پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی پر سنجیدہ گفتگو اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک تکفیری فکر کو اس کے اصل تناظر میں نہ سمجھا جائے۔ میری رائے میں تکفیری نظریہ محض ایک فقہی غلطی نہیں بلکہ ایک خطرناک ذہنی انحراف ہے جس نے دین کی زبان کو نفرت کے ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ اس فکر کی بنیاد یہ ہے کہ کوئی گروہ یا فرد خود کو حق کا واحد نمائندہ سمجھے اور پھر اپنے سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کے ایمان پر فیصلہ صادر کرنا شروع کر دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علمی اختلاف فساد میں، اور مذہبی جوش خونریزی میں بدل جاتا ہے۔ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں، جہاں مختلف مسالک، تعبیرات اور مذہبی روایتیں ایک ساتھ موجود ہیں، یہ سوچ صرف فرقہ وارانہ کشیدگی ہی نہیں بڑھاتی بلکہ ریاست، معاشرے اور مذہبی اداروں کی بنیادوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن مجید نے واضح ہدایت دی ہے کہ کسی کے بارے میں جلد بازی، بدگمانی اور ایمان کے دعوے کو رد کرنے سے بچا جائے۔ سورۃ النساء 4:94 میں ارشاد ہے کہ جب تم اللہ کی راہ میں نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ یہ آیت صرف جنگی حالات کے ایک واقعے سے متعلق نہیں بلکہ ایک وسیع اخلاقی اصول دیتی ہے کہ مسلمان کے ایمان کے بارے میں فیصلہ معمولی بات نہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان دونوں میں سے ایک پر یہ بات لوٹتی ہے۔ صحیح بخاری 6106 اور صحیح مسلم 44 کی یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ تکفیر کھیل نہیں، بلکہ ایسا معاملہ ہے جس میں زبان کی لغزش بھی روحانی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ جب دین خود اس قدر احتیاط سکھاتا ہے تو پھر تکفیری گروہوں کی سخت گیری، تکبر اور فیصلہ کن لہجہ اسلامی مزاج سے ہم آہنگ کیسے ہو سکتا ہے۔
کلاسیکی اسلامی علمی روایت بھی اسی احتیاط کی تائید کرتی ہے۔ بڑے فقہا اور محدثین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ کسی مسلمان پر کفر کا حکم لگانے سے پہلے واضح دلیل، مکمل تحقیق، سیاق کی درست سمجھ اور شدید احتیاط ضروری ہے۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ ایک غلط تکفیر صرف ایک فرد کی توہین نہیں کرتی، بلکہ خاندان، برادری، مسجد، مدرسہ اور پورے سماجی ڈھانچے میں زہر گھول دیتی ہے۔ جب ایک نوجوان بار بار یہ سنتا ہے کہ فلاں عالم گمراہ ہے، فلاں گروہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، فلاں ریاستی ادارہ طاغوت ہے، تو آہستہ آہستہ اس کی ذہنی دنیا میں تشدد جائز دکھائی دینے لگتا ہے۔ یوں تکفیر ایک نظری بحث نہیں رہتی بلکہ تشدد کی نفسیاتی تیاری بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی علما نے اختلاف اور کفر میں فرق رکھا، خطا اور ارتداد میں حد فاصل قائم کی، اور امت کے اتحاد کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھا۔
پاکستان میں یہی تکفیری منطق کئی شدت پسند تنظیموں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کی۔ پہلے وہ مذہبی اختلاف کو اخلاقی برتری میں بدلتے ہیں، پھر اس برتری کو ایمان و کفر کے پیمانے میں ڈھالتے ہیں، اور آخر میں اپنے مخالفین کے خلاف تشدد کو دینی خدمت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ عمل صرف مسلکی تنازعات تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے ذریعے مذہبی علما کو بدنام کیا جاتا ہے، روایتی دینی اداروں کی ساکھ کو مشکوک بنایا جاتا ہے، اور ریاستی قانون و نظم کو غیر اسلامی قرار دے کر حملوں کے لیے ذہنی جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی سوچ خاص طور پر ان نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے جو دینی جذبات تو رکھتے ہیں مگر مستند علم، تنقیدی فہم اور فکری رہنمائی سے محروم ہوتے ہیں۔ انہیں سادہ، جذباتی اور جنگی بیانیہ جلد متاثر کرتا ہے، کیونکہ اس میں دنیا کو سیاہ اور سفید خانوں میں بانٹ کر ایک آسان دشمن فراہم کر دیا جاتا ہے۔
آج اس مسئلے کی ایک نئی شکل ڈیجیٹل دنیا میں سامنے آ رہی ہے۔ پہلے شدت پسند بیانیہ محدود حلقوں، پمفلٹوں یا خفیہ اجتماعات تک رہتا تھا، اب وہ مختصر ویڈیوز، کلپس، آڈیو بیانات، میسجنگ گروپس اور نام نہاد دینی صفحات کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جھوٹ پھیلتا ہے، اصل خطرہ یہ ہے کہ جھوٹ کو مذہبی سچائی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ نوجوان صارف جب بار بار ایسے مواد سے گزرتا ہے جس میں فرقہ وارانہ نفرت، جذباتی قرآنی حوالوں کا غلط استعمال، اور منتخب احادیث کی بے سیاق تشریح ہو، تو اس کے لیے اعتدال کمزور اور انتہا مضبوط دکھائی دینے لگتی ہے۔ اسی لیے تکفیری فکر کے خلاف معرکہ اب صرف منبر یا مدرسے میں نہیں، موبائل اسکرین پر بھی لڑا جا رہا ہے۔ اگر وہاں اہل علم، ذمہ دار ادارے اور بااعتماد مذہبی آوازیں موجود نہ ہوں تو خلا کو شدت پسند عناصر بھر دیتے ہیں۔
میری نظر میں اس خطرے کا جواب محض سکیورٹی کارروائی نہیں ہو سکتا، اگرچہ وہ بھی ضروری ہے۔ اصل لڑائی فکری، اخلاقی اور سماجی سطح پر جیتنی ہو گی۔ سب سے پہلے عوام کو یہ سمجھانا ہو گا کہ اسلام کا اصل پیغام رحمت، عدل، تحقیق اور احتیاط ہے، نہ کہ جلد بازی، تحقیر اور خونریزی۔ پاکستانی علما کا کردار یہاں بنیادی ہے۔ انہیں صرف رد عمل نہیں دینا، بلکہ پیشگی رہنمائی کرنی ہے۔ مساجد، مدارس، جامعات اور میڈیا میں اس موضوع پر ایسی گفتگو ہونی چاہیے جو نوجوان ذہن کو سوال پوچھنے، دلیل سننے اور اختلاف کو برداشت کرنے کی تربیت دے۔ جب مستند علما واضح انداز میں یہ بتائیں گے کہ تکفیر کا بے جا استعمال قرآن و سنت اور علمی روایت، دونوں کے خلاف ہے، تبھی شدت پسند بیانیہ کمزور ہو گا۔
ریاستی سطح پر بھی مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ نفرت انگیز مواد کی نگرانی، غیر مجاز خطابت پر قابو، انتہا پسند نیٹ ورکس کے خلاف موثر قانون نافذ کرنا، اور تعلیمی نصاب میں اعتدال، تنوع اور سماجی ہم آہنگی کے مضامین کو جگہ دینا ناگزیر ہے۔ لیکن یہ سب اقدامات اسی وقت دیرپا نتیجہ دیں گے جب ریاست مذہبی طبقے اور مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ محض طاقت سے خاموشی پیدا ہو سکتی ہے، قناعت نہیں۔ اور جب تک ذہن مطمئن نہ ہو، انتہا پسند بیانیہ کسی نہ کسی صورت دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ تکفیری فکر اسلام کی خدمت نہیں کرتی، اسلام کے نام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ امت کو جوڑنے کے بجائے توڑتی ہے، اختلاف کو علمی دائرے میں رکھنے کے بجائے قتل و غارت تک لے جاتی ہے، اور نوجوانوں کو اخلاقی ذمہ داری کے بجائے جذباتی دشمنی سکھاتی ہے۔ پاکستان کو اگر پائیدار امن، مذہبی ہم آہنگی اور سماجی استحکام چاہیے تو اسے قرآن کے اسی اصول کی طرف لوٹنا ہو گا جو تحقیق، انصاف اور احتیاط سکھاتا ہے، اور نبی کریم ﷺ کی اسی تعلیم کو زندہ کرنا ہو گا جو زبان اور فیصلے دونوں میں خوف خدا پیدا کرتی ہے۔ میرا یقین ہے کہ جب معاشرہ حقیقی دینی علم، اعتدال، رحم اور وحدت کو اپنا مرکز بنائے گا، تب تکفیری انتہاپسندی کی زمین خود بخود تنگ پڑ جائے گی۔
Author
-
View all posts
ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔