام ضروری ہے، مگر ذاتی نوعیت کے حملے، نیت خوانی، یا بغیر ریکارڈ کے الزامات کسی ادارے کو بہتر نہیں بناتے۔ اس طرز کی گفتگو اکثر اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتی ہے، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو افسر یا پالیسی واقعی جانچ کی مستحق ہو، وہ بھی شور کے ہجوم میں کہیں کھو جاتی ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احتساب اور اصلاحات ایک دن میں نتیجہ نہیں دیتیں۔ خاص طور پر ایسے اداروں میں جہاں برسوں سے مخصوص روایات، غیر رسمی اثرورسوخ اور مفاداتی گروہ موجود ہوں، وہاں تبدیلی مرحلہ وار آتی ہے۔ پہلے مزاحمت ہوتی ہے، پھر شکوک پیدا کیے جاتے ہیں، پھر اصلاحی عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور آخر میں اسی عمل کو ناکام قرار دینے کی جلد بازی دکھائی جاتی ہے۔ یہ روش نہ منصفانہ ہے اور نہ دانشمندانہ۔ کسی بھی اصلاحی اقدام کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ دیکھا جائے آیا فیصلہ سازی کے طریقہ کار میں بہتری آئی یا نہیں، قواعد کی پاسداری بڑھی یا نہیں، بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی یا نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی یا نہیں، اور عوامی خدمت کے معیار میں تبدیلی کے آثار سامنے آئے یا نہیں۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن پر کسی انتظامی قیادت کو پرکھا جانا چاہیے۔
سی ڈی اے جیسے ادارے میں اصلاحات صرف اندرونی معاملہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ شہری زندگی کے ہر حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بہتر شہری نظم و نسق کا مطلب ہے زیادہ شفاف ترقیاتی منصوبے، زیادہ منصفانہ زمین و ہاؤسنگ فیصلے، کم بدعنوانی، بہتر ٹریفک و انفرااسٹرکچر، اور عوام کے لیے زیادہ قابل اعتماد خدمات۔ اسی لیے اس عمل کو اجتماعی حمایت، متوازن تجزیے اور ذمہ دار ابلاغ کی ضرورت ہے۔ اگر ہر قدم کو محض سیاسی عینک سے دیکھا جائے، یا ہر احتسابی کارروائی کو ذاتی جنگ بنا دیا جائے، تو حقیقی پیش رفت تاثر کی جنگ میں دب جاتی ہے۔ قوموں کے ادارے شور سے نہیں، اصول سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سی ڈی اے میں جاری احتسابی عمل کو نہ اندھی حمایت ملے اور نہ اندھی مخالفت، بلکہ اسے حقائق، سرکاری ریکارڈ، قانونی تقاضوں اور شفاف طریقہ کار کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ بے بنیاد الزامات سے نہ اصلاح رکنی چاہیے اور نہ عوامی اعتماد مجروح ہونا چاہیے۔ ذمہ دار تنقید اور ثابت شدہ احتساب ہی وہ راستہ ہے جو اداروں کو کمزور نہیں، مضبوط بناتا ہے۔
Author
-
View all posts
محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔