Nigah

افغانستان، ایک ایسا بحران جو سرحدوں میں قید نہیں رہتا

[post-views]

دنیا میں کچھ خطے ایسے ہوتے ہیں جنہیں لوگ دور کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ افغانستان بھی برسوں تک اسی غلط فہمی کا شکار رہا۔ بہت سے ملکوں نے اسے صرف ایک غریب، زخمی اور جنگ زدہ معاشرہ سمجھا، جیسے اس کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف اسی کے لوگوں کی قسمت کا حصہ ہو۔ مگر تاریخ بار بار یہ ثابت کر چکی ہے کہ افغانستان صرف افغانستان نہیں رہتا۔ وہاں پیدا ہونے والی بے چینی، شدت پسندی، ریاستی کمزوری، غربت، منشیات، مہاجرین اور سرحدی کشیدگی آخرکار پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جو لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بحران قابو میں ہے، وہ اصل خطرے کو دیکھ ہی نہیں رہے۔

سب سے پہلے ایک بات صاف ہونی چاہیے۔ خطرہ افغان عوام نہیں ہیں۔ خطرہ وہ نظام ہے جو بندوق، جبر، نظریاتی تنگ نظری اور عالمی تنہائی کے سہارے کھڑا ہے۔ عام افغان تو خود اس تباہی کے سب سے بڑے متاثرہ ہیں۔ ان کے بچوں کے مستقبل پر تالے لگے ہوئے ہیں، ان کی معیشت کمزور ہے، ان کی عورتیں گھروں میں قید ہیں، اور ان کی زمین ایک ایسی سیاست کے رحم و کرم پر ہے جو اپنے ہی لوگوں کو اعتماد، تعلیم اور آزادی دینے کے لیے تیار نہیں۔ جب ایک ریاست اپنے شہریوں کے لیے امید پیدا نہیں کرتی تو وہ اپنے اندر مایوسی، غصہ اور تشدد کے بیج بوتی ہے۔ ایسے بیج ایک دن صرف اندر نہیں رہتے، باہر بھی پھوٹتے ہیں۔

دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر خطرے کو اس وقت تک خطرہ نہیں مانتی جب تک وہ کسی بڑے دھماکے، کسی خونریز حملے یا کسی سفارتی بحران کی شکل میں سامنے نہ آ جائے۔ مگر اصل خطرات اس طرح نہیں بنتے۔ وہ آہستہ آہستہ جمع ہوتے ہیں۔ پہلے ریاست کمزور ہوتی ہے، پھر ادارے کھوکھلے ہوتے ہیں، پھر شدت پسندوں کو جگہ ملتی ہے، پھر غیر قانونی تجارت جڑ پکڑتی ہے، پھر پڑوسی ملک اپنے مفاد کے لیے مداخلت کرتے ہیں، اور پھر ایک دن سب کچھ ایک بڑی آگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ افغانستان آج اسی مرحلے میں ہے۔ خطرہ اس لیے نہیں کہ کل کچھ ہو گا، خطرہ اس لیے ہے کہ بہت کچھ پہلے ہی بن چکا ہے۔

اس سارے منظر میں پاکستان کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ برسوں تک اسلام آباد کے کچھ طاقتور حلقوں نے افغانستان کو ایک ایسے پڑوسی کے طور پر دیکھا جسے اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے سنبھالا جا سکتا ہے، موڑا جا سکتا ہے، یا کم از کم قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے اس پورے خطے کو نقصان پہنچایا۔ افغانستان کو ایک زندہ معاشرے کے بجائے ایک مہرے کی طرح دیکھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ آگ کو اپنے ہی صحن کے قریب پالا گیا۔ اب وہی آگ سرحد پار سے لوٹ کر پاکستان کو بھی جلا رہی ہے۔ جب شدت پسند گروہ ایک ملک میں محفوظ سانس لیتے ہیں تو وہ دوسرے ملک میں خون بہانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ ایسے عناصر کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے، خود فریبی ہے۔

اسی لیے یہ کہنا کہ افغانستان ایک ڈبہ ہے اور پاکستان اس کا ڈھکن، ایک سخت مگر معنی خیز بات ہے۔ ڈھکن مسئلہ حل نہیں کرتا، صرف دباؤ کو وقتی طور پر چھپاتا ہے۔ اگر اندر کی گرمی بڑھتی رہے تو ایک وقت آتا ہے جب ڈھکن خود خطرے کا حصہ بن جاتا ہے۔ پاکستان نے طویل عرصے تک یہ گمان رکھا کہ وہ افغانستان کے بحران کو اپنی مرضی کے دائرے میں رکھ سکے گا، مگر اب صورت حال مختلف ہے۔ سرحدی کشیدگی، شدت پسند حملے، باہمی بداعتمادی، مہاجرین کا دباؤ اور سفارتی تلخی یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ مسئلہ قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ جو چیز کبھی تزویراتی گہرائی کہلاتی تھی، آج وہ تزویراتی بوجھ بن چکی ہے۔

افغانستان کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے صرف انسانی ہمدردی کا مسئلہ سمجھنا غلط ہو گا، اور وہ ہے سماجی ٹوٹ پھوٹ۔ جب ایک پورا معاشرہ اس نہج پر پہنچ جائے کہ لڑکیوں کی تعلیم بند ہو، خواتین کو کام سے روکا جائے، اختلاف رائے دبایا جائے، صحافت محدود ہو، اور نوجوانوں کے پاس نہ روزگار ہو نہ سمت، تو یہ صرف اخلاقی ناکامی نہیں رہتی، یہ سلامتی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ جو ریاست اپنے آدھے معاشرے کو خاموش کر دے، وہ خود اپنی بنیادیں کمزور کرتی ہے۔ جو نسلیں تعلیم سے محروم ہوں گی، وہ کل ترقی نہیں بلکہ محرومی کا ورثہ آگے لے جائیں گی۔ یہ محرومی پھر کبھی مذہبی انتہا پسندی میں ڈھلتی ہے، کبھی جرائم میں، کبھی ہجرت میں، اور کبھی خاموش نفسیاتی شکست میں۔

افغانستان کی معیشت بھی اس بحران کا ایک خطرناک پہلو ہے۔ کمزور معیشت ہمیشہ صرف غربت پیدا نہیں کرتی، وہ غیر قانونی راستوں کو بھی طاقت دیتی ہے۔ جب ریاست قانونی روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ دینے میں ناکام ہو تو منشیات، اسمگلنگ اور غیر رسمی طاقت کے مراکز مضبوط ہوتے ہیں۔ افغانستان کا مسئلہ یہی ہے کہ اس کی کمزوری کو شدت پسند نیٹ ورک بھی استعمال کرتے ہیں اور جرائم پیشہ ڈھانچے بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطرہ صرف بندوق اٹھانے والوں سے نہیں، بلکہ ان مالی راستوں سے بھی ہے جو بندوق، نفرت اور بدامنی کو زندہ رکھتے ہیں۔

پھر مہاجرین کا سوال ہے۔ جب لاکھوں لوگ دباؤ، خوف یا معاشی مجبوری میں سرحدیں پار کرتے ہیں تو یہ صرف انسانی نقل مکانی نہیں ہوتی، یہ ریاستی ناکامی کا اعلان بھی ہوتی ہے۔ پاکستان اور ایران جیسے پڑوسی ممالک پہلے ہی اس دباؤ سے متاثر ہیں۔ اگر افغانستان کے اندر استحکام پیدا نہ ہوا تو یہ بوجھ مزید بڑھے گا۔ مہاجرین خود خطرہ نہیں ہوتے، مگر مسلسل غیر یقینی، جبری واپسی، معاشی تنگی اور سیاسی کشیدگی پورے خطے کو بے سکون بنا دیتی ہے۔ جہاں ریاستیں کمزور ہوں اور سرحدیں بے چین، وہاں انسانی بحران جلد ہی سیاسی اور سلامتی کے بحران میں بدل جاتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ افغانستان آج دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا وہ تمام نشانیاں دیکھ رہی ہے جو ایک بڑے خطرے کے جنم لینے سے پہلے ظاہر ہوتی ہیں۔ جواب ہاں میں ہے۔ شدت پسندوں کے لیے جگہ موجود ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ تناؤ بڑھ رہا ہے۔ سماج اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ معیشت کمزور ہے۔ غیر قانونی معیشت زندہ ہے۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے راستے بند ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا پھر سے اسی پرانی غلطی کے قریب پہنچ رہی ہے، یعنی یہ سمجھنا کہ افغانستان کو کچھ وقت کے لیے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

نظر انداز کرنا کبھی پالیسی نہیں ہوتا۔ یہ صرف تاخیر ہوتی ہے، اور تاخیر اکثر قیمت بڑھا دیتی ہے۔ افغانستان ایک ایسا زخم ہے جسے اگر محض دور کا دکھ سمجھ کر چھوڑ دیا جائے تو وہ ناسور بن جاتا ہے۔ آج بھی وقت ہے کہ دنیا اسے صرف امداد، صرف ہمدردی، یا صرف جغرافیہ کے مسئلے کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ ایک ایسے خطرے کے طور پر سمجھے جو آہستہ آہستہ سرحدوں سے بڑا ہو رہا ہے۔ جب ڈبہ کھلتا ہے تو کیڑے صرف ایک طرف نہیں نکلتے۔ پھر بدبو بھی پھیلتی ہے، بیماری بھی، اور نقصان بھی۔

Author

  • ڈاکٹر محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔