Nigah

افغان عالم کے پاکستان مخالف جھوٹے فتوے کا رد

[post-views]

کسی بھی فتویٰ کی اصل طاقت اس کے شور میں نہیں، اس کی دیانت میں ہوتی ہے۔ جب دین کے نام پر ایسا حکم دیا جائے جو خون بہانے والوں کو راستہ دے اور ریاست، معاشرے اور عام مسلمانوں کو باہم ٹکرا دے، تو پھر خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ ایک افغان مولوی کی جانب سے پاک فوج کے خلاف نام نہاد "جہاد” کا فتویٰ اسی نوعیت کی گمراہی ہے۔ یہ محض ایک رائے نہیں، بلکہ قرآن کے واضح اصولوں کو سیاق سے کاٹ کر ایک سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ قرآن کہتا ہے: “وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا”۔ یعنی قتال کی اجازت بھی حد، عدل اور دفاع کے اصول کے اندر ہے، نہ کہ اندھی خونریزی کے لیے۔ اسی طرح سورۃ الحجرات میں حکم ہے کہ اگر اہل ایمان کے دو گروہ لڑ پڑیں تو پہلے صلح کراؤ، اور زیادتی کرنے والے کو روکو۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام فساد کو ہوا نہیں دیتا، اسے روکتا ہے۔

یہاں اصل سوال یہ ہے کہ میدان میں کون ہے اور کس کے خلاف لڑائی ہو رہی ہے۔ اگر ایک طرف وہ عناصر ہوں جو مسجد، اسکول، چیک پوسٹ، بازار اور عام لوگوں کو نشانہ بناتے رہے ہوں، اور دوسری طرف ریاستی ادارے ہوں جو ان حملہ آوروں کو روک رہے ہوں، تو دونوں کو ایک ہی ترازو میں رکھنا علمی بددیانتی ہے۔ TTP کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس نے نہ صرف سیکورٹی اہلکاروں کو بلکہ شہریوں کو بھی نشانہ بنایا، اور 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 132 بچوں کی جانیں گئیں۔ حالیہ برسوں میں بھی ایسے حملوں میں بچے، عورتیں اور نمازی متاثر ہوئے ہیں۔ جو گروہ کمزور ترین لوگوں کو نشانہ بنائے، اسے "مجاہد” کہنا دین کی خدمت نہیں، دین کی توہین ہے۔

اس فتویٰ کا دوسرا فریب یہ ہے کہ کسی غیر متعلق "امیر” کی اطاعت کو پاکستانی مسلمانوں پر لازم قرار دیا جائے، گویا سرحدیں، ذمہ داریاں، معاہدات اور ریاستی نظم سب بے معنی ہیں۔ اسلام میں اطاعت کا باب اندھا نہیں، اصولی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ مخلوق کی اطاعت وہاں نہیں ہوگی جہاں خالق کی نافرمانی ہو۔ ایک اور صحیح روایت میں حکمران کی اطاعت کا اصول بھی یہی رکھا گیا کہ اطاعت معروف میں ہے، معصیت میں نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسے حکم کو ماننا لازم نہیں جو ظلم، فساد اور ناجائز خونریزی پر کھڑا ہو۔ لہٰذا اگر کوئی شخص یا گروہ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکساتا ہے، تو وہ اطاعت نہیں مانگ رہا، وہ فتنہ مانگ رہا ہے۔

حدیث کا غلط استعمال اس فتویٰ کی تیسری خرابی ہے۔ "جماعت توڑنے والے” کے بارے میں وارد نصوص کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جیسے ریاست کے محافظ ہی اصل باغی ہوں۔ یہ الٹی منطق ہے۔ پاکستان میں نظام کو توڑنے، آئینی بندوبست کو چیلنج کرنے، اسلحے کے زور پر اپنی تعبیر نافذ کرنے اور معاشرے کو خوف میں مبتلا کرنے والی قوت TTP ہے، نہ کہ وہ ادارے جو اس کے حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔ جب ایک گروہ خود کو شریعت کا واحد ترجمان سمجھ کر بندوق کے زور پر پورا سماج یرغمال بنانا چاہے، تو وہ جماعت نہیں بناتا، وہ جماعت توڑتا ہے۔ اس لیے مذہبی متون کا اطلاق وہاں ہوگا جہاں فساد، بغاوت اور دہشت ہو، نہ کہ وہاں جہاں ان کا سدباب کیا جا رہا ہو۔

اس نام نہاد فتویٰ میں پاکستان دشمنی کو اسلام کے پردے میں چھپانے کی کوشش بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ کہنا کہ پاکستان نے افغانوں کے ساتھ صرف ظلم کیا، تاریخ کے بڑے حصے کو جان بوجھ کر چھپانا ہے۔ UNHCR کے مطابق پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی، اور حالیہ برسوں تک بھی بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین اور دیگر قانونی حیثیت رکھنے والے افغان یہاں موجود رہے۔ اختلافات، پالیسی کی غلطیاں اور سختیاں اپنی جگہ، مگر پورے اجتماعی تجربے کو محض "ظلم” کہنا انصاف نہیں۔ جو ملک لاکھوں انسانوں کو دہائیوں تک جگہ دے، اس کے بارے میں فیصلہ بھی سچ کے ساتھ ہونا چاہیے، غصے کے ساتھ نہیں۔

سب سے خطرناک پہلو تکفیر کا ہے۔ پاک فوج کو "کفار سے بدتر” کہنا صرف اخلاقی پستی نہیں، شرعی بے احتیاطی بھی ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات میں آیا ہے کہ جو اپنے بھائی کو کافر کہے، یہ کلمہ انہی میں سے ایک پر لوٹتا ہے۔ اس لیے اہل سنت کے ہاں تکفیر ہمیشہ انتہائی نازک اور محدود باب رہا ہے، کوئی سیاسی نعرہ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مذہبی زبان کو بے لگام تکفیر کے لیے استعمال کیا گیا، نتیجہ خون، نفرت اور خانہ جنگی کی صورت میں نکلا۔ یہی وجہ ہے کہ خوارج کا ذکر آج بھی محض ایک تاریخی قصہ نہیں، ایک زندہ تنبیہ ہے۔ وہ قرآن پڑھتے تھے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا تھا۔ جب آیات کو سیاق سے الگ کر کے مسلمانوں ہی کے خلاف ہتھیار بنایا جائے، تو یہی خوارجی ذہنیت سامنے آتی ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف مذہبی مؤقف کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی ایجاد نہیں۔ 2018 میں پاکستانی علماء کے ایک بڑے اجتماعی فتویٰ نے خودکش حملوں اور دہشت گردی کو حرام قرار دیا اور یہ واضح کیا کہ مسلح جہاد کا اعلان کسی فرد یا گروہ کا نہیں، ریاست کا دائرہ ہے۔ اس اجتماعی مؤقف کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ جذباتی نعروں کے مقابلے میں ایک منظم، علمی اور ذمہ دار آواز تھی۔ یعنی دین کے نام پر بندوق اٹھانے والوں کے سامنے دین ہی کی زبان میں جواب رکھا گیا۔ جو شخص آج بھی دہشت گردی کو جہاد کا نام دیتا ہے، وہ صرف ریاستی قانون سے نہیں ٹکراتا، وہ اس علمی اتفاق سے بھی ٹکراتا ہے جو برسوں کی آگ کے بعد وجود میں آیا۔

اسلامی جنگ کے آداب بھی اس پورے معاملے میں فیصلہ کن ہیں۔ فقہ اور سیرت کی روایت نے ہمیشہ غیر جنگجو لوگوں کے تحفظ پر زور دیا۔ عورت، بچہ، بوڑھا، عبادت گزار اور عام شہری جنگ کا ہدف نہیں۔ قرآن بھی جان کے احترام کو مرکز میں رکھتا ہے، اور سورۃ المائدہ میں ایک جان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس TTP جیسے گروہ خوف کو ہتھیار بناتے ہیں۔ وہ وہاں وار کرتے ہیں جہاں معاشرہ سب سے زیادہ نرم اور بے دفاع ہو۔ ایسے گروہ کی حمایت یا اس کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنا دراصل اسلام کے اخلاقی ڈھانچے پر حملہ ہے۔

آخر میں بات بہت صاف ہے۔ یہ فتویٰ شرعی کم، سیاسی زیادہ ہے۔ اس میں نصوص کا انتخاب بھی یک طرفہ ہے، مخاطب بھی یک طرفہ ہے، اور نتیجہ بھی پہلے سے طے شدہ ہے۔ دین کا کام آگ لگانا نہیں، آگ بجھانا ہے۔ قرآن کا راستہ عدل، نظم، صلح اور حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ جو فتویٰ فساد کو ہوا دے، تکفیر کو زبان دے، اور دہشت گردی کے لیے اخلاقی نرم گوشہ پیدا کرے، وہ دین کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ایسے فتوے کا رد صرف پاکستانی ریاست کا نہیں، ہر سنجیدہ مسلمان کا فرض ہے، کیونکہ جب جھوٹا مذہبی جواز قتل کے بازار میں اتارا جاتا ہے تو سب سے پہلے دین ہی زخمی ہوتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر مزمل خان

    مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔